بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 ضرورت مند بیٹی کی مالی مدد کرنے کے بعد دیگر بیٹیوں کے مطالبے کا حکم

سوال

ایک عورت اپنا گھر خرید رہی تھی، اس کے والد صاحب نے اسے کچھ پیسے دے کر اس کی مالی مدد کی۔ اس کے بعد والد صاحب کی دیگر بیٹیاں آکر والد صاحب کو اس بات پر تنگ کرتی ہیں کہ آپ نے اسے پیسے کیوں دیے؟ ہمیں کیوں نہیں دیے؟ ہمیں بھی اتنے ہی پیسے دیں۔

والد صاحب کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی وراثت تقسیم نہیں کی ہے، بلکہ صرف اس بیٹی کی مالی مدد کی ہے، کیونکہ وہ غریب تھی اور اس کے پاس گھر خریدنے کے لیے اتنے وسائل نہیں تھے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا دیگر بیٹیاں والد صاحب سے زبردستی پیسوں کا مطالبہ کرسکتی ہیں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد صاحب کا اپنی ضرورت مند بیٹی کو اس کی حاجت کی بنا پر مالی مدد کرنا شرعاً جائز ہے، اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔

اور دیگر بیٹیوں کا والد صاحب سے اتنی ہی رقم کا زبردستی مطالبہ کرنا اور اس پر انہیں تنگ کرنا شرعاً جائز نہیں؛ والد صاحب اپنی زندگی میں اپنے مال کے تنہا مالک ہیں، ان کی زندگی میں کسی اولاد کا ان کی جائیداد سے وراثتی کو حصہ نہیں۔ تاہم والد کی موت کے بعد ان کا ترکہ اولاد و دیگر ورثا میں تقسیم کرنا ضروری ہوتا ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: أكل ولدك نحلت مثله؟ قال: لا، قال: فأرجعه. وفي رواية: أنه قال: أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟ قال: بلى، قال: فلا إذا."

(باب العطایا، ج:1، ص:261، ط: قدیمی)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده يسوي بينهم، يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى."

(کتاب الهبة، ج:5، ص:696، ط: سعید)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"وهبة الأب لطفله تتم بالعقد ... ولا يتم الملك للموهوب له إلا بالقبض."

(کتاب الهبة، الباب الثاني، ج:4، ص:378، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144803101833
تاریخ22-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں