بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

متعین نفع کی شرط پر سرمایہ لگانا

سوال

ہمیں جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، ہم سرمایہ کار کے پاس جاتے ہیں، وہ ہمیں نقد رقم ادا کرتا ہے، اور اسی وقت نفع لگا کر قسط طے کر لیتا ہے، مثلا 6  جانوروں کے لیے 36 لاکھ دیے اور اسی وقت 50  ہزار ایک جانور پر رکھ کر ، 39 لاکھ کی 6  ماہ کے لیے قسط طے کرلیتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟اگر نہیں ہے تو اس کی جائز صورت کیا ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کا سرمایہ کار سے یوں معاملہ کرنا کہ سرمایہ کار 6 جانور کی قیمت کے برابر نقد رقم 36 لاکھ روپے سائل کو دے گا اور سائل 6  ماہ میں 39 لاکھ روپے واپس کرے گا، یہ سودی معاملہ ہے، اس طرح کرنا ناجائز اور حرام ہے۔

سرمایہ لینے کی درست صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سائل 36 لاکھ روپے مضاربت پر لے لے یعنی سرمایہ اس شخص کا ہوگا اور سائل محنت کرے گا (جانوروں کی خرید و فروخت کر کے نفع کمائے گا) اور پھر جو نفع ہوگا وہ ایک طے شدہ تناسب سے سرمایہ کار اور سائل کے درمیان تقسیم ہوگا، مثلا سائل سرمایہ کار سے مضاربت پر پیسے کے لر یوں طے کرلے کہ جو نفع ہوگا وہ 70 فیصد سرمایہ کار کو اور30 فیصد مضارب (محنت کرنے والے) کو ملے گا، پھر 36 لاکھ سے کاروبار کرنے کی صورت میں جتنا نفع ہو وہ 70 اور 30 کے حساب سے آپس میں تقسیم کرلیں۔

جواز کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سرمایہ کار  خود  یا سائل کے توسط سے جانور خریدے، اس پر قبضہ کرے اور پھر سائل کو نفع کے ساتھ ادھار (ادھار کا وقت طے کرلے) پر فروخت کردے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد.

ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة

(قوله بطل الشرط) كشرط ‌الخسران على المضارب."

(کتاب المضاربۃ، ج نمبر ۵، ص نمبر ۶۴۸، ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام»

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه."

(کتاب البیوع، باب المرابحہ، ج نمبر ۵، ص نمبر ۱۶۶، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101743
تاریخ29-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں