
کوئی بندہ اسلامی بینک میں کچھ رقم جمع کرواتا ہے، بینک اس رقم کے بدلے میں ماہانہ منافع دیتے ہیں، وہ نفع فکس نہیں ہوتا تو کیا یہ جائز ہے؟ پاکستان میں اسلامی بینک کون کون سے ہیں؟ میزان بینک اسلامی بینک ہے؟ بینک والوں کا کہنا ہے ہم آپ کی رقم سے کاروبار کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں جو نفع آتا ہے اس سے اتنا فیصد نفع آپ کو دیں گے۔ اب یہ نفع شرعاً جائز ہے کہ نہیں ہے؟
اگر کوئی سودی یا غیر سودی بینک رقم لے کر اس سے حقیقی کاروبار نہیں کرتا، بلکہ محض رقم کے بدلے نفع دیتا ہے تو یہ سود ہونے کی وجہ سے شرعًا حرام ہے۔
مروجہ غیر سودی بینک اگرچہ رقم لے کر کاروبار کا کہتے ہیں، لیکن ہمارے علم کے مطابق اب تک ان کے کاروباری معاملات کی تطبیق مکمل طور پر فقہی اصولوں کے موافق نہیں ہے؛ اس لیے ان سے کسی کاروباری معاملہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803102118
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن