بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1448ھ 22 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یمین غموس اور منعقدہ کا حکم


سوال

قسم کے بارے میں چند باتیں پوچھنی ہیں:

1۔ایک تنازع میں خود کو بچانے کے لیے میں نے جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھا لی تھی کہ میں نے وہ کام نہیں کیا، حالاں کہ میں نے کیا تھا۔ اس کا کفارہ کیا ہے؟

2۔اس سے پہلے میں نے قسم کھائی تھی کہ آئندہ ایک کام نہیں کروں گا، مگر وہ کام مجھ سے ہو گیا۔

3۔ہمارے یہاں دس مسکین الگ الگ تلاش کرنا مشکل ہے، کیا ایک ہی مستحق کو دس افراد کے برابر رقم ایک ساتھ دے دینا کافی ہو جائے گا؟ اور اگر رقم دینے کی استطاعت نہ ہو تو جو تین روزے رکھنے ہوتے ہیں، کیا وہ الگ الگ دنوں میں رکھے جا سکتے ہیں؟

جواب

1۔ماضی کی کسی بات پر جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹی قسم کھانا  ”یمینِ غموس“ کہلاتا ہے، اور یہ کبیرہ گناہ ہے، حدیث شریف میں اسے شرک، والدین کی نافرمانی اور ناحق قتل کے ساتھ شمار کیا گیا ہے۔ ایسی قسم پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوتا، بلکہ اس سے نکلنے کی صورت صرف سچی توبہ اور استغفار ہے؛ اور توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ اس جھوٹی قسم کی وجہ سے اگر کسی کا جانی یا مالی نقصان ہوا ہو تو اس کی تلافی کی جائے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حسبِ استطاعت کچھ صدقہ کر دینا بہتر ہے۔

2۔آئندہ  کسی کام  کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھانے سے قسم منعقد ہو جاتی ہے، اور اسے توڑ دینے سے کفارہ لازم ہو جاتا ہے۔ کفارے کی صورت یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلایا جائے، یا ان میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دی جائے، اور جَو دینے کی صورت میں اس کا دو گنا یعنی تقریباً ساڑھے تین کلو دیا جائے، یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑا پہنایا جائے؛ کپڑے سے مراد متوسط درجے کا ایسا کپڑا ہے جس سے تین ماہ سے زائد فائدہ اٹھایا جا سکے اور جو عام بدن کو ڈھانپ لے۔ ان تینوں میں سے جس پر بھی قدرت ہو، اختیار ہے۔

3۔ایک ہی مسکین کو ایک ہی دن میں دس افراد کا کفارہ دے دینا کافی نہیں؛ البتہ اگر ایک ہی مستحق کو دینا ہو تو اسے دس دن تک روزانہ دو وقت کھانا کھلایا جائے، یا روزانہ ایک صدقۃ الفطر کی مقدار دی جائے، یا دس دن میں ایک ایک کر کے دس کپڑے دیے جائیں، تو یہ درست ہے۔ اور اگر ان تینوں میں سے کسی کی بھی استطاعت نہ ہو تو کفارے کی نیت سے تین روزے رکھے جائیں، اور ان میں تسلسل شرط ہے؛ الگ الگ دنوں میں تین روزے رکھنے سے کفارہ ادا نہ ہو گا، اور اگر دو روزوں کے بعد کسی عذر سے ناغہ ہو جائے تو نئے سرے سے تین روزے رکھنے ہوں گے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان، فكفارته إطعام عشرة مساكين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو كسوتهم أو تحرير رقبة، فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام، ذلك كفارة أيمانكم إذا حلفتم، واحفظوا أيمانكم"

(سورۃ المائدۃ: 89)

ترجمہ:”اور اللہ تعالیٰ تم سے مواخذہ نہیں فرماتے تمہاری قسموں میں لغو قسم پر، لیکن مواخذہ اس پر فرماتے ہیں کہ تم قسموں کو مستحکم کرو، سو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا اوسط درجہ کا جو اپنے گھر والوں کو کھانے کو دیا کرتے ہو، یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا، اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں۔“

(بیان القرآن ، ج:3، ص:510، ط: رحمانیہ)

صحیح البخاری میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس."

(کتاب الایمان والنذور، باب الیمین الغموس، ج:8، ص:137، ط: المطبعۃ الکبری الامیریۃ)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(وهي) أي اليمين بالله... (غموس) تغمسه في الإثم ثم النار، وهي كبيرة مطلقا، لكن إثم الكبائر متفاوت، نهر (إن حلف على كاذب عمدا) ولو غير فعل أو ترك... (كوالله ما فعلت) كذا (عالما بفعله)... (ويأثم بها) فتلزمه التوبة."

(کتاب الایمان، ج:3، ص:705، ط: سعید)

ردالمحتار میں ہے:

"(قوله وهي كبيرة مطلقا) أي اقتطع بها حق مسلم أو لا... ومعلوم أن إثم الكبائر متفاوت... (قوله فتلزمه التوبة) إذ لا كفارة في الغموس يرتفع بها الإثم، فتعينت التوبة للتخلص منه."

(کتاب الایمان، ج:3، ص:705، ط: سعید)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"وهي أحد ثلاثة أشياء: إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار، أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة، أو إطعامهم، والإطعام فيها كالإطعام في كفارة الظهار، هكذا في الحاوي للقدسي. وعن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى إن أدنى الكسوة ما يستر عامة بدنه حتى لا يجوز السراويل وهو صحيح، كذا في الهداية. فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات."

(کتاب الایمان، الباب الثاني، الفصل الثاني في الکفارۃ، ج:2، ص:61، ط: دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

"ولو أعطى مسكينا واحدا عشرة أثواب في مرة واحدة لم يجزئه كما في الطعام، وإن أعطاه في كل يوم ثوبا حتى استكمل عشرة أثواب في عشرة أيام أجزأه كما في الطعام."

(کتاب الایمان، الباب الثاني، الفصل الثاني في الکفارۃ، ج:2، ص:62، ط: رشیدیۃ)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وكفارته) هذه إضافة للشرط؛ لأن السبب عندنا الحنث (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين) كما مر في الظهار (أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و(يستر عامة البدن) فلم يجز السراويل إلا باعتبار قيمة الإطعام."

(کتاب الیمین، ج:3، ص:725، ط: دار الفکر، بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101735

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں