بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ربیع الثانی 1448ھ 04 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیبٹ کارڈ کے استعمال اور اس پر ملنے والے سہولیات و مراعات حاصل کرنے کا حکم


سوال

میرا ذاتی کاروبار ہے، کپڑے کا، ہر 3 ماہ بعد سفر کرتا ہوں اور میرا میزان بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ ہے، جس سے کسی قسم کا منافع نہیں لیتا ہوں۔ مجھے بینک کی طرف سے Visa ڈیبٹ کارڈ دیا گیا ہے، جسے ہم سفر کے دوران فلائٹ اسٹے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس میں کھانا، کمرہ اور آرام جیسی سہولیات دی جاتی ہیں۔ ایئرپورٹ لاؤنج میں استعمال کیا جاتا ہے۔

 براہِ کرم ارشاد فرما دیں کہ یہ کارڈ استعمال کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ سودی معاملات کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ڈیبٹ کارڈ کا استعمال اور اس کے ذریعے خرید و فروخت شرعاً درست اور جائز ہے، کیونکہ اس کارڈ کے ذریعے آدمی اتنے ہی پیسوں کی خریداری کر سکتا ہے جتنی رقم اس کے اکاؤنٹ میں موجود ہے، یعنی اس میں قرض والا معاملہ شروع سے ہوتا ہی نہیں ہے، اس لیے سود لینے دینے یا سودی معاہدہ کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی، لہٰذا اس کا استعمال جائز ہے۔ 

البتہ ویزا (Visa) ڈیبٹ کارڈ کے استعمال پر سفر کے دوران ایئرپورٹ لاؤنج کی جو سہولیات (مثلاً کھانا، پینا،  قیام، اور وائی فائی وغیرہ) حاصل ہوتی ہیں، تو اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ان سہولیات کا عوض بنک اپنے فنڈ سے ادا کرتی ہے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ یہ سہولیات و مراعات بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کی بنیاد پر دی جاتی ہیں، جو کہ شرعاً قرض ہے،اور جو فائدہ قرض کی بنیاد پر حاصل ہوتا ہے وہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔ یا بنک اپنی آمدنی سے دیتا ہے، اور بینک کی آمدنی حرام ہے، اس لیے بینک سے کسی قسم کا مالی فائدہ اٹھانا حرام پیسوں سے فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے، لہذا یہ سہولیات حاصل کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

اور اگر ہوٹل والے اپنی طرف سے یہ رعایت دیتے ہیں اور اس کی رقم بینک والے سے نہیں لیتے، تو یہ جائز ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه".

(‌‌فصل في القرض، ج: 5، ص: 166، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

وفیہ ایضاً: 
"وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 385، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

وفیہ ایضاً: 

"(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية لو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ ‌لأن ‌الكل ‌واجب ‌التصدق ‌عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه. اهـ".

(‌‌باب زكاة الغنم، ج: 2، ص: 291، ط:ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

وفیہ ایضاً: 
"إنما يكفر إذا تصدق بالحرام القطعي،

قوله: إذا تصدق بالحرام القطعي) أي مع رجاء الثواب الناشئ عن استحلاله كما مر فافهم."

(كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ج: 2، ص: 292، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

بدائع الصنائع میں ہے:  

"وتجوز الوكالة بقضاء الدين؛ لأنه يملك القضاء بنفسه وقد لا يتهيأ له القضاء بنفسه فيحتاج إلى التفويض إلى غيره سواء كان الموكل حرا أو عبدا مأذونا أو مكاتبا؛ لأنهما يملكان القضاء بأنفسهما فيملكان التفويض إلى غيرهما أيضا."

 (كتاب الوكالة، فصل في شرائط الوكالة، ج: 6، ص: 23، ط: دار الكتب العلمية )

  تجارت کے مسائل کا انسائکلوپیڈیا میں ہے: 

"ڈیبٹ کارڈ اپنے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے لئے خود کار مشینوں (ATM) پر استعمال کیا جاتا ہے، اس کے ذریعے براہ راست رقم اپنے اکاؤنٹ سے منہا ہو جاتی ہے یا اسی طرح کے دوسرے کارڈ جیسے چارج کارڈ، کارپوریٹ کار، فلیٹ کارڈ، یا کسی بھی کمپنی کا شاپنگ کارڈ وغیرہ جن میں محض مقررہ مدت میں واجب الاداء رقم ہی ادا کرنا ہوتی ہے اور کوئی مزید سود ادا کرنا نہیں پڑتا ...اس کارڈ کے حامل کا پہلے سے اکاؤنٹ اس ادارے یا بینک میں موجود ہوتاہے، جس ادارے یا بینک کا اس نے کارڈ حاصل کیا ہے اور کارڈ لے جانے والا اس کارڈ کو جب بھی استعمال کرتا ہے ادارہ یا بینک اس کے اکاؤنٹ میں موجود رقم سے اس کی ادائیگی کر دیتا ہے، اس میں کارڈ لے جانے والے کو ادھار کی سہولت حاصل نہیں ہوتی ہے، بلکہ وہ صرف اس وقت تک کارڈ کو استعمال کر سکتا ہے جب تک اس کے اکاؤنٹ میں رقم موجود ہے۔ ادارہ یا بینک اس کارڈ کو جاری کرنے کی فیس وصول کرتا ہے۔ اس کارڈ کو استعمال کرنا جائز ہے، اور اس کے ذریعے خرید و فروخت کرنا درست ہے، کیوں کہ اس میں قرض اور سود کی صورت نہیں ہے ، البتہ کارڈ لے کر جانے والے کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ کارڈ کو شریعت کے خلاف کسی نا جائز اور گناہ کے کام میں استعمال نہ کرے ورنہ گناہ گار ہوگا ۔"

(ڈ، ڈیبٹ کارڈ (Debit Card)، ج: 3، ص: 403-405، ط: بیت العمار کراچی)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144803101986

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں