بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسے کے لیےپورشن وقف کرنا

سوال

میرے پاس ایک گھرایک سوبیس گز کاڈبل اسٹوری ہے،جو میں نے اپنے ریٹائرمنٹ کےذاتی  پیسوں سے بنایاہے،اس گھرکاایک پورشن میں مدرسے کودیناچاہتی ہوں، دونوں پورشن کے الگ الگ دروازے ہیں، اورایک منزل کواپنی ملکیت رکھناچاہتی ہوں۔

میرے شوہرنے نہ مکان دیا، نہ کبھی گھرکاخرچ اداکیا، اورنہ مجھے زیوردیے، میری شادی کواکیس سال ہوچکےہیں، اولاد نہیں ہے۔

کیا میری جائیدادمیں شوہرکاحصہ ہے،جب کہ اس نے میراکوئی حق ادانہیں کیا،کبھی کبھارچکرلگاتاہے،اوراب طلاق دے رہا ہے؟

اگرشریعت میں گنجائش ہوتوکیا میں اپناپورشن مدرسے کے لیے وقف کرسکتی  ہوں؟نیز میراایک بھائی اورایک بہن ہیں،ان کا بھی کوئی حصہ ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ اپنے گھرکا  ایک پورشن مدرسے کے لیے وقف کرنا چاہتی ہیں تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہے، اس پراجروثواب ہوگا، وقف کرنے کے بعد وقف شدہ پورشن آپ کی ملکیت نہیں رہے گا، اس لیے آپ کے انتقال کے بعد وہ میراث میں بھی تقسیم نہیں ہوگا اور نہ ہی آپ اسے اپنی زندگی میں بیچ سکیں گی، البتہ جو پورشن آپ وقف نہیں کریں گی وہ آپ کی ملکیت رہے گا اور آپ کے انتقال کے بعد اس میں میراث جاری ہوگی، بوقت انتقال آپ کے ورثاء میں سے جو موجود ہوگا وہی اس کا حق دار ہوگا، اگر اس وقت میاں بیوی کا زوجیت کا رشتہ برقرار نہیں ہوگا تو شوہر کو آپ کی میراث میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"صح الوقف في حكم الشرع لصدوره من أهله في محله، وصح تعيينه الموقوف عليه."

 (کتاب الوقف، ج:4، ص:340، ط:سعید)

الجوهرة النيرة على مختصر القدوری میں ہے:

"هو عبارة عن حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تصل المنفعة إلى العباد فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى فيلزم ولا يباع ولا يرهن ولا يورث."

(کتاب الوقف، ج:1، ص:333، ط:الخیریة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101786
تاریخ05-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں