بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر، دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم

سوال

ہماری والدہ کا دو سال پہلے انتقال ہوا ہے، زندہ ورثاء میں شوہر، دو بیٹے اور دو بیٹیاں موجود ہیں، والدہ کے والدین کا پہلے انتقال ہوچکا ہے۔ والدہ کو نانا جان کی طرف سے ساڑھے سولہ بیگا زمین ملی ہے جو کہ پنجاب میں ہے۔ مذکورہ ورثاء میں والدہ کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ کتنا بنتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں!

جواب

سائل کے والدہ مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ترکہ میں سے  مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی اگرمرحومہ کے ذمے کوئی قرض ہو تو  کل ترکہ سے اس کو  ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومہ نے کوئی جائز  وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے   ایک تہائی حصہ میں اسے  نافذ کرنے کے بعد،بقیہ کل ترکہ (منقولہ اور غیر منقولہ  )کو 24 حصوں میں تقسیم کرکے  6 حصے مرحومہ کے شوہر  کو ،6 حصے  مرحومہ کے ہر ایک بیٹے  کو اور 3حصے مرحومہ کی ہر ایک    بیٹی کو ملیں گے ۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت(والدہ مرحومہ): 4 / 24 

شوہر بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
1 3
6 6 6 3 3

یعنی فیصد کے اعتبار سے25 فیصد  مرحومہ کے شوہر کو ،25 فیصد  مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو  اور 12.5 فیصد  مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101942
تاریخ29-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں