یوگا ورزش کرنے اور ہندو مذہبی منتر پڑھنے کا شرعی حکم
?سوال
ایک ورزش ہے جسے یوگا (Yoga) کہا جاتا ہے۔ اس ورزش میں مختلف قسم کے مدرے (Mudras) بنائے جاتے ہیں، جو بیٹھنے اور ہاتھوں کی انگلیوں کو مخصوص طریقے سے رکھنے کی ایک شکل ہے۔ اس کے لیے ہندوؤں کی طرح مخصوص انداز میں بیٹھنا پڑتا ہے اور انگلیوں کو آپس میں جوڑ کر مخصوص طریقے سے رکھ کر خاموشی سے مختلف منتر وغیرہ پڑھے جاتے ہیں۔
نیز ان منتر وغیرہ کے بارے میں ان کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے بھگوانوں کے طرزِ عمل پر مبنی ہیں اور ان کے بھگوان بھی اسی طرح کرتے تھے۔ اسی طرح یوگا میں بعض اوقات جس انداز سے بیٹھا جاتا ہے، وہ بھی ان کی عبادت کے طریقے سے مشابہ ہوتا ہے، یعنی جس طرح وہ اپنے بتوں کے سامنے عبادت کے لیے بیٹھتے ہیں، اسی طرح بیٹھ کر یہ منتر وغیرہ پڑھے جاتے ہیں۔
لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ
1.کیا مسلمانوں کے لیے یوگا ورزش کرنا شرعاً ممنوع ہے یا مسلمان بھی یوگا ورزش کرسکتے ہیں؟
2.اگر یوگا کی بعض حرکات یا بیٹھنے کے طریقے محض جسمانی ورزش کے طور پر کیے جائیں تو ان کا کیا حکم ہے؟
3.نیز اگر اس ورزش کے دوران ہندوؤں کے مذہبی منتر زبان سے ادا کیے جائیں تو مسلمانوں کے لیے ان کا کہنا کیسا ہے؟
✓جواب
(1,2)اگر یوگا ورزش کے کسی طریقے کا تعلق ہندو مذہب کے مذہبی شعائر، عبادت یا مذہبی رسومات سے ہو، یا اس میں ان کی عبادت کے طریقے کی ایسی مشابہت پائی جاتی ہو جو ان کے مذہبی شعار کے طور پر معروف ہو، تو مسلمان کے لیے ایسے طریقے پر عمل کرنا شرعاً جائز نہیں؛ کیونکہ غیر مسلموں کے مذہبی شعائر اور عبادات کی مشابہت اختیار کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے۔ البتہ یوگا کی کوئی حرکت، نشست یا جسمانی پوزیشن اگر محض ورزش کے طور پر کی جائے اور اس کا تعلق ہندو مذہب کی عبادت، مذہبی شعار یا مذہبی رسم سے نہ ہو، تو اس کے کرنے میں شرعاً گنجائش ہے۔ تاہم ورزش کرتے وقت اسلامی احکام کی پابندی ضروری ہے؛ مثلاً لباس شرعی طور پر ساتر ہو، نامحرم مرد و عورت کا اختلاط نہ ہو، جسم کے ستر کا حصے ظاہر نہ ہوں اور اس ورزش کی وجہ سے نماز یا دیگر فرائض و واجبات میں کوتاہی لازم نہ آئے۔ اسی طرح اگر کوئی مخصوص نشست یا حرکت اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے ہندوؤں کی مذہبی عبادت کا شعار اور ان کے ساتھ خاص ہو تو محض ورزش کی نیت ہونے کے باوجود اس سے اجتناب کیا جائے گا۔
(3)اگر یوگا کے دوران پڑھے جانے والے منتر ہندو مذہب کے مذہبی کلمات، دعائیہ جملے یا ان کے معبودوں سے متعلق مذہبی اذکار ہوں، تو مسلمان کے لیے انہیں زبان سے ادا کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ ان کلمات کا پڑھنا غیر اسلامی مذہبی شعار کی ادائیگی اور ان کے مذہبی طریقے میں شرکت کے مشابہ ہے۔ محض یہ نیت کرلینا کہ ان کلمات کو عبادت کے طور پر نہیں بلکہ ورزش کے دوران پڑھا جا رہا ہے، اس حکم کو تبدیل نہیں کرتا۔ لہذا یوگا ورزش کرتے وقت ایسے مذہبی منتر پڑھنے سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح میں ہے:
"(وعنه) : أي عن ابن عمر (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب. قلت: بل الشعار هو المراد بالتشبه لا غير، فإن الخلق الصوري لا يتصور فيه التشبه، والخلق المعنوي لا يقال فيه التشبه، بل هو التخلق."
(كتاب اللباس، رقم الحديث:4348، ج:7، ص:2782، ط:دارالفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"وكراهة التشبه بأهل البدع مقررة عندنا أيضا لكن لا مطلقا بل في المذموم وفيما قصد به التشبه بهم.
(مسائل شتى، ج:6، ص:753، ط:سعيد)
تكملة فتح الملهم میں ہے:"فالضابط في هذا ... أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش ولا المعاد حرام أو مكروه تحريماً، ... وما كان فيه غرض ومصلحة دينية أو دنيوية فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة ... كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس فهو بالنظر الفقهي على نوعين: الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، ومفاسده أغلب على منافعه، وأنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده وعن الصلاة والمساجد، التحق ذلك بالمنهي عنه؛ لاشتراك العلة، فكان حراماً أو مكروهاً. والثاني: ماليس كذلك، فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التهلي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه ... وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل على معصية أخرى، وما لم يؤد الإنهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه".
(تكملة فتح الملهم، قبیل کتاب الرؤیا،ج:4، ص:435،ط: مكتبة دارالعلوم کراچی)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

