
میرے ایک واقف کار کو کسی سے قرض لینا تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے ضامن بن جائیں، میں نے اس کے کہنے پر ضمانت دے دی اور اسی بنیاد پر اسے قرض مل گیا۔ اب مدت پوری ہونے کے بعد وہ ادائیگی نہیں کر رہا، اور قرض دینے والا مجھ سے تقاضا کر رہا ہے، حالاں کہ قرض لینے والا موجود ہے، کہیں غائب نہیں ہوا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ:
1۔قرض لینے والے کی موجودگی میں مجھ سے مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟
2۔اگر میں اپنی جیب سے قرض ادا کر دوں تو کیا میں اس سے وہ رقم واپس لے سکتا ہوں؟
3۔اب مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ نادہند آدمی ہے، کیا میں اپنی دی ہوئی ضمانت سے دستبردار ہو سکتا ہوں؟
صورت مسئولہ میں سائل نے چوں کہ اپنی ذمہ داری پر مذکورہ واقف کار کو قرض دلوایا ہے، لہذا سائل کی حیثیت کفیل کی ہے، اور کفالت میں قرض کی ادائیگی کی اصل ذمہ داری تو مقروض (قرض لینے والے) کی ہوتی ہے، تاہم قرض خواہ کو اختیار ہوتا ہے کہ اصل مقروض سے مطالبہ کرے یا ضامن سے، اس لیے کہ دونوں کا ذمہ پورے قرض کے ساتھ مشغول ہے؛ چناں چہ اصل مقروض کے موجود ہونے اور اس سے وصولی ممکن ہونے کے باوجود ضامن سے مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے، اور ضامن کا یہ عذر کہ پہلے اصل مقروض سے وصول کیا جائے، معتبر نہیں۔ البتہ اس سے ضامن ”قرض دار“ قرار نہیں پائے گا، بلکہ وہ ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔
2۔ سائل نے چوں کہ مقروض ہی کے کہنے پر ضمانت دی تھی، اس لیے ادائیگی کے بعد وہ اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
3۔عقدِ کفالت مکمل ہو جانے کے بعد ضامن کو یہ حق نہیں کہ یک طرفہ بنیاد پر اس سے دستبردار ہو جائے؛ البتہ اگر قرض خواہ اسے بری الذمہ کر دے، یا فریقین کی رضامندی سے کفالت ختم کر دی جائے، یا کفالت مدت کے ساتھ مقید تھی اور وہ مدت گزر جائے، تو ان صورتوں میں ضامن بری ہو جائے گا، اور ایسی صورت میں بھی اصل مقروض کا ذمہ اپنی جگہ باقی رہے گا۔
قرآنِ کریم میں ہے:
"ولمن جاء به حمل بعير وأنا به زعيم"
(سورۃ يوسف: 72)
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن أبي أمامة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: العارية مؤداة، والمنحة مردودة، والدين مقضي، والزعيم غارم."
(کتاب الاجارۃ، باب في تضمين العارية، رقم الحدیث:3565، ط: المکتبۃ العصریۃ)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"والمعنى فيه أنه التزم تسليم ما هو مستحق على الأصل فتصح كالكفالة بالمال..... إذا كان كفل بالمال والديون تقضى بأمثالها وهو موجود في يد الكفيل فلا حاجة إلى إثبات الولاية له في مال الأصيل فيؤمر بالأداء من مال نفسه ثم يؤمر بالرجوع عليه."
(کتاب الکفالۃ، ج:19، ص:163، ط: دار المعرفۃ)
تبیین الحقائق میں ہے:
"الكفالة بالمال نوعان: كفالة بالديون فتجوز مطلقا."
(کتاب الکفالۃ، الکفالۃ بالنفس وإن تعددت، ج:4، ص:147، ط: دار الکتاب)
اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:
"إذا كان دينا صحيحا، مثل أن يقول: تكفلت عنه بألف، أو بما لك عليه، أو بما يدركك في هذا البيع، والمكفول له بالخيار: إن شاء طالب الذي عليه الأصل، وإن شاء طالب كفيله."
(کتاب الکفالۃ، ج:2، ص:155، ط: المکتبۃ العلمیۃ)
وفیہ ایضاً:
"(والمكفول له بالخيار) في المطالبة: (إن شاء طالب الذي عليه الأصل) ويسمى الأصيل، (وإن شاء طالب كفيله)؛ لأن الكفالة ضم ذمة إلى ذمة في المطالبة، كما مر."
(کتاب الکفالۃ، ج:2، ص:155، ط: المکتبۃ العلمیۃ، بیروت)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
"ذهب الحنفية والشافعية والحنابلة إلى أن الدائن المكفول له يستطيع أن يطالب الكفيل بأداء الدين عند حلوله دون أن يتقيد بتعذر مطالبة الأصيل المكفول عنه، كما يستطيع أن يطالب الأصيل به عند حلول أجله عليه؛ لأن ذمة كل منهما مشغولة بالدين جميعه، فكان له مطالبة أيهما شاء."
(الکفالۃ، ج:34، ص:309، ط: وزارۃ الاوقاف والشؤون الاسلامیۃ، الکویت)
وفیہ ایضاً:
"إذا بطل عقد الكفالة، أو فسخ، أو استعمل المكفول له حق الخيار، أو تحقق شرط البراءة منها، أو انقضت مدة الكفالة المؤقتة، أو نحو ذلك، فإن الكفالة تنتهي بالنسبة للكفيل، دون أن تبرأ ذمة الأصيل نحو دائنه."
(الکفالۃ، ج:34، ص:320، ط: وزارۃ الاوقاف والشؤون الاسلامیۃ، الکویت)
وفیہ ایضاً:
"إذا أبرأ الدائن الكفيل من التزامه، فإن هذا الإبراء يعد منه تنازلا عن الكفالة، وتنتهي بذلك."
(الکفالۃ، ج:34، ص:320، ط: وزارۃ الاوقاف والشؤون الاسلامیۃ، الکویت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101765
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن