شوہر، دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم
سوال
ہماری والدہ کا دو سال پہلے انتقال ہوا ہے، زندہ ورثاء میں شوہر، دو بیٹے اور دو بیٹیاں موجود ہیں، والدہ کے والدین کا پہلے انتقال ہوچکا ہے۔ والدہ کو نانا جان کی طرف سے ساڑھے سولہ بیگا زمین ملی ہے جو کہ پنجاب میں ہے۔ مذکورہ ورثاء میں والدہ کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ کتنا بنتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں!
جواب
سائل کے والدہ مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ترکہ میں سے مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی اگرمرحومہ کے ذمے کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کو ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی حصہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد،بقیہ کل ترکہ (منقولہ اور غیر منقولہ )کو 24 حصوں میں تقسیم کرکے 6 حصے مرحومہ کے شوہر کو ،6 حصے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو اور 3حصے مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے ۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت(والدہ مرحومہ): 4 / 24
| شوہر | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 3 | |||
| 6 | 6 | 6 | 3 | 3 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے25 فیصد مرحومہ کے شوہر کو ،25 فیصد مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو اور 12.5 فیصد مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

