دلال کس فریق سے کمیشن وصول کر سکتا ہے، اور کمیشن کے متعین ہونے اور بار بار وصول کرنے کا حکم
سوال
میں جائیداد کی خرید و فروخت کے کام سے وابستہ ہوں، اس سلسلے میں تین باتیں پوچھنی ہیں:
1۔بعض اوقات مالک مجھے کہہ دیتا ہے کہ آپ ہی میری طرف سے سودا کر دیں، اور میں خود ہی خریدار کے ساتھ معاملہ طے کر لیتا ہوں؛ ایسی صورت میں کیا میں دونوں فریقوں سے کمیشن لے سکتا ہوں؟ اور بعض اوقات میں صرف دونوں کو ملا دیتا ہوں اور سودا وہ خود آپس میں کرتے ہیں۔
2۔کبھی یوں طے ہوتا ہے کہ فلاں رقم تک کی قیمت مالک کی، اس سے اوپر جو بھی ملے وہ میرا؛ کیا یہ درست ہے؟
3۔ایک بار سودا کرا دینے کے بعد اگر فریقین کا معاملہ برسوں چلتا رہے تو کیا میں ہر ماہ کمیشن کا مطالبہ کر سکتا ہوں؟
جواب
1۔صورتِ مسئولہ میں سائل اگر دونوں پارٹیوں کا بروکر ہو تو اس کے لیے سودا ہوجانے کے بعد دونوں پارٹیوں سے حسبِ معاہدہ کمیشن / بروکری لینا جائز ہوگا۔ البتہ اگر صرف خریدار یا فروخت کنندہ کا بروکر ہو تو اس صورت میں دونوں پارٹیوں سے بروکری لینا جائز نہیں ہوگا۔
2۔ بروکری کے جائز ہونے کے لیے اس کا ابتدا ہی سے متعین یا معروف ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے، اور مجہول بروکری لینا جائز نہیں ہوتا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بیان کردہ طریقے کے مطابق بروکری (جسے عرف میں ’’ٹاپ مارنا‘‘ کہا جاتا ہے) لینے کی شرعاً اجازت نہیں ہوگی۔ پس بروکر نے جس قیمت پر سودا کرایا ہو، اگرچہ وہ فروخت کنندہ کی متعین کردہ قیمت سے زائد ہو، وہ تمام رقم فروخت کنندہ کے سپرد کرنا لازم ہوگا، اور عرف کے مطابق وہ بروکری کا حقدار ہوگا۔
3۔بروکر اسی وقت کمیشن کا حقدار ہوتا ہے جب وہ سودا کرانے کا عمل انجام دے، لہٰذا ایک مرتبہ معاملہ کرا دینے کے بعد اس کے تسلسل پر ہر ماہ کمیشن کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہوگا، ہاں مستقبل میں جب دوبارہ کوئی نیا معاملہ کرائے گا، اس وقت طے شدہ بروکری لینے کا وہ حقدار ہو گا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع، وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف، وتمامه في شرح الوهبانية. (قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة، شرح الوهبانية، وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف، جامع الفصولين."
(کتاب البیوع، ج: 4، ص: 560، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.
(قوله: كون الأجرة والمنفعة معلومتين) أما الأول فكقوله: بكذا دراهم أو دنانير وينصرف إلى غالب نقد البلد ... فلو كانت كيليا أو وزنيا أو عدديا متقاربا فالشرط بيان القدر والصفة."
(کتاب الإجارة، ج:6، ص:5، ط: سعید)
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:
"(سئل) في دلال سعى بين البائع والمشتري وباع المالك المبيع بنفسه والعرف أن الدلالة على البائع، فهل تكون على البائع؟ (الجواب): نعم. وفي فوائد صاحب المحيط: الدلال إذا باع العين بنفسه ثم أراد أن يأخذ من المشتري الدلالة ليس له ذلك؛ لأنه هو العاقد حقيقة، وتجب على البائع الدلالة؛ لأنه فعل بأمر البائع، هكذا أجاب. ثم قال: ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يضاف إلى العرف، إن كانت الدلالة على البائع فعليه، وإن كانت على المشتري فعليه، وإن كانت عليهما فعليهما."
(کتاب البیوع، ج: 1، ص: 247، ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

