
میرے بھتیجے اور بھانجی کی دوسال قبل شادی ہوئی تھی ۔لیکن کچھ معاملات کی وجہ سے ان کا نکاح ختم ہوگیا ۔بھتیجے نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔
لڑکی والوں کو لڑکے والوں نے جہیز کا تمام سامان ،مہر ،اور جو سونا وغیرہ لڑکی پہن کرآئی تھی وہ واپس کردیاہے ۔البتہ شادی والے دن لڑکے والوں نے جو سونا لڑکی کو پہنا یا تھا ۔وہ لڑکے والے واپس نہیں کررہے ہیں ۔اور لڑکی کے گھر والے اس کامطالبہ کررہے ہیں ۔لڑکے والوں کا کہنا ہے کہ آپ نے ہمیں دھوکہ دے کر یہ شادی کی ۔اور ہمارا کروڑوں روپوں کا خرچہ ہواہے ۔یہ سوناہم واپس نہیں دیں گے ۔
اب سوال یہ ہے کہ لڑکے والوں کاشادی کے دن لڑکی کو دیے جانے والا سونا کس کی ملکیت ہے؟
صورتِ مسئولہ میں لڑکے والوں کی طرف سے شادی کے موقع پر جو زیورات/سونا لڑکی کو ملاہے ، اس کے حکم میں یہ تفصیل ہے کہ اگر زیورات دیتے وقت انہوں نے اس بات کی صراحت کی تھی کہ یہ صرف استعمال کرنے کے لیے ہیں تو پھر یہ زیورات لڑکے والوں کی ملکیت ہوں گے، اور اگر انہوں نےہبہ ، گفٹ اور مالک بناکر دینے کی صراحت کی تھی تو پھر ان زیورات/سونے کی مالک لڑکی ہوگی، اور اگر زیورات دیتے وقت کسی قسم کی صراحت نہیں کی تھی تو پھر لڑکے کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا، اگر ان کا عرف و رواج بطورِ ملک دینے کا ہے یا ان کا کوئی رواج نہیں ہے تو ان دونوں صورتوں میں زیورات کی مالک لڑکی ہوگی، اور اگر بطورِ استعمال دینے کا رواج ہو اور یہ بات معروف ہو تو پھر لڑکے والے اس کے مالک ہوں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر، ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضاً."
(كتاب النكاح، باب المهر، ج: 3، ص: 153، ط: سعید)
وفیہ أیضاً:
"والمعتمد البناء على العرف كما علمت."
(كتاب النكاح، باب المهر، ج: 3، ص: 157، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و إذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها، منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية."
(كتاب النكاح، الفصل السادس عشر فی جهاز البنت، ج:1، ص: 327، ط: دار الفکر)
دررالحکام في شرح مجلة الأحکام میں ہے:
"الهدايا التي تأتي في الختان أو الزفاف تكون لمن تأتي باسمه من المختون أو العروس أو الوالد والوالدة وإن لم يذكر أنها وردت لمن ولم يمكن السؤال والتحقيق فعلى ذلك يراعى عرف البلدة وعادتها.
(الخاتمة) إن الأشياء التي ترسل في حفلات كهذه إذا كانت تدفع عرفا وعادة على وجه البدل فيلزم القابض مثلها إذا كانت من المثليات وقيمتها إذا كانت من القيميات وإذا كان لا يرسل بمقتضى العرف والعادة على وجه البدل بل ترسل على طريق الهبة والتبرع فحكمها كحكم الهبة ولا رجوع بعد الهلاك والاستهلاك والأصل في هذا الباب هو أن المعروف عرفا كالمشروط شرطا."
(الكتاب السابع الهبة، الباب الثاني في بيان احكام الهبة، ج:2، ص: 482، ط:دار الجيل)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101705
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن