
زید بلوغت کے بعد سے نمازوں کا اہتمام کرتا رہا اور اس کے علم کے مطابق اس کے ذمے کوئی نماز باقی نہیں تھی۔ ایک دن اس کی فجر رہ گئی، اور یاد رہنے کے باوجود وہ اسی دن کی ظہر، عصر، مغرب، عشا اور اگلے دن کی فجر بھی وقت پر پڑھتا رہا، پھر اس کے بعد فجر کی قضا کی۔
1۔اس دوران جو وقتی نمازیں اس نے پڑھیں، ان کا کیا حکم ہے؟
2۔اور جس شخص کے ذمے برسوں کی نمازیں قضا ہوں، کیا اسے قضا کرتے وقت ترتیب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟
واضح رہے کہ جس شخص کے ذمے پانچ سے زائد نمازیں قضا نہ ہوں وہ ”صاحبِ ترتیب“ کہلاتا ہے، اور اس پر فوت شدہ نماز کو وقتی نماز سے پہلے پڑھنا لازم ہے؛ اور ترتیب اسی وقت ساقط ہوتی ہے جب فوت شدہ نمازیں چھ ہو جائیں۔
1۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں زید نے فجر یاد رہنے کے باوجود جو پانچ وقتی نمازیں پڑھیں، وہ موقوف رہیں، اور چوں کہ اس نے چھٹی وقتی نماز یعنی اگلے دن کی ظہر پڑھنے سے پہلے ہی فجر کی قضا کر لی، اس لیے وہ پانچوں نمازیں فاسد ہو گئیں اور ان کا اعادہ زید پر لازم ہے۔ اور چوں کہ اب اس کے ذمے پانچ ہی نمازیں ہیں، اس لیے وہ اب بھی صاحبِ ترتیب ہے اور یہ اعادہ ترتیب کے ساتھ کرے۔ اس کے برعکس اگر وہ فجر کی قضا کرنے سے پہلے اگلے دن کی ظہر بھی پڑھ لیتا تو فوت شدہ نمازیں چھ ہو جانے کی وجہ سے ترتیب ساقط ہو جاتی اور وہ پانچوں نمازیں درست ہو جاتیں، اور پھر اعادے کی ضرورت نہ رہتی۔
2۔جس کے ذمے چھ یا اس سے زائد نمازیں قضا ہو چکی ہوں، اس سے ترتیب ساقط ہو جاتی ہے، خواہ وہ نمازیں متفرق دنوں کی ہوں؛ چناں چہ ایسا شخص فوت شدہ اور وقتی نماز کے درمیان، اور خود فوت شدہ نمازوں کے آپس میں، ترتیب کا لحاظ کیے بغیر جس طرح چاہے قضا کر سکتا ہے۔ البتہ عشا اور وتر جیسی دو وقتی نمازوں کے درمیان ترتیب اس سبب سے ساقط نہیں ہوتی۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"رجل ترك صلاة واحدة ثم صلى شهرا وهو ذاكر لها فعليه أن يقضي تلك الصلاة وحدها استحسانا، وإن كان صلى يوما أو أقل من ذلك أعاد ما صلى بعدها في هذه عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى، وهذه المسألة التي يقال لها واحدة تفسد خمسا وواحدة تصحح خمسا؛ لأنه إن صلى السادسة قبل الاشتغال بالقضاء صح الخمس عنده، وإن أدى المتروكة قبل أن يصلي السادسة فسد الخمس."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج:1، ص:244، ط: دار المعرفۃ)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"يسقط الترتيب بصيرورة الفوائت ستا ولو كانت متفرقة، كما لو ترك صلاة صبح مثلا من ستة أيام وصلى ما بينها ناسيا للفوائت."
(کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:68، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"لا يلزم الترتيب بين الفائتة والوقتية ولا بين الفوائت إذا كانت الفوائت ستا، كذا في النهر. أما بين الوقتيتين كالوتر والعشاء فلا يسقط الترتيب بهذا المسقط كما لا يخفى."
(کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:68، ط: سعید)
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ہے:
”صاحب ترتیب اس کو کہتے ہیں کہ اس کے ذمہ چھ نمازیں قضا نہ ہوئی ہوں، جو نماز قضا ہوئی بھی ہو اس کو ادا کر لیا ہو وہ صاحب ترتیب ہے، یعنی اس کو لازم ہے کہ اگر نماز قضا ہو تو اس کو وقتیہ سے پہلے پڑھے۔“
(کتاب الصلوٰۃ، ج:4، ص:250، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101800
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن