امانت کے ضیاع پر ضمان کاحکم
سوال
میرے پڑوسی بیرونِ ملک جاتے وقت اپنی سلائی مشین میرے گھر رکھ گئے تھے کہ واپسی تک سنبھال کر رکھوں۔ کچھ دن بعد میری بیوی نے وہ مشین اپنے کام میں چلانی شروع کر دی، اور ایک بار محلے کی ایک عورت مانگ کر لے گئی تو ہم نے دو ہفتے کے لیے اسے دے بھی دی۔ پھر مجھے چند ماہ کے لیے باہر جانا پڑا تو میں نے مشین اپنی بہن کے گھر رکھوا دی، کیوں کہ میرا گھر خالی رہتا۔
واپس آ کر میں نے مشین بہن کے گھر سے لے آ کر اپنے کمرے میں پہلے کی طرح رکھ دی، اور اس کے بعد نہ خود چلائی نہ کسی کو دی۔ مشین بالکل ٹھیک حالت میں تھی، چلنے سے اس میں کوئی خرابی نہیں آئی تھی۔ اس کے دو مہینے بعد رات کو گھر میں آگ لگ گئی اور مشین سمیت بہت سا سامان جل گیا۔ آگ کیسے لگی، اس کا مجھے کچھ پتا نہیں چل سکا، اور نہ میری طرف سے کوئی غفلت تھی۔
اب پڑوسی واپس آئے ہیں اور مشین کی قیمت مانگ رہے ہیں۔ میں شرمندہ ہوں کہ ان سے پوچھے بغیر مشین چلائی اور دوسروں کو دی۔ اب مجھ پر قیمت دینا لازم ہے یا نہیں، اور اس گناہ کا تدارک کیا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ امانت کا تقاضا محض حفاظت ہے، اس سے نفع اٹھانا نہیں؛ چنانچہ امین کے لیے مالک کی اجازت کے بغیر امانت کی چیز خود برتنا، کسی کو عاریتاً دینا، کرائے پر چلانا، رہن رکھنا، یا کسی تیسرے کے پاس بطورِ امانت رکھوا دینا — کچھ بھی جائز نہیں، اور ان میں سے جو صورت بھی اختیار کرے گا وہ ضامن ہو جائے گا۔ البتہ ضمان لازم ہو جانے کے بعد اگر وہ اپنی زیادتی ختم کر کے امانت دوبارہ اپنی حفاظت میں لے آئے تو ضمان ساقط ہو جاتا ہے، بشرطیکہ اس استعمال سے چیز میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی ہو؛ کمی واقع ہو گئی ہو تو اُسی مقدار کا تاوان باقی رہے گا۔ اور جس امانت میں کوئی زیادتی نہ کی گئی ہو، وہ امین کے پاس اس کے فعل اور کوتاہی کے بغیر ضائع ہو جائے تو اس کا تاوان اس پر نہیں آتا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا مالک کی اجازت کے بغیر مشین اپنے کام میں لانا، پھر کسی اور کو استعمال کے لیے دینا، اور پھر اسے اپنی بہن کے گھر رکھوا دینا — تینوں باتیں ناجائز اور مالک کی حق تلفی تھیں، اور ان تینوں میں سے ہر ایک سے سائل ضامن بن چکا تھا۔ لیکن چوں کہ سائل نے مشین واپس لا کر اپنی حفاظت میں رکھ دی اور استعمال سے اس میں کوئی کمی یا خرابی بھی نہیں آئی تھی، اس لیے وہ ضمان ساقط ہو گیا اور مشین دوبارہ خالص امانت بن گئی۔ اس کے بعد آگ لگنے سے جو نقصان ہوا، اس میں سائل کی نہ زیادتی ہے نہ کوتاہی، لہٰذا مشین کی قیمت سائل پر لازم نہیں، پڑوسی کا قیمت کا مطالبہ درست نہیں۔
البتہ بلا اجازت استعمال کرنے اور دوسروں کو دینے کا گناہ اپنی جگہ باقی ہے، اس لیے سائل پر لازم ہے کہ مالک کو پوری بات بتا کر اس حق تلفی پر اس سے معافی مانگے، اور مالک کو چاہیے کہ معاف کر دے۔ اور اگر استعمال کی وجہ سے مشین میں کوئی کمی آ گئی تھی تو اتنی مقدار کا تاوان سائل پر لازم رہے گا۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر. متفق عليه.(إذا اؤتمن) بالبناء للمفعول، أي: وضع عنده أمانة (خان) أي: بالتصرف غير الشرعي."
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الإيمان، باب الكبائر، ج:1، ص:128، ط: دار الفكر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها: أنه إذا ضاعت في يد المودع بغير صنعه لا يضمن، لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: ليس على المستعير غير المغل الضمان، ولا على المستودع غير المغل الضمان؛ ولأن يده يد المالك، فالهلاك في يده كالهلاك في يد المالك."
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الوديعة، فصل في بيان حال الوديعة، ج:8، ص:363، ط: دار الكتب العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودَع، وصيرورة المال أمانة في يده، ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني. الوديعة لا تودَع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق."
(الفتاوى الهندية، كتاب الوديعة، الباب الأول، ج:4، ص:338، ط: دار الفكر)
وفيه أيضاً:
"وإذا تعدى المودَع في الوديعة، بأن كانت دابة فركبها، أو ثوبا فلبسه، أو عبدا فاستخدمه، أو أودعها عند غيره، ثم أزال التعدي فردها إلى يده، زال الضمان؛ وهذا إذا كان الركوب والاستخدام واللبس لم ينقصها، أما إذا نقصها ضمن، كذا في الجوهرة النيرة."
(الفتاوى الهندية، كتاب الوديعة، الباب الرابع، ج:4، ص:347، ط: دار الفكر)
شرح المجلۃ للاتاسی میں ہے:
"الوديعة أمانة في يد الوديع، فإذا هلكت بلا تعد من المستودع وبدون صنعه وتقصيره في الحفظ لا يلزم الضمان."
(شرح المجلة للأتاسي، الكتاب السادس في الأمانات، الباب الثاني في الوديعة، الفصل الثاني في أحكام الوديعة وضمانها، المادة: 777، ج:3، ص:242، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

