
1۔ڈیجیٹل مارکیٹنگ،اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کچھ رقم کے عوض سوشل میڈیا پر مخصوص وقت تک پروڈکٹ کی تشہیر کرنا کیسا ہے؟ اور اس کے جواز کی کیا کیا صورتیں ہیں؟
2۔ایمازون ،صورت یہ ہے کہ دوسرے کی پروڈکٹ تصویر کے ذریعہ فروخت کرنا،جبکہ وہ آپ کے پاس موجود نہ ہو ،پھر جب کسٹمر آپ سے مانگے تو آ پ دوسرے سے مال منگواؤ اور آگے دے دو ۔اس کے جواز کی کیا صورتیں ہیں؟
1۔ڈیجیٹل مارکٹنگ کی مختلف صورتیں ہیں ،سائل نے جو صورت ذکر کی ہے کہ کسی شخص کی پروڈکٹ کی تشہیر کرنا اور اس کا عوض لینا ،تو یہ عمل شرعی احکام کی رعایت کے ساتھ ہو تو جائز ہوگا،ذیل میں چند شرعی اصول ذکر کئے جاتے ہیں :
الغرض اگر تشہیر کے عمل میں شرعی احکام کی خلاف ورزی نہ ہو اور اجرت متعین ہو تو یہ عمل جائز ہے اور اس کی کمائی بھی حلال ہوگی ،بصورت دیگر حکم مختلف ہوگا ۔
2۔واضح رہے کہ کسی بھی آن لائن ایپ یا پلیٹ فارم سے کاروبار کرنے کی صورت میں جو چیز فروخت کی جارہی ہو اگر وہ فروخت کرنے والے کی ملکیت میں موجود ہو اور تصویر دکھلا کر سودا کیا جا رہا ہو تو ایسی صورت میں آن لائن خرید و فروخت شرعاً درست ہوگی، لیکن اگر مال فروخت کرنے والے کی ملکیت میں نہیں ہے اور وہ محض اشتہار/تصویر دکھلاکر کسی کو وہ سامان فروخت کرتا ہو (یعنی سودا کرتے وقت یوں کہے کہ: ’’فلاں چیز میں نے آپ کو اتنے میں بیچی‘‘، وغیرہ) ،بعد میں وہ سامان کسی اور دکان،اسٹوروغیرہ سے خرید کردیتا ہو تو یہ صورت فروخت کنندہ کی ملکیت اور قبضہ میں وہ چیز موجود نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ جو چیز فروخت کرنا مقصود ہو وہ فروخت کنندہ کی ملکیت اور قبضے میں ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے۔
اس کے جواز کی صورتیں درج ذیل ہیں:
جواز کی ہر صورت میں خریدار کو مطلوبہ چیز ملنے کے بعد ”خیارِ رؤیت“ حاصل ہوگا، یعنی جب ’’مال‘‘ خریدار کو مل جائے تو دیکھنے کے بعد اس کی مطلوبہ شرائط کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں اُسےواپس کرنے کااختیار حاصل ہوگا۔
نیز واضح رہے کہ سونا، چاندی اور کرنسی کی آن لائن خرید و فروخت شرعاً درست نہیں ہے، کیوں کہ ان اشیاء کی بیع درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہاتھ در ہاتھ ہو اور مجلسِ عقد میں جانبین سے عوضین پر قبضہ پایا جائے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من ابتاع طعاماً فلايبعه حتى يستوفيه»، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله."
(کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، ج:۳ ؍۱۱۵۹ ،ط:دار إحیاءالتراث العربي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(لا) يصح ... (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه ... والأصل أن كل عوض ملك بعقد ينفسخ بهلاكه قبل قبضه فالتصرف فيه غير جائز ... وفي المواهب: وفسد بيع المنقول قبل قبضه، انتهى. ونفي الصحة يحتملهما ... (قوله: ونفي الصحة) أي الواقع في المتن يحتملهما أي يحتمل البطلان والفساد والظاهر الثاني؛ لأن علة الفساد الغرر كما مر مع وجود ركني البيع، وكثيراً ما يطلق الباطل على الفاسد أفاده ط."
(کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة، فصل في التصرف في المبیع الخ،ج:۵ ؍۱۴۷، ۱۴۸،ط:سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"من حكم المبيع إذا كان منقولاً أن لايجوز بيعه قبل القبض."
(کتاب البیوع، الباب الثاني، الفصل الثالث، ج:۳ ؍ ۱۳ ،ط:رشیدیة )
فتاوی شامی میں ہے:
"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه."
( کتاب الاجارۃ، باب: الإجارة الفاسدة، ج: 6، ص: 63، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحًا على الصحيح (إن اتحد جنسًا وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) لما مر في الربا".
(5/257، 258، باب الصرف، کتاب البیوع، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101896
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن