بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1448ھ 22 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مضاربت کے ایک معاہدے کا شرعی حکم


سوال

زید کے پاس رقم ہے مگر کاروبار کا تجربہ نہیں، اور عمر تجربہ کار ہے مگر اس کے پاس لگانے کو کچھ نہیں۔ دونوں کے درمیان یہ بات طے ہوئی ہے کہ پورا سرمایہ زید لگائے گا اور کام عمر کرے گا۔ عمر کو ہر ماہ ایک مقررہ رقم بطورِ منافع دی جائے گی، اور اگر کاروبار میں خسارہ ہوا تو وہ دونوں آدھا آدھا برداشت کریں گے۔ نیز معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ زید خود بھی کاروبار میں کام کرے گا، اور عمر کو محنت کے بدلے نفع کے علاوہ ماہانہ تنخواہ بھی الگ سے ملے گی۔

اس معاہدے کی شرعی حیثیت کیا ہے، اور اگر درست نہیں تو اس کی صحیح صورت کیا ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ سرمایہ ایک فریق کا اور محنت دوسرے فریق کی ہو تو ایسے معاملے کو شریعت میں ”مضاربت“ کہا جاتا ہے، سرمایہ لگانے والا ”رب المال“ اور کام کرنے والا ”مضارب“ کہلاتا ہے، اور سرمایہ مضارب کے ہاتھ میں امانت ہوتا ہے۔

مذکورہ معاہدے مندرجہ ذیل امور خلافِ شرع ہیں:

عمر کے لیے ہر ماہ ایک متعین رقم بطورِ منافع مقرر کرنا، اس لیے کہ مضاربت میں نفع کا تعین حاصل شدہ منافع میں مشترک حصے یعنی شرح فیصد ہی کے اعتبار سے ہو سکتا ہے، اور کسی متعین رقم پر معاہدہ کرنے سے عقدِ مضاربت ہی فاسد ہو جاتا ہے۔

 نصف نقصان مضارب پر ڈالنا، کیوں کہ مضارب امین ہے اور امین پر ضمان عائد نہیں ہوتا، لہٰذا یہ شرط باطل ہے۔

زید یعنی رب المال کے کام کرنے کی شرط عقد کے وقت لگانا، کہ اس سے بھی مضاربت فاسد ہو جاتی ہے۔

اور نفع کے حصے کے ساتھ عمر کے لیے تنخواہ مقرر کرنا، اس لیے کہ نفع میں شریک ہونے والے کو اجیر بنانا لازم آتا ہے، اور ایک ہی عقد میں شرکت اور اجارہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔

 نقصان کی ذمہ داری کا ضابطہ یہ ہے کہ سب سے پہلے نقصان کی تلافی حاصل شدہ نفع سے کی جائے گی، اور اگر نقصان نفع سے بڑھ جائے یا نفع ہوا ہی نہ ہو تو وہ اصل سرمایہ سے پورا ہو گا اور اس کا بوجھ رب المال ہی پر ہو گا، اور مضارب کی محنت رائیگاں جائے گی؛ ہاں اگر نقصان مضارب کی تعدی، غفلت یا کوتاہی سے ہوا ہو تو پھر ضمان اسی پر آئے گا۔

لہٰذا مذکورہ معاہدہ اپنی موجودہ صورت میں شرعاً درست نہیں۔ اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ معاہدے سے متعین رقم، نصف نقصان، رب المال کے عمل کی شرط اور تنخواہ کی شق نکال دی جائے، اور صرف اتنا طے کیا جائے کہ جو نفع حاصل ہو گا اس کا اتنے فیصد عمر کا اور اتنے فیصد زید کا ہو گا۔ اس کے بعد اگر زید معاہدے میں شرط لگائے بغیر، عمر کی اجازت سے، بطورِ تعاون کچھ کام کر لیا کرے تو اس کی گنجائش ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"وآخرون يضربون في الأرض يبتغون من فضل الله"

(سورۃ المزمل: 20)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الذي يرجع إلى رأس المال فأنواع: منها أن يكون رأس المال من الدراهم أو الدنانير عند عامة العلماء، فلا تجوز المضاربة بالعروض. ومنها أن يكون معلوما، فإن كان مجهولا لا تصح المضاربة... ومنها أعلام مقدار الربح لأن المعقود عليه هو الربح. ومنها أن يكون المشروط لكل واحد منهما من المضارب ورب المال من الربح جزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا."

(کتاب المضاربۃ، فصل في شرائط ركن المضاربة، ج:6، ص:82-85، ط: دار الکتب)

تبیین الحقائق میں ہے:

"قال رحمه الله: (وما هلك من مال المضاربة فمن الربح)؛ لأنه تابع ورأس المال أصل... قال رحمه الله: (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن المضارب)؛ لأنه أمين فلا يكون ضمينا للتنافي بينهما في شيء واحد."

(کتاب المضاربۃ، باب المضارب یضارب، ج:5، ص:67، ط: المطبعۃ الکبری الامیریۃ)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"وأما الشروط الفاسدة فمنها ما تبطل المضاربة ومنها ما لا تبطلها بنفسها، إذا قال رب المال للمضارب: لك ثلث الربح وعشرة دراهم في كل شهر عملت فيه للمضاربة، فالمضاربة جائزة والشرط باطل، كذا في النهاية."

(کتاب المضاربۃ، الباب الاول في تفسيرها وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4، ص:287، ط: دار الفکر)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت... (قوله: مسلما) فلو شرط رب المال أن يعمل مع المضارب لا تجوز المضاربة، سواء كان المالك عاقدا أو لا."

(کتاب المضاربۃ، ج:5، ص:648، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح)؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين."

(کتاب المضاربۃ، باب المضارب یضارب، فصل في المتفرقات في المضاربة، ج:5، ص:656، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101884

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں