
1-میری بہن کا ایک سوتیلا بیٹا ہے،جو اس کے شوہر کی پہلی بیوی سے ہے،عمر میں مجھ سے دس سال چھوٹا ہے،ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں،میری بہن کہتی ہے،کہ یہ رشتہ ناجائز ہے، ،جب کہ بہنوئی اس رشتہ پر راضی ہے۔
کیا مذکورہ لڑکے سے میر ا نکاح درست ہے یا نہیں ہے؟
2-میرے بھائی نے وعدہ کیا تھا کہ پندرہ دن کے اندر اندر آپ کا نکاح ا س لڑکے(میری بہن کے سوتیلے بیٹے)سے کروائیں گے۔ابھی ایک دوسرا رشتہ آیا ہے جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہے ۔اولاد کے لیے وہ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں ۔تو میرے بھائی وغیر ہ اس دوسری جگہ میر ارشتہ کروانا چاہتے ہیں ،اگر دوسری جگہ میر ا نکاح ہوگیا تو تو اس لڑکے کی بدعا تو مجھے نہیں لگے گی؟
1-صورت مسئولہ سائلہ کا نکاح مذکورہ لڑکے(سائلہ کی بہن کےسوتیلےبیٹے) سے جائز ہے۔
2- اگرسائلہ اس دوسری جگہ نکاح کرنے پر راضی ہو،تو سائلہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، اس میں مذکورہ لڑکےـ(سائلہ کی بہن کےسوتیلےبیٹے)کی رضامندی ضروری نہیں ہے،اور نہ ہی ایسی صورت میں اس کی بدعا کا کوئی اثر ہوگا۔الغرض اپنی خوشی و رضامندی سے جہاں چاہو دونوں میں سے کسی ایک سے نکاح کرسکتی ہو۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"انتفاء محلية المرأة للنكاح شرعا بأسباب تسعة: الأول المحرمات بالنسب: وهن فروعه وأصوله وفروع أبويه وإن نزلوا وفروع أجداده وجداته إذا انفصلوا ببطن واحد. الثاني المحرمات بالمصاهرة: وهن فروع نسائه المدخول بهن وأصولهن وحلائل فروعه وحلائل أصوله، والثالث المحرمات بالرضاع وأنواعهن كالنسب، والرابع حرمة الجمع بين المحارم وحرمة الجمع بين الأجنبيات كالجمع بين الخمس، والخامس حرمة التقديم وهو تقديم الحرة على الأمة جعله في النهاية والمحيط قسما على حدة وأدخله الزيلعي في حرمة الجمع، فقال: وحرمة الجمع بين الحرة والأمة والحرة متقدمة وهو الأنسب، والسادس المحرمة لحق الغير كمنكوحة الغير ومعتدته والحامل بثابت النسب، والسابع المحرمة لعدم دين سماوي كالمجوسية والمشتركة، والثامن المحرمة للتنافي كنكاح السيدة مملوكها، والتاسع لم يذكره الزيلعي وكثير وهو المحرمة بالطلقات الثلاث ذكره في المحيط والنهاية".
(کتاب النکاح، فصل في المحرمات في النكاح، ج:3، ص:98، ط:دارالکتاب الاسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101715
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن