بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الثانی 1448ھ 03 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی والوں کا نکاح کے بعد بلاوجہ رخصتی میں تاخیر کرنے کا حکم اور تاخیر کے ممکنہ نقصانات


سوال

اگر نکاح ہو جائے اور تقریبا چار سال تک رخصتی نہ ہو ،لڑکی والے مختلف بہانے اور حیلے کریں اور مختلف اعذار کریں اور رخصتی ہی نہ کریں تو ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے کہ نکاح کے بعد رخصتی کب کرنی چاہیے اور رخصتی نہ کرنے کی صورت میں کیا مفاسد اور نقصانات ہیں؟

جواب

نکاح ہونے کے بعد حتی الامکان جلد رخصتی کردینی چاہیے اور کسی معقول وجہ کے بغیر اس میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ نکاح کے اہم مقاصد میں سے ایک عفت و پاک دامنی کا حصول اور حرام امور سے حفاظت ہے، اور یہ مقصد نکاح کے بعد میاں بیوی کے ازدواجی تعلق قائم ہونے سے زیادہ کامل طور پر حاصل ہوتا ہے۔ بخاری شریف میں ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"يا معشر الشباب، من استطاع الباءة فليتزوج؛ فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم؛ فإنه له وجاء.»"

ترجمہ:اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے نکاح کرلینا چاہیے، کیونکہ نکاح نگاہ کو زیادہ پست رکھنے والا اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو اسے روزے رکھنے چاہییں، کیونکہ روزہ اس کے لیے خواہش کو توڑنے کا ذریعہ ہے۔

(صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب من لم يستطع الباءة فليصم،ج:7، ص:3،رقم الحدیث: 5066، ط:دار طوق النجاة - بيروت)

علامہ عینی رحمہ اللہ اس حدیث میں «وأحصن للفرج» کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

«وأحصن أي: أشد إحصاناً له ومنعاً من الوقوع في الفاحشة»

یعنی نکاح شرم گاہ کی زیادہ حفاظت اور فواحش میں مبتلا ہونے سے زیادہ مانع ہے۔

چناں چہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا ایک اہم مقصد انسان کو بدنگاہی اور فواحش سے محفوظ رکھنا ہے، اس لیے جب نکاح ہوجائے اور میاں بیوی ازدواجی زندگی شروع کرنے کے قابل ہوں تو بلاوجہ رخصتی کو طویل مدت تک مؤخر کرنا مناسب نہیں۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا:

"يا علي! ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤا."

اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو:(ایک) نماز جب اس کا وقت آجائے، (دوسری)جنازہ جب حاضر ہوجائے، اور (تیسری) بے نکاحی عورت جب اس کے جوڑ کا خاوند مل جائے۔

(سنن الترمذي، أبواب الصلاة عن رسول الله ﷺ، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل، ج:1، ص:213، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)

اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب مناسب رشتہ میسر ہو اور نکاح کے لیے مطلوبہ حالات موجود ہوں تو بلاوجہ نکاح میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، اور نکاح کے بعد بھی جب میاں بیوی ازدواجی زندگی شروع کرنے کے قابل ہوں تو بلاعذر رخصتی کو غیر معمولی مدت تک مؤخر کرنا مناسب نہیں۔البتہ شریعتِ مطہرہ نے نکاح کے بعد رخصتی کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی، اس لیے نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر ہوجانے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نہ نکاح باطل ہوتا ہے اور نہ اس کی صحت پر کوئی فرق آتا ہے، لہٰذا اگر کسی معتبر اور معقول عذر کی وجہ سے رخصتی میں کچھ تاخیر ہوجائے تو شرعاً حرج نہیں، مثلاً شوہر کے پاس بیوی کے لیے مناسب رہائش کا انتظام نہ ہو، لڑکی ابھی کم عمر ہو یا کسی اور معتبر عذر کی وجہ سے فی الحال رخصتی ممکن نہ ہو، تو عذر کی موجودگی میں رخصتی مؤخر کی جاسکتی ہے۔

لیکن اگر لڑکی بالغ ہو، شوہر ازدواجی زندگی شروع کرنے کے قابل ہو اور بیوی کے لیے مناسب رہائش کا انتظام بھی موجود ہو، پھر لڑکی والے محض مختلف بہانے، حیلے اور غیر معتبر اعذار بناکر رخصتی کو طویل عرصے تک مؤخر کرتے رہیں تو ایسا کرنا درست نہیں، بلکہ بلاوجہ تاخیر سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے نکاح کے مقاصد کے فوت ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد مفاسد پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے، مثلاً میاں بیوی کی فطری خواہشات کے دباؤ میں آنے، بدنگاہی اور حرام تعلقات میں مبتلا ہونے، ذہنی پریشانی اور باہمی بدگمانی پیدا ہونے اور بالآخر ازدواجی رشتے میں اختلاف و نزاع پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر نکاح کو تقریباً چار سال گزر چکے ہوں اور رخصتی میں تاخیر کے لیے کوئی معتبر شرعی یا عرفی عذر موجود نہ ہو، بلکہ لڑکی والے محض مختلف بہانے اور حیلے کرکے رخصتی مؤخر کررہے ہوں، تو ان کا یہ طرزِ عمل درست نہیں، انہیں چاہیے کہ مزید بلاوجہ تاخیر نہ کریں اور حتی الامکان جلد رخصتی کا انتظام کریں، تاکہ نکاح کے مقاصد حاصل ہوں اور زوجین کو ان کے شرعی حقوق سے محروم رکھنے اور ممکنہ مفاسد کا سبب بننے سے بچا جاسکے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاری میں ہے:

"قوله: (أغض) بمعنى الفاعل لا المفعول أي: أشد غضا. قوله: (وأحصن) أي: أشد إحصاناً له ومنعا من الوقوع في الفاحشة. قوله: (فإنه) أي فإن الصوم. قوله: (وجاء) جملة في محل الرفع على الخبرية. وفال النووي: اختلف العلماء في المراد بالباءة هنا على قولين: يرجعان إلى معنى واحد، أصحهما: أن المراد معناها اللغوي وهو الجماع، فتقدير من استطاع منكم الجماع لقدرته على مؤونته وهي مؤن النكاح فليتزوج، ومن لم يستطع الجماع لعجزه عن مؤنه فعليه بالصوم ليقطع شهوته يقطع شر منيه كما يقطعه الوجاء، وعلى هذا القول وقع الخطاب مع الشباب الذين هم مظنة شهوة النساء ولا ينفكون عنها غالبا. والقول الثاني: إن المراد هنا بالباءة مؤن النكاح، سمعت باسم ما يلازمهما، وتقديره: من استطاع منكم مؤن النكاح فليتزوج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم. قالوا: والعاجز عن الجماع لا يحتاج إلى الصوم لدفع الشهوة، فوجب تأويل الباءة على المؤن، وانفصل القائلون بالأول عن ذلك بالتقدير المذكور. انتهى. قلت: مفعول (من لم يستطع) محذوف فيحتمل أن يكون المراد به. ومن لم يستطع الباءة أو من لم يستطع التزوج، وقد وقع كل منهما صريحاً فروي الترمذي من حديث عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله بن مسعود، رضي الله عنه، قال: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن شباب لانقدر على شيء فقال: يا معشر الشباب عليكم بالباءة فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج. فمن لم يستطع منكم الباءة فعليه بالصوم فإن الصوم له وجاء. وروي الإسماعيلي من حديث الأعمش: من استطاع منكم أن يتزوج فليتزوج، ويؤيده رواية النسائي: من كان ذا طول فلينكح، والحمل على المعنى الأعم أولى بأن يراد بالباءة القدرة على الوطء ومؤن التزوج".

(كتاب فضائل القرآن، باب: من لم يستطع الباءة فليصم، ج:20، ص:68، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت )

"مرقاۃ المفاتیح" میں ہے:

"(لا تؤخرها) : فإن في التأخير آفات، بل تعجل فيها، وهذه الأشياء مستثناة من الحديث المشهور: «العجلة من الشيطان»۔۔(والأيم) : بتشديد الياء المكسورة أي: المرأة العزبة ولو بكرا (إذا وجدت) : أنت أو وجدت هي (لها كفؤا) : قال الطيبي: الأيم من لا زوج له رجلا كان أو امرأة، ثيبا كان أو بكرا، والكفؤ: المثل. وفي النكاح أن يكون الرجل مثل المرأة في الإسلام والحرية والصلاح والنسب وحسن الكسب والعمل."

(کتاب النکاح ،ج:2،ص:533،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101707

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں