(ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ) حدیث صحیح اور ثابت ہے
سوال
آج ایک حدیث سنی: سنن ابی داؤد، کتاب الطلاق، حدیث 2194، «ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَةُ» ترجمہ: تین چیزیں ایسی ہیں کہ سنجیدگی میں بھی سنجیدہ ہیں اور مذاق میں بھی سنجیدہ ہیں: نکاح، طلاق اور رجوع۔
براہِ کرم بتائیں: کیا یہ حدیث واقعی صحیح اور نبی ﷺ سے ثابت ہے؟ کیا مسلمانوں کے لیے اس حدیث کو صحیح ماننا ضروری ہے؟ اور اس کا شرعی مفہوم کیا ہے؟
جواب
جی مذکورہ حدیث کا معنٰی اور مفہوم بالکل درست اور ثابت ہے، یہ حدیث سنن ابی داؤد، سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر حسن ہونے کا حکم لگایا ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے، اس کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ صریح الفاظ سے بیوی کو طلاق دینا، نکاح کرنا، اور طلاق صریح کے بعد بیوی سے رجوع کرنا، یہ احکامات ایسے ہیں جن میں نیت کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ خواہ مذاق میں کہے جائیں، یا قصداً اور ارادۃً کہے جائیں، ان کا حکم ثابت ہوجاتا ہے۔مولانا سعید احمد پالن پوری تحفۃ الالمعی میں اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
طلاق میں سنجیدگی اور دل لگی برابر ہیں
"جِدٌّ کے معنی ہیں: سنجید گی یعنی کوئی کلام بول کر اس کے معنی مراد لینا۔ اور ھَزْلٌ کے معنی ہیں: دل لگی، یعنی کوئی کلام بول کر اس کے معنی مراد نہ لینا، بس یونہی کوئی بات بول دینا۔ ابواب الرضاع باب ۳ میں یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ وہ معاملات جن میں اقالہ نہیں ہو سکتا یعنی جو ہونے کے بعد ختم نہیں ہو سکتے، فقہاء کی اصطلاح میں وہ یمین کہلاتے ہیں، اور جن معاملات میں اقالہ ہو سکتا ہے، فقہاء کی اصطلاح میں وہ بیوع کہلاتے ہیں ۔اب یہ قاعدہ جان لیں کہ جو باتیں ایمان کے قبیل سے ہیں ان میں سنجیدگی اور دل لگی یکساں ہیں سنجید گی تو سنجیدگی ہے ہی ، دل لگی کے طور پر کہی ہوئی بات بھی سنجیدگی ہے۔ اور جو امور از قبیل بیوع ہیں ان میں سنجیدگی : سنجیدگی ہے اور دل لگی : دل لگی ہے۔ اس حدیث میں پہلی قسم کے معاملات کی تین مثالیں دی ہیں: نکاح ، طلاق اور رجعت ۔ نبی علیہ اسلام نے فرمایا: ان میں سنجید گی تو سنجیدگی ہے، دل لگی بھی سنجیدگی ہے، اگر واقعی طلاق دینا مقصود ہے تو بھی طلاق ہوگی اور مذاق میں طلاق دی تو بھی طلاق ہو جائے گی ۔"
(ابواب الطلاق واللعان، باب ماجاء فی الجد والھزل فی الطلاق، ج:4، ص:78، ط:زمزم پبلشرز)
اور اس بات پر تمام اہلِ علم کا اجماع ہے، لہذا مذکورہ حدیث کو اور اس کے مفہوم کو صحیح ماننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
" قال القاضي: اتفق أهل العلم على أن طلاق الهازل يقع فإذا جرى صريح لفظة الطلاق على لسان العاقل البالغ لا ينفعه أن يقول: كنت فيه لاعبا أو هازلا، فيكون في ذلك إبطال أحكام الله - تعالى - فمن تكلم بشيء مما جاء ذكره في هذا الحديث لزمه حكمه وخص هذه الثلاث لتأكيد أمر الفرج (رواه الترمذي وأبو داود) : وكذا ابن ماجه على ما في الجامع الصغير بتقديم النكاح على الطلاق (وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب) قال أبو بكر الغفاري: وروي " والعتق " ولم يصح شيء منه، قال المنذري: إن أراد أنه ليس شيء منه على شرط الصحيح فكلامه صحيح، وإن أراد به أنه ضعيف ففيه نظر فإنه حسن كما قال الترمذي ذكره ميرك."
(کتاب النکاح، باب الخلع والطلاق، ج:5، ص:2140، ط:دار الفکر)
الاستذکار شرح المؤطا میں ہے:
" حدثني عبد الله قال حدثني محمد قال حدثني أبو داود قال حدثني القعنبي قال حدثني عبد العزيز بن محمد بن عبد الرحمن بن حبيب عن عطاء بن أبي رباح عن بن ماهك عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ((ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة))قال أبو عمر لا يستند هذا الحديث إلا من هذا الوجه وقد ذكر عبد الرزاق عن بن جريج عن عطاء قال يقال من نكح لاعبا أو طلق لاعبا فقد جاز ولو كان - والله أعلم - صحيحا عن عطاء لما خفي فإنه أقعد الناس بعطاء وأثبتهم فيه ولكن المعنى صحيح عند العلماء لا أعلمه يختلفون فيهوقد روي ذلك عن علي بن أبي طالب وعبد الله بن مسعود وأبي الدرداء كلهم قال ثلاث لا لعب فيهن ولا رجوع فيهن واللعب فيهن جاد النكاح والطلاق والعتق هذا معنى ما روي عنه وروي عن عمر بن الخطاب في هذا المعنى ما رواه عبد الرزاق عن الثوري عن سلمة بن كهيل عن زيد بن وهب قال أتى رجل رجلا لعابا بالمدينة فقال له أطلقت امرأتك قال نعم قال كم قال ألفا قال فرفع إلى عمر فقال أطلقت امرأتك ألفا قال نعم إنما كنت ألعب فعلاه بالدرة وقال إنما يكفيك من ذلك ثلاث وروي عن النبي عليه السلام أيضا مثله بإسناد منقطع ضعيف فأما حديث علي رضي الله عنه فرواه عنه عبد الله بن يحيى ومروان بن الحكم وحديث بن مسعود وحديث أبي الدرداء منقطعان أيضا
وقد روى الثوري وبن جريج عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب مثل حديث مالك سواء ذكره عبد الرزاق عنهما وقد رواه سعيد بن المسيب عن عمر فيما ذكره أبو بكر بن أبي شيبة قال حدثني أبو معاوية عن حجاج عن سليمان بن شجيم عن سعيد بن المسيب عن عمر قال أربع جائزات على كل أحد العتق والطلاق والنكاح والنذر وحديث مالك أصح عنه لصحة الإسناد ورواية الأئمة له كذلك وقد روى وكيع عن الضحاك قال ثلاث لا يلعب بهن النكاح والطلاق والنذور."
(کتاب النکاح، باب جامع النکاح، ج:5، ص:544، ط:دار الکتب العلمیۃ)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

