بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1448ھ 27 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک متعین کام کے لیے جمع کیا گیا چندہ دوسرے کام میں خرچ کرنے اور بچ جانے والی رقم کا حکم


سوال

ہماری مسجد اور اس سے متصل مدرسہ دونوں کے الگ الگ ذمہ دار اور الگ الگ رسیدیں ہیں۔ اسی سلسلے میں تین باتیں پوچھنی ہیں:

1۔مسجد کی چھت کی مرمت کے نام پر جو چندہ جمع کیا گیا تھا، کیا وہ مدرسے کی ضرورت میں لگایا جا سکتا ہے، جب کہ مدرسے کی حاجت زیادہ شدید ہے؟

2۔مسجد کے چندے سے خریدے ہوئے پنکھے، جنریٹر اور بجلی کا سامان کیا مدرسے میں استعمال کیا جا سکتا ہے؟

3۔مرمت مکمل ہونے کے بعد جو رقم بچ گئی ہے، اس کا کیا کیا جائے؟

جواب

چندہ دینے والا جس کام کے لیے چندہ دیتا ہے، وہ رقم اسی کام کے لیے متعین ہو جاتی ہے، اور اس کی اجازت کے بغیر اسے کسی دوسرے مصرف میں لگانا جائز نہیں؛ یہی حکم اس رقم سے خریدے ہوئے سامان کا بھی ہے۔

1۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مسجد کی مرمت کے نام پر جمع کیا گیا چندہ مدرسے میں لگانا جائز نہیں، اگرچہ مدرسے کی حاجت زیادہ ہو، اس لیے کہ مسجد اور مدرسہ دو الگ جہتیں ہیں اور ایک جہت کا وقف دوسری جہت میں صرف نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں اگر چندہ دہندگان سے اجازت لے لی جائے تو ان کی رضامندی سے مدرسے میں لگانا درست ہو جائے گا۔

2۔مسجد کے چندے سے خریدا ہوا سامان، پنکھے، جنریٹر ، بجلی کا سامان  بھی مسجد ہی کے لیے خاص ہے، اسے مدرسے میں استعمال کرنا جائز نہیں۔

3۔مرمت مکمل ہونے کے بعد جو رقم بچ جائے، اسے مسجد ہی کی دیگر ضروریات میں خرچ کیا جائے، اس لیے کہ مسجد کی متعدد مدات ہونے کے باوجود سب کی جہت ایک ہی ہے۔ اور اگر اسے مدرسے یا کسی اور مصرف میں لگانا ہو تو چندہ دہندگان سے اجازت لینا ضروری ہے؛ جن سے رابطہ ممکن نہ ہو، ان کی رقم کے بقدر مسجد ہی میں خرچ کی جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قولهم: شرط الواقف كنص الشارع، أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."

(کتاب الوقف، ج:4، ص:433، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه)؛ لأنهما حينئذ كشيء واحد، (وإن اختلف أحدهما) بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك... لكن نقل في البحر بعد هذا عن الولوالجية: مسجد له أوقاف مختلفة لا بأس للقيم أن يخلط غلتها كلها، وإن خرب حانوت منها فلا بأس بعمارته من غلة حانوت آخر؛ لأن الكل للمسجد ولو كان مختلفا؛ لأن المعنى يجمعهما... [تنبيه] قال الخير الرملي: أقول: ومن اختلاف الجهة ما إذا كان الوقف منزلين أحدهما للسكنى والآخر للاستغلال فلا يصرف أحدهما للآخر، وهي واقعة الفتوى."

(کتاب الوقف، قبل مطلب في وقف المنقول تبعا للعقار، ج:4، ص:360، ط: سعید)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

”مسجد اور مدرسہ دونوں کے لیے مشترکہ چندہ کرنا درست ہے، اور جب یہ اعلان کر دیا کہ دونوں کی تعمیر ہوگی اور دونوں کے لیے لوگ چندہ دے رہے ہیں تو پھر کیا تردد ہے۔ علیحدہ علیحدہ کرنا چاہے تو اس کی بھی اجازت ہے، پھر جو چندہ جس کے لیے وصول کیا ہے اس کو اسی میں صرف کرنا چاہیے، ایک کا چندہ دوسرے مصرف میں صرف نہ کرے۔“

(کتاب الوقف، الفصل السابع عشر في التبرعات بطریق الاکتتاب، ج:15، ص:150، ط: ادارۃ الفاروق)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

”صورتِ مسئولہ میں اگر چندہ دہندگان کی اجازت اور رضامندی صراحۃً یا دلالۃً ہو تو... درست ہے، ورنہ مہتمم اور اہلِ شوریٰ اپنے پاس سے خرچ کریں۔“

(کتاب الوقف، احکام المساجد و المدارس، ج:9، ص:96، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803102113

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں