بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1448ھ 29 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کے سامنے سے گزرنے کا حکم، اور سترے کی مقدار و جگہ


سوال

ہماری مسجد میں دروازہ اس طرح ہے کہ اندر آنے والے کو نمازیوں کے سامنے سے گزرنا پڑتا ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، اس لیے وہ دیر تک کھڑے رہتے ہیں۔

1۔کیا واقعی نمازی کے سامنے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، اور کس حد تک گزرنا گناہ ہے؟

2۔سترہ کس چیز کو کہتے ہیں، اس کی مقدار کیا ہے اور اسے کہاں رکھا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، خواہ گزرنے والا مرد ہو، عورت ہو یا کوئی جانور؛ البتہ جان بوجھ کر گزرنے والا سخت گناہ گار ہوتا ہے۔

1۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تفصیل یہ ہے کہ بڑی مسجد، یعنی جو  کم از کم  ساٹھ فٹ لمبی اور ساٹھ فٹ چوڑی ہویا اس سے بڑی ہو، اور کھلے میدان میں اگر نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو اتنے فاصلے سے گزرنا جائز ہے کہ قیام کی حالت میں جب نمازی کی نظر سجدے کی جگہ پر ہو تو گزرنے والے پر نگاہ نہ پڑے، اور یہ فاصلہ نمازی کی صف ملا کر تین صفوں کے برابر بنتا ہے؛ اس سے کم فاصلے سے گزرنا مکروہِ تحریمی اور سخت گناہ ہے۔ اور چھوٹی مسجد یا گھر میں سترے کے بغیر نمازی کے سامنے سے قبلے کی دیوار تک کہیں سے بھی گزرنا مکروہِ تحریمی ہے، اگرچہ تین صفوں کا فاصلہ چھوڑ کر گزرے۔ ہاں اگر نمازی کے سامنے سترہ موجود ہو تو اس کے آگے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں۔

2۔سترے سے مراد ایسی چیز ہے جو کم از کم ایک ہاتھ یعنی اٹھارہ انچ اونچی اور ایک انگلی کے برابر موٹی ہو۔ کھلی جگہ میں امام اور تنہا نماز پڑھنے والے کے لیے سترہ گاڑنا مستحب ہے، اور اسے اپنے قریب یعنی تین ہاتھ سے کم فاصلے پر، اپنی کسی ایک ابرو کے سامنے رکھا جائے، اور دائیں ابرو کے سامنے رکھنا افضل ہے؛ محض کوئی چیز رکھ دینا یا زمین پر لکیر کھینچ دینا سترے کے لیے کافی نہیں۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن أبي جهيم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه. قال أبو النضر: لا أدري قال أربعين يوما أو شهرا أو سنة."

(کتاب الصلاۃ، باب إثم المار بين يدي المصلي، رقم الحدیث:510، ط: دار طوق النجاۃ)

موطأ الامام مالک بروایۃ محمد بن الحسن الشیبانی میں ہے:

"أخبرنا مالك، حدثنا الزهري، عن سالم بن عبد الله، عن ابن عمر، أنه قال: لا يقطع الصلاة شيء. قال محمد: وبه نأخذ، لا يقطع الصلاة شيء من مار بين يدي المصلي، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله."

(ابواب الصلاۃ، باب المار بين يدي المصلي، ص:98، ط: المکتبۃ العلمیۃ)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"والدليل على أن مرور المرأة لا يقطع الصلاة ما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي في بيت أم سلمة فأراد عمر بن أبي سلمة أن يمر بين يديه فأشار عليه فوقف، ثم أرادت زينب أن تمر بين يديه فأشار عليها فلم تقف."

(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:350، ط: دار الفکر)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(ولا يفسدها... مرور مار في الصحراء أو في مسجد كبير بموضع سجوده) في الأصح (أو) مروره (بين يديه) إلى حائط القبلة (في) بيت و (مسجد) صغير، فإنه كبقعة واحدة (مطلقا) ولو امرأة أو كلبا... (وإن أثم المار) لحديث البزار: لو يعلم المار ماذا عليه من الوزر لوقف أربعين خريفا (في ذلك) المرور لو بلا حائل. (قوله: ومسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعا، وقيل من أربعين، وهو المختار كما أشار إليه في الجواهر، قهستاني."

(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:634، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(ويغرز) ندبا بدائع (الإمام) وكذا المنفرد (في الصحراء) ونحوها (سترة بقدر ذراع) طولا (وغلظ أصبع) لتبدو للناظر (بقربه) دون ثلاثة أذرع (على) حذاء (أحد حاجبيه) ما بين عينيه والأيمن أفضل (ولا يكفي الوضع ولا الخط)... (قوله بقدر ذراع) بيان لأقلها، والظاهر أن المراد به ذراع اليد كما صرح به الشافعية، وهو شبران."

(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:636، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101799

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں