
1۔ اسٹاک ایکسچینج میں مختلف اسٹاک میں کاروبار کرنا کیسا ہے؟ اسٹاک مارکیٹ میں سارے اسٹاک شرعی نہیں ہیں، لیکن چند اسٹاک ایسے ہیں جن کے بارے میں اسٹاک بروکر اس میں کاروبار کو شرعی طور پر جائز قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا گزارش ہے کہ مجھے اس سلسلے میں آگاہ کیا جائے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کرنا کیسا ہے؟
2۔ پرائز بانڈ رکھنا اور اس پر انعام لینا کیا جائز ہے؟ اس کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے!
1۔واضح رہے کہ شیئرز کی خرید وفروخت کے جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے:
1۔۔ جس کمپنی یا ادارہ کے حصص (شیئرز) کی خرید وفروخت کی جارہی ہو واقعۃً وہ کمپنی یا ادارہ موجود ہو، یعنی اس کے ماتحت کوئی جائیداد، کارخانہ، مل، فیکٹری یا کوئی اور چلتا کاروبار موجود ہو، اور اگر کمپنی یا ادارہ کے تحت مذکورہ اشیاء نہ ہوں یا کمپنی یا ادارہ سرے سے موجود ہی نہ ہو ، صرف اس کا نام ہو اور اس کے شیئرز بازار میں اس لیے چھوڑے گئے ہوں کہ اس پر پہلے سے زیادہ رقم حاصل کی جائے اور منافع حاصل کیے جائیں تو ایسی کمپنی کے شیئرز کی خریدوفروخت جائز نہیں، کیوں کہ ہر شیئر کے مقابل میں جمع شدہ روپے کی رسید ہے، کوئی جائیداد یا ایسا مال نہیں جس پر منافع لے کر فروخت کیا جاسکے۔
2۔۔ کمپنی کا کل یا کم از کم غالب سرمایہ جائز اور حلال ہو۔
الف : یعنی جس موجود کمپنی اور جاری کاروبار یا کارخانہ کے حصص (شیئرز) خریدوفروخت کیے جارہے ہوں اس کا سرمایہ جائز اور حلال ہو، رشوت، چوری،غصب، خیانت،سود، جوئے اور سٹہ پر حاصل شدہ رقم نہ ہو ، لہذا سودی ادارے جیسے بینک یا انشورنس کمپنی وغیرہ کے شیئرز کی خرید وفرخت جائز نہیں ہے۔
ب : کمپنی کے شرکاء میں سودی کاروبار کرنے والے یا کسی اور ناجائز اور حرام کاروبار کرنے والے اداروں یا افراد کی رقم شامل نہ ہو۔
3۔۔ کمپنی یا ادارہ کا کاروبار جائز اور حلال ہو ۔
الف : یعنی کمپنی یا ادارہ کے کاروبار کے طریقہ کے درست ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کمپنی یا ادارہ کا کاروبار بھی جائز ہو، مثلاً شرعی شراکت اور شرعی مضاربت کی بنیاد پر کاروبار ہو ، اگر کاروبار ناجائز ہو گا تو اس کمپنی کے شیئرز کی خرید وفروخت جائز نہیں ہوگی۔
ب : اور کمپنی کا کاوربار حلال اور جائز اشیاء کا ہو ، مثلاً شراب، جان دار کی تصاویر ، ٹی وی، وی سی آر اور ویڈیو فلم سینما وغیرہ کے کاروبار والی کمپنیوں کے شیئرز کی خرید وفرخت بھی ناجائز ہے۔
4۔۔شیئرز کی خرید وفرخت میں شرائط بیع کی پابندی کرنا۔
یعنی مذکورہ کمپنی یا ادارہ کے شیئرز کی خریدوفروخت بیع وتجارت کے شرعی اصولوں کے مطابق ہو ، مثلاً آدمی جن شئیرز کو خرید کر بیچنا چاہتا ہے ،اس پر شرعی طریقہ سے قابض ہو اور دوسروں کو تسلیم اور حوالہ کرنے پر بھی قادر ہو۔ فی زمانہ CDC اکاؤنٹ میں شیئرز کا منتقل ہو جانا شرعا قبضہ شمار ہوتا ہے،لہذا کسی کمپنی کےشیئرز خریدنے کے بعد CDC اکاؤنٹ میں وہ شیئرز منتقل ہو جائیں تو اس کے بعد اسے آگے فروخت کر سکتے ہیں ۔
واضح رہے کہ شیئرز میں قبضہ کا حکم ثابت ہونے کے لیے صرف زبانی وعدہ کافی نہیں ہے، نام رجسٹرڈ یا الاٹ ہونا ضروری ہے، اس سے پہلے صرف زبانی وعدہ یا غیر رجسٹرڈ شیئرز کی خرید وفروخت ناجائز ہے، البتہ یہ درست ہے کہ شیئرز پہلے بائع کے نام رجسٹرڈ ہوں اور بائع اس کی قیمت بھی ادا کردے، اس کے بعد اس کی خریدوفروخت جائز ہوگی۔
5۔۔ منافع کی کل رقم کو تمام حصہ داروں کے درمیان شیئرز کے مطابق تقسیم کرنا۔ مثلاً کمپنی میں جو منافع ہوا ہے اسے تمام حصہ داروں میں ان کے شیئرز کے مطابق تقسیم کردیا جائے، لیکن اگر کوئی کمپنی مستقبل کے ممکنہ خطرہ سے نمٹنے کے لیے منافع میں سے مثلاً 20 فیصد اپنے لیے مخصوص کرتی ہے اور 80 فیصد منافع کو حصہ داروں میں تقسیم کرتی ہے تو اس کمپنی کے شیئرز کی خریدوفروخت ناجائز اور حرام ہے؛ کیوں کہ یہ کمپنی شرعی شراکت کے خلاف ناجا ئز کاروبار کرتی ہے۔ (ماخوذ از جواہر الفتاوی، م؛ مفتی عبد السلام چاٹگامی صاحب، 3/258، ط؛ اسلامی کتب خانہ)
6۔۔شیئرز کی خرید و فروخت کے دوران بالواسطہ یا بلاواسطہ سود اور جوے کے کسی معاہدے کا حصہ بننے سے احتراز کیا جاتا ہو۔
اگر شیئرز کے کاروبار میں ان شرائط کی رعایت رکھی جائے تو یہ کاروبار جائز ہے، ورنہ نہیں، بہرصورت بہتر یہی ہے کہ اس کاروبار سے اجتناب کیا جائے، اس لیے کہ مارکیٹ میں ان تمام شرائط کے ساتھ شیئرز کا کاروبار بہت مشکل ہے، اس لیے اجتناب کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
2۔ پرائز بانڈ خریدنے کے بعد اس پر اگر انعام نکل آئےتو شرعا وہ انعام سود میں داخل ہے، لہذا انعام نکل آنے کی صورت میں وہ انعام سرے سے نہ لیا جائے، اگر لے لیا تو بلا نیت ثواب غرباء اور فقراء میں صدقہ کرنا لازم ہے۔ نیز ملحوظ رہے کہ پرائز بانڈ کی خریدوفروخت کرنا، کاروبار کرنا شرعا درست نہیں، اس سے ایک سودی کام کی ترویج اور ترقی ہوتی ہے۔ اوراگر کسی نے پرائز بانڈ خرید لیا ہو تو اسکی اصل رقم کے بدلہ بحسب شرائط فروخت کر سکتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (278)فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279)"
ترجمہ:"اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو پھر اگر تم اس پر عمل نہ کرو گے تواشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے(یعنی تم پر جہاد ہوگا) اور اگر تم توبہ کر لو گے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر کوئی ظلم کرنے پائے گا۔"
(سورة البقرة، الآية:٢٧٨-٢٧٩)
قرآن مجید میں ایک دوسری آیت میں ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90)"
"اے ایمان والو! بلا شبہ شراب اور جوا، بت اور جوئے کے تیر یہ سب نجس ہیں شیطانی عمل میں سے ہیں سو ان چیزوں سے دور رہا کرو تا کہ تمہیں فلاح ملے۔"
(سورة المائدة، الآية:٩٠)
صحیح البخاری میں ہے:
"حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال: الذي حفظناه من عمرو بن دينار، سمع طاوسا، يقول: سمعت ابن عباس رضي الله عنهما، يقول: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم "فهو الطعام أن يباع حتى يقبض"، قال ابن عباس: و لا أحسب كل شيء إلا مثله."
(باب بیع الطعام قبل ان یقبض، ج: 1، ص: 286، ط: قدیمی)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر قال: "لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا، و مؤكله، و كاتبه، و شاهديه، و قال: هم سواء."
(كتاب المساقاة، باب لعن اكل الربا ومؤكله، ج:3، ص: 1219، ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)
البحر الرائق میں ہے:
"قبض كل شیئ وتسليمه يكون بحسب ما يليق به."
(کتاب الوقف، ج: 5، ص: 248، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم "نهى عن بيع ما لم يقبض"، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر."
(کتاب البیوع، ج:5، ص: 180، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101871
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن