بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1448ھ 28 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر سودی بینک سے نفع لینے کا حکم


سوال

کوئی بندہ اسلامی بینک میں کچھ رقم جمع کرواتا ہے، بینک اس رقم کے بدلے میں ماہانہ منافع دیتے ہیں، وہ نفع فکس نہیں ہوتا تو کیا یہ جائز ہے؟ پاکستان میں اسلامی بینک کون کون سے ہیں؟ میزان بینک اسلامی بینک ہے؟ بینک والوں کا کہنا ہے ہم آپ کی رقم سے کاروبار کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں جو نفع آتا ہے اس سے اتنا فیصد نفع آپ کو دیں گے۔ اب یہ نفع شرعاً جائز ہے کہ نہیں ہے؟

جواب

اگر کوئی سودی یا غیر سودی بینک رقم لے کر  اس سے حقیقی کاروبار نہیں کرتا، بلکہ محض رقم کے بدلے نفع دیتا ہے  تو   یہ سود  ہونے کی وجہ سے شرعًا حرام ہے۔

مروجہ غیر سودی بینک اگرچہ رقم لے کر کاروبار کا کہتے ہیں، لیکن ہمارے علم کے مطابق اب تک ان کے کاروباری معاملات کی تطبیق مکمل طور  پر فقہی اصولوں کے موافق نہیں  ہے؛ اس لیے ان سے کسی کاروباری معاملہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803102118

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں