بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1448ھ 02 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات کی رقم سے راشن اور کپڑے خرید کر تقسیم کرنا، اس پر آنے والے اخراجات، اور زکات کی رقم سے نلکوپ لگوانے کا حکم


سوال

مفتی صاحب!

میں گاجی پور کا رہنے والا ہوں اور ہر رمضان میں اپنی زکات نکالتا ہوں۔ ہمارے یہاں طریقہ یہ ہے کہ:

1۔ زکات کی رقم سے چاول، ڈال، تیل وغیرہ خرید کر 500 پیکٹ بنائے جاتے ہیں، ہر پیکٹ تقریباً 1200 ٹکا کا، اور غریب لوگوں کو دے دیے جاتے ہیں؛ اسی طرح عید سے پہلے ساڑی اور لنگی خرید کر تقسیم کی جاتی ہے۔ کیا اس طرح زکات ادا ہو جائے گی؟

2۔ مال گودام سے لانے کا کرایہ، پیکٹ بنانے کے لیے مزدوروں کی اجرت اور تقسیم کے دن کا انتظام — ان سب پر تقریباً 40 ہزار ٹکا خرچ ہو جاتا ہے۔ کیا یہ خرچ بھی زکات ہی کی رقم سے کیا جا سکتا ہے؟

3۔ گاؤں کے لوگ کہتے ہیں کہ اس کے بجائے زکات کی رقم سے گاؤں میں ایک گہرا نلکوپ (ٹیوب ویل) لگوا دیں، اس سے سب کا فائدہ ہوگا اور صدقۂ جاریہ بھی ہوگا۔ کیا اس سے زکات ادا ہو جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ زکات کے ادا ہونے کے لیے تملیک شرط ہے، یعنی مستحقِ زکات کو زکات کی چیز کا مالک بنا کر دینا ضروری ہے، محض اباحت (استعمال کی اجازت) کافی نہیں؛ اور جن کاموں میں تملیک نہیں پائی جاتی، ان میں زکات کی رقم لگانے سے زکات ادا نہیں ہوتی۔ نیز مستحقِ زکات سے مراد وہ مسلمان ہے جس کی ملکیت میں ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود نہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اور وہ سید/ہاشمی نہ ہو۔

1۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس طرح مستحقِ زکات شخص کو زکات کی رقم دی جا سکتی ہے، اسی طرح زکات کی رقم سے راشن یا کپڑے خرید کر اسے مالک بنا کر دیے جا سکتے ہیں، اور ایسا کرنے سے زکات ادا ہو جائے گی۔

2۔ البتہ جتنی رقم کا راشن خریدا گیا اور مستحق کو مالک بنا کر دیا گیا، اتنی ہی رقم کی زکات ادا ہوگی؛ راشن خرید کر لانے اور منتقل کرنے کا کرایہ، پیکٹ بنانے کے لیے مزدوروں کی اجرت اور تقسیم کے انتظام وغیرہ کے اخراجات زکات کی رقم سے ادا کرنا درست نہیں، اگر ایسا کیا گیا تو جتنی رقم ان اخراجات میں صرف ہوگی اتنی زکات ادا نہیں ہوگی، وہ الگ سے ادا کرنی ہوگی۔

3۔ زکات کی رقم سے گاؤں میں نلکوپ لگوانے سے زکات ادا نہیں ہوگی، اس لیے کہ اس میں کسی کو مالک نہیں بنایا جاتا، اور تملیک زکات کا رکن ہے؛ یہی حکم مسجد کی تعمیر، پل، سڑکوں کی مرمت اور نہریں کھدوانے وغیرہ کا ہے۔ ہاں، ان کاموں میں نفلی صدقات و عطیات لگائے جا سکتے ہیں۔ اور اگر انہی کاموں میں زکات کی رقم لگانا ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ زکات کی رقم پہلے کسی مستحقِ زکات فقیر کو مالک بنا کر دے دی جائے، پھر اس سے درخواست کی جائے کہ وہ اپنی رضامندی سے یہ رقم اس کام میں لگا دے؛ اس طرح زکات دینے والے کو زکات کا ثواب ملے گا اور اس فقیر کو اس نیک کام کا۔

قرآن کریم میں ہے:

"إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل، فريضة من الله، والله عليم حكيم."

ترجمہ:

 "صدقات (یعنی زکات) تو صرف فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے لیے جو زکات کی وصولی پر مقرر ہوں اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مقصود ہو اور گردنیں چھڑانے میں اور قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کے لیے؛ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے۔"

(سورۃ التوبۃ، آیت: 60)

صحیح البخاری میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمعاذ بن جبل حين بعثه إلى اليمن: إنك ستأتي قوما أهل كتاب، فإذا جئتهم فادعهم إلى أن يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فإن هم أطاعوا لك بذلك فأخبرهم أن الله قد فرض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فإن هم أطاعوا لك بذلك فأخبرهم أن الله قد فرض عليهم صدقة تؤخذ من أغنيائهم فترد على فقرائهم، فإن هم أطاعوا لك بذلك فإياك وكرائم أموالهم."

(صحيح البخاري، كتاب الزكاة، باب أخذ الصدقة من الأغنياء وترد في الفقراء حيث كانوا، ج:2، ص:128، ط: دار طوق النجاة)

ترجمہ:

 "حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت ارشاد فرمایا: تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہلِ کتاب ہے، جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؛ پھر اگر وہ اس بات میں تمہاری اطاعت کر لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں؛ پھر اگر وہ اس میں بھی تمہاری اطاعت کر لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ (زکات) فرض کیا ہے، جو ان کے مال داروں سے لیا جائے گا اور ان کے فقیروں کو لوٹا دیا جائے گا؛ پھر اگر وہ اس میں بھی تمہاری اطاعت کر لیں تو ان کے عمدہ مالوں سے بچنا۔"

مجمع الانہر میں ہے:

"والحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء، فتكون لرب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذا التقرب."

(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الزكاة، باب المصرف، ج:1، ص:328، ط: دار الكتب)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"(منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة، فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة كذا في فتح القدير... ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين."

(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:187/188، ط: رشيدية)

وفيه أيضاً:

"وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك، كعمارة المساجد وبناء القناطر والرباطات، لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه... (والحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة."

(الفتاوى الهندية، كتاب الحيل، ج:6، ص:392، ط: رشيدية)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر، (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)... لعدم التمليك وهو الركن.

(قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، زيلعي."

(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص:344، ط: ايچ ايم سعيد كراتشي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101684

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں