بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1448ھ 25 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرمتِ رضاعت کی مدت، مقدار، اس سے حرام ہونے والے رشتے، اور رضاعت کے ثبوت کی شرط


سوال

ہمارے خاندان میں ایک رشتے کی بات چل رہی ہے، اور اسی سلسلے میں چند باتیں پوچھنی ہیں:

1۔لڑکے کی والدہ کہتی ہیں کہ انہوں نے لڑکی کو بچپن میں ایک آدھ بار دودھ پلایا تھا، مگر تھوڑا سا ہی پیا تھا۔ کیا اتنے سے بھی رشتہ حرام ہو جاتا ہے، اور دودھ پلانے کی عمر کی کوئی حد ہے؟

2۔اگر رضاعت ثابت ہو جائے تو صرف دودھ پلانے والی اور بچے کا رشتہ حرام ہوتا ہے، یا اس کے آگے بھی رشتے حرام ہو جاتے ہیں؟

3۔اس بات کا کوئی گواہ نہیں، صرف لڑکے کی والدہ کہہ رہی ہیں، اور لڑکی کے گھر والے کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ کیا صرف ان کے کہنے سے یہ رشتہ رک جائے گا؟

جواب

دودھ پینے سے رشتہ حرام ہونے کے لیے دو چیزیں دیکھی جاتی ہیں: دودھ پینے کا وقت، اور دودھ کا پیٹ میں پہنچنا۔ اور رضاعت کے ”ثابت ہونے“ کا مسئلہ ان دونوں سے الگ ہے۔

1۔حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے اعتبار سے مدتِ رضاعت ڈھائی سال ہے، یعنی بچے کی عمر ڈھائی سال مکمل ہونے سے پہلے پہلے اگر اس نے کسی عورت کا دودھ پی لیا تو حرمت ثابت ہو جائے گی، اور اس عمر کے بعد پینے سے حرمت ثابت نہ ہو گی۔ اس مدت میں دودھ کی مقدار کم ہو یا زیادہ، دونوں کا حکم ایک ہے، حتیٰ کہ ایک قطرہ بھی اگر منہ یا ناک کے راستے پیٹ میں پہنچ گیا تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔ البتہ اگر بچے نے صرف پستان منہ میں لیا اور دودھ پیٹ میں جانے کا یقین نہ ہو تو حرمت ثابت نہ ہو گی، کیوں کہ ایسی صورت میں مانع ہی میں شک ہے۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ دودھ پلانے کی جو مدت جائز ہے وہ دو سال ہے، اور سخت ضرورت میں ڈھائی سال تک گنجائش ہے؛ اس کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں۔

2۔رضاعت ثابت ہو جانے کے بعد حرمت صرف دودھ پلانے والی اور دودھ پینے والے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دودھ پلانے والی اس بچے کی رضاعی ماں بن جاتی ہے، اس کا شوہر رضاعی باپ، ان کی اولاد رضاعی بہن بھائی، اور اسی اعتبار سے آگے کے رشتے بھی نسب کے رشتوں کی طرح حرام ہو جاتے ہیں۔ چناں چہ اگر مذکورہ رضاعت ثابت ہو جائے تو لڑکا اور لڑکی رضاعی بہن بھائی ہوں گے اور ان کا نکاح جائز نہ ہو گا۔

3۔رضاعت دو ہی طریقوں سے ثابت ہوتی ہے: فریقین کے اقرار سے، یا شرعی گواہی سے؛ اور شرعی گواہی سے مراد دو عادل مردوں، یا ایک عادل مرد اور دو عادل عورتوں کی شہادت ہے۔ محض ایک مرد، یا صرف دو عورتوں، یا کسی ایک عورت کا کہہ دینا رضاعت کے ثبوت کے لیے کافی نہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ صرف لڑکے کی والدہ کا بیان ہے اور شرعی گواہ موجود نہیں، اس لیے رضاعت ثابت نہ ہو گی اور نکاح جائز ہو گا۔ البتہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں یا ان میں سے کوئی ایک اس بیان کی تصدیق کرتا ہو تو پھر اس کے لیے یہ رشتہ کرنا جائز نہ ہو گا۔ اور اگر خبر دینے والی دین دار اور قابلِ اعتماد ہو تو تصدیق نہ کرنے کے باوجود احتیاطاً اس رشتے سے بچنا بہتر ہے۔اور اگر مذکورہ خاتون کا اس لڑکی کو دودھ پلانا لوگوں میں معروف و مشہور ہو تب بھی اس رشتے سے گریز کرنا چاہیے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم وأخواتكم من الرضاعة"

(سورۃ النساء: 23)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن عقبة بن الحارث: أنه تزوج ابنة لأبي إهاب بن عزيز، فأتت امرأة فقالت: قد أرضعت عقبة والتي تزوج بها، فقال لها عقبة: ما أعلم أنك قد أرضعتني ولا أخبرتني، فأرسل إلى آل أبي إهاب فسألهم فقالوا: ما علمنا أرضعت صاحبتنا، فركب إلى النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة فسأله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف وقد قيل؟ ففارقها عقبة ونكحت زوجا غيره."

(کتاب النکاح، باب المحرمات، ج:2، ص:218، ط: المکتب الاسلامی)

ترجمہ:
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو أہاب بن عزیز کی ایک بیٹی سے نکاح کیا۔ ایک عورت آئی اور اس نے کہا: ’’میں نے عقبہ کو اور جس عورت سے انہوں نے نکاح کیا ہے، دونوں کو دودھ پلایا ہے۔‘‘

حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کہا: ’’مجھے تو معلوم نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے، اور نہ ہی تم نے اس سے پہلے مجھے اس بارے میں بتایا ہے۔‘‘ پھر انہوں نے ابو أہاب کے گھر والوں کے پاس آدمی بھیجا اور ان سے اس بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا: ’’ہمیں بھی یہ معلوم نہیں کہ اس عورت نے ہماری بیٹی کو دودھ پلایا ہے۔‘‘

پھر حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اب کیا کیا جائے، جبکہ (دودھ پلانے کی بات) کہی جا چکی ہے؟‘‘ چنانچہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے علیحدگی اختیار کرلی اور اس عورت نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(هو) لغة بفتح وكسر: مص الثدي، وشرعا (مص من ثدي آدمية) ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما وهو الأصح) فتح، وبه يفتى كما في تصحيح القدوري عن العون، لكن في الجوهرة أنه في الحولين ونصف ولو بعد الفطام محرم وعليه الفتوى... (ويثبت التحريم) في المدة فقط ولو (بعد الفطام والاستغناء بالطعام على) ظاهر (المذهب) وعليه الفتوى، فتح وغيره... (ويثبت به) ولو بين الحربيين، بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم؛ لأن في المانع شكا، ولوالجية."

(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:3، ص:209، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(و) الرضاع (حجته حجة المال) وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان، لكن لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي لتضمنها حق العبد... (قوله: وهي شهادة عدلين إلخ) أي من الرجال، وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأة كان أو رجلا قبل العقد أو بعده... لكن في محرمات الخانية: إن كان قبله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه، وبه جزم البزازي."

(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:3، ص:224، ط: سعید)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم، كذا في الهداية. قال في الينابيع: والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف، كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الرضاع، ج:7، ص:485)

وفیہ ایضاً:

"الرضاع يظهر بأحد أمرين: أحدهما الإقرار، والثاني البينة، كذا في البدائع. ولا يقبل في الرضاع إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين عدول."

(کتاب الرضاع، ج:1، ص:347، ط: دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

"ولو تزوج امرأة فقالت امرأة: أرضعتكما، فهو على أربعة أوجه: إن صدقاها فسد النكاح ولا مهر لها إن لم يدخل بها، وإن كذباها فالنكاح بحاله، لكن إذا كانت عدلا فالتنزه أن يفارقها، كذا في التهذيب... وإن صدقها الرجل وكذبتها المرأة فسد النكاح والمهر بحاله، وإن صدقتها وكذبها الرجل فالنكاح بحاله."

(کتاب الرضاع، ج:1، ص:347، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101919

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں