
عموما سادہ لوح عوام کے درمیان یہ بات پائی جاتی ہے کہ موٹر سائیکل کی تیز رفتاری کے باعث حادثے میں موت واقع ہوجائے تو وہ خودکشی کے زمرے میں آتی ہے ۔ آیا اس بات کی کیا حقیقت ہے ؟
اگر کوئی شخص موٹر سائیکل پر سواری سے قبل تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرے ، دعاؤں کا اہتمام کرے اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ حدرفتار سے تجاوز نہ کرے ، پھر اس کے بعد حادثے کا شکار ہوکر اس کی موت واقع ہوجائے تو کیااس صورت میں بھی خودکشی شمار ہوگی ؟ اگر ہوگی تو گاڑی اور موٹر سائیکل دونوں کا ایک حکم ہوگا یا الگ الگ ؟ اور اگر الگ الگ ہے تو اس کی علت کیا ہے؟
اور مبتلا بہ کے بارے میں یہ رائے کیسے قائم کی جائے گی کہ اس کی رفتار تیز تھی یا نہیں ، کیونکہ بعض حضرات کو موٹر سائیکل پر بیٹھ کر 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار بھی زیادہ لگتی ہے اور گاڑی میں 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار بھی کم لگتی ہے ۔
واضح رہے کہ خودکشی اس موت کو کہا جاتا ہے جس میں مرنے والے کا مقصد ہی اپنے آپ کو ختم کرناہو ؛ جس طرحلوگ مختلف آلات و اسباب کا سہارا لے کر خودکشی کرتے ہیں،اگر اسی طرح کوئی شخص خود کشی کے ارادہ سے کسی بھی سواری میں سوار ہوکرغیر معقول انداز میں قصدا اپنی رفتار ایسی تیز کرےجس سے ایسا حادثہ یقینی ہو جس سے موت واقع ہوسکتی ہو تو ایسی صورت میں حادثے کا شکار ہوکر مرنے والے اس شخص کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ اس نے تیز رفتاری سے خود کو ختم کر دیا ۔
نیز اگر ڈرائیور کا مقصد خود کو ختم کرنا تو نہیں ہے البتہ اس نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ رفتار سے بہت زیادہ تیز رفتاری سے گاڑی / موٹر سائیکل چلائی اور حادثے کا شکار ہو گیا تو اسے خود کشی تو نہیں کہیں گے البتہ اسے شہادت کی موت بھی نہ کہیں گے بلکہ بے احتیاطی کی وجہ سے اسے فقط حادثاتی موت کا نام دیں گے۔
چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر ڈرائیور حتی الامکان تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرے ، دعاؤں کا بھی اہتمام کرے اور سرکار کی جانب سے مقرر کردہ حدرفتار سےتجاوز نا کرےجب کہ اس رفتار سے عام طور پر حادثہ نہیں ہوتالیکن پھر بھی ناگہانی طور پر ایسا شخص حادثہ کا شکار ہو گیا تو اسے اچا نک موت کی وجہ سے اخروی شہید کہا جا سکے گا، یعنی آخرت میں اسے شہادت کا ثواب ملے گا ،البتہ شہادت کے دنیا وی احکام اس پر جاری نہ ہوں گے، لہذا اسے غسل بھی دیا جائے گا اور نیا کفن پہنایا جائے گا ۔
ملحوظ رہے کہ گاڑی اور موٹر سائیکل دونوں کے بارے میں یہی اصل ہے جو درج بالا تفصیل میں ذکر کردیا گیا ، البتہ گاڑی کے مقابلہ میں موٹر سائیکل کی سواری زیادہ پر خطر ہونے کی وجہ سے اس میں زیادہ احتیاط کرنی چاہئیے ۔ انسان کی جان اس کی ملکیت نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس امانت کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے، جیسے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث مبارک میں ارشاد فرمایا”إن لنفسك عليك حقا”تمہاری جان کا تمہارے اوپر حق ہے، لہذا اسے ایسے خطرہ والے معاملات میں نہ ڈالا جائے جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو ،اس لئے اتنی تیزرفتار گاڑی / موٹرسائیکل چلانا جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے ۔
شریعت مطہرہ نے جائز امور سےمتعلق حکومت کےان تمام قوانین کی عوام پر پابندی بہت تاکید سے ضروری بتلائی ہے جومصلحت عامہ سےمتعلق ہوں اور ان کی جان ومال کےتحفظ پرمبنی ہوں، ٹریفک قوانین کی پابندی بھی ان ہی جائز اور مفید قوانین کا حصہ ہیں جس کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے ، لہٰذا موجودہ دور میں مستعمل سواریوں کی حد رفتار کا معیار بھی ٹریفک کے وضع کردہ ان ضابطوں کو بنایا جائے گا جو سرکار کی طرف سے مقرر کیے گئے ہوں ۔
ریاض الصالحین میں ہے :
عنْ أبي هُرَيْرةَ، رضي الله عنه، قالَ: قالَ رَسُولُ اللَّه صلى الله عليه وسلم: "الشُّهَدَاءُ خَمسَةٌ: المَطعُونُ، وَالمبْطُونُ، والغَرِيقُ، وَصَاحبُ الهَدْم وَالشَّهيدُ في سبيل اللَّه" متفقٌ عليهِ.
(کتاب الجہاد، باب بيان جماعة منَ الشهداء في ثواب الآخرة ويغسلون ويُصَلَّى عليهم بخلاف القتيل في حرب الكفار، ج:1، ص1353، ط:مؤسسةالرسالة، بیروت)
شعب الإیمان للبیہقی میں ہے:
"لا دین لمن لا عهد له."
(کتاب الایمان، الفصل الثانی،ج:1، ص:117، ط:المكتب الإسلامي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"المسلمون عند شروطهم."
(كتاب الجهاد، باب المستأمن، ج:4، ص:166، ط:سعيد)
وفیہ ایضا :
"كل من مات بسبب معصية فليس بشهيد وإن مات في معصية بسبب من أسباب الشهادة فله أجر شهادته وعليه إثم معصيته."
(كتاب الصلاة، باب الشهيد، مطلب المعصية خل تنافي الشهادة، ج:3، ص:197، ط:رشيدية).
وفیہ ایضا:
’’وإلا فالمرتث شهيد الآخرة وكذا الجنب ونحوه ومن قصد العدو فأصاب نفسه والغريق والحريق والغريب والمهدوم عليه والمبطون والمطعون والنفساء والميت ليلة الجمعة وصاحب ذات الجنب ومن مات وهو يطلب العلم وقد عدهم السيوطي نحو الثلاثين‘‘.
(كتاب الصلاة، باب الشهيد، مطلب في تعداد الشهداء، ج:3، ص:195، ط:رشيدية)
تکملة فتح الملهم میں ہے :
"ثم لم یذکر الفقهاء حکم السیارة لعدم وجودها في عصرهم. والظاهر أن سائق السیارة ضامن لما أتلفته في الطریق ، سواء أتلفته من القدام أو من الخلف. و وجه الفرق بینها و بین الدابة علی قول الحنفیة أن الدابة متحرکة بإرادتها، فلاتنسب نفحتها إلی راکبها، بخلاف السیارة، فإنها لاتتحرك بإرادتها ، فتنسب جمیع حرکاتها إلی سائقها، فیضمن جمیع ذلك،"
(باب جرح العجماء والمعدن والبئرجبار، ج:2، ص:523، ادارۃ المعارف)
بدائع الصنائع میں ہے :
"ويجب على كل من دعاه الإمام إلى قتالهم أن يجيبه إلى ذلك ولا يسعه التخلف إذا كان عنده غنى وقدرة؛ لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض، فكيف فيما هو طاعة؟"
(کتاب السیر،فصل في بيان أحكام البغاۃ ، ج:7، ص:140، ط:المکتبةالإسلامیة)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"من غرق فی قطع طریق فھو شہید وعلیہ إثم معصیتہ وکل من مات بسبب معصیۃ فلیس بشھید، وان مات فی معصیۃ بسبب من اسباب الشھادۃ فلہ أجر شہادتہ وعلیہ إثم معصیتہ، وکذالک لو قاتل علی فرس مغصوب أوکان قوم فی معصیۃ فوقع علیھم البیت فلھم الشھادۃ وعلیہم إثم المعصیۃ."
(کتاب الصلوٰۃ، باب الشھید، ج:2، ص:253، ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101859
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن