
میں روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم هوں، مجھے پاسپورٹ کی تجدید کےلیے ریاض کے ایک چھوٹے ضلع سے جدہ جانا ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ پاسپورٹ کے کام سے فارغ ہو کر اگلے دن ان شاء اللہ عمرہ کےلیے مکہ اور پھر وہاں سے مدینہ چلے جائیں گے، جدہ کا جو راستہ مجھے معلوم ہے وہ طائف کے میقات (میقات قرن المنازل سیل الکبیر ) سے گزرنے کے بعد جدہ کےلیے الگ ہوتا ہے اور کسی جگہ سے تو مکہ کا کلاک ٹاور (Clock Tower) بھی نظر آتا ہے
اب میرا سوال ہے کہ کیا احرام کے بغیر جدہ جا سکتے ہیں؟ اور اگر جا سکتے ہیں تو پھر عمرہ کا احرام کہاں سے پہننا ہو گا؟
صورت ِ مسئولہ میں اگر سفر کا اصل مقصد پاسپورٹ کی تجدید کے لیے جدہ جانا ہے ، پھر وہاں سے عمرہ ادا کرنے کی نیت ہے تو ایسی صورت میں بغیر احرام کےجدہ جانا جائز ہے ،پھر جدہ سے ہی احرام باندھ کر حرم جا کر افعالِ عمرہ کی ادائیگی کر لے، اس صورت میں کوئی دم لازم نہیں ہو گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
''أما لو قصد موضعاً من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام، فإذا حل به التحق بأهله، فله دخول مكة بلا إحرام''.
(کتاب الحج، ج:2، ص:476، ط: سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(دخل كوفي) أي آفاقي (البستان) أي مكاناً من الحل داخل الميقات (لحاجة) قصدها، ولو عند المجاوزة، على ما مر، ونية مدة الإقامة ليست بشرط على المذهب (له دخول مكة غير محرم، ووقته البستان ولا شيء عليه)؛ لأنه التحق بأهله
(قوله: لحاجة) كذا في البدائع والهداية والكنز وغيرها، وهو احتراز عما إذا أراد دخول مكان من الحل لمجرد المرور إلى مكة؛ فإنه لايحل له إلا محرماً."
(کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، ج: 2، ص:581، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101918
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن