
1. میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں، شرعی عذر کی وجہ سے سجدہ نہیں کر سکتا۔ اب جب میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے صف میں شریک ہوتا ہوں، اور صف میں کافی جگہ خالی ہوتی ہے، تو اس کے باوجود باقی نمازی مجھے وہاں کرسی رکھنے نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ آپ صف کے ایک کنارے پر کرسی رکھ کر نماز پڑھا کریں۔ حالانکہ صف میں کافی جگہ خالی ہوتی ہے۔ تو کیا مجھے صف میں جہاں جگہ مل جائے وہاں کرسی رکھ کر نماز پڑھنی چاہیے یا صف کے ایک نارے پر بیٹھ کر؟
2. وضو خانے میں نل کی جگہ پر، جہاں وضو کا پانی بہتا ہے اور لوگ پان وغیرہ تھوکتے ہیں، وہاں سے پونچھاگیلا کر کے مسجد میں لگانے سے کوئی خرابی تو نہیں ہے؟ یا اس کے لیے کسی الگ جگہ کا انتظام کرنا ضروری ہے؟
3. اور وضو کرتے وقت وضو خانے کی نالی پر پانی گرنے سے جو چھینٹیں (قطرے) کپڑوں وغیرہ پر لگتی ہیں، جبکہ وہاں لوگ پان تھوکتے اور ناک وغیرہ بھی صاف کرتے ہیں، تو کیا اس طرح کے کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج تو نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں شرعی عذر کی بنا پر کرسی پر نماز پڑھنے والے کے لیے بہتر اور مناسب یہی ہے کہ وہ صف کے کنارے پر کرسی رکھے تاکہ دیگر نمازیوں کو دقت نہ ہو اور صفوں کی ترتیب متاثر نہ ہو؛ تاہم اگر صف کے درمیان جگہ خالی ہو، تو وہاں بھی کرسی رکھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ البتہ نماز ختم ہونے کے بعد کرسی کو احتیاط اور شائستگی کے ساتھ اس کی مقررہ جگہ پر رکھ دینا چاہیے، تاکہ مسجد کا نظم و ضبط اور وقار برقرار رہے۔ دیگر نمازیوں کا ایسے معذور شخص کو صف کے درمیان کرسی رکھنے سے سختی کے ساتھ منع کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی معذور شخص جماعت کھڑی ہوتے وقت موجود ہو یعنی جب اقامت ہو رہی ہو اور اس وقت نمازی کم ہوں، لیکن یہ امید ہو کہ نمازی آ کر صف کی خالی جگہوں کو پُر کر لیں گے اور درمیان میں خلا باقی نہیں رہے گا، تو ایسی صورت میں معذوریں کو چاہیے کہ بدستور مسجد کے کونے میں کرسی پر بیٹھے رہیں اور اسی مقام پر کرسی پر بیٹھ کے نماز ادا کریں، بشرطیکہ وہ عذر کی بنا پر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہوں۔ اور اگر یہ امید ہو کہ مزید نمازی نہیں آئیں گے، تو ایسی صورت میں ایسا معذور شخص درمیانِ صف میں کرسی رکھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
جہاں تک وضو خانے کے پانی کا تعلق ہے، تو شرعی اصول کے مطابق وضو میں استعمال شدہ پانی (ماءِ مستعمل) پاک ہوتا ہے۔ وضو خانے کی نالی میں تھوک، ناک کی رطوبت یا پان کی پیک طبعاً گھن آنے والی چیزیں ضرور ہیں، لیکن شرعی اعتبار سے یہ ناپاک (نجس) نہیں ہیں۔ لہٰذا جب تک اس نالی میں بیت الخلاء وغیرہ کا ناپاک پانی یا کوئی اور صریح نجاست نہ گرتی ہو، اس پانی کا حکم پاک ہی رہے گا۔ اگر وضو کرتے وقت اس نالی کے پانی کی چھینٹیں اڑ کر کپڑوں پر لگ جائیں، تو اس سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے اور ان کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھنا بالکل درست ہے۔
اسی اصول کے تحت اگر وضو خانے کی مذکورہ جگہ سے پونچھاگیلا کر کے مسجد میں لگایا جائے، تو مسجد شرعاً ناپاک نہیں ہوگی اور وہاں نماز پڑھنے میں کوئی خرابی لازم نہیں آئے گی۔ تاہم چونکہ اس پانی میں تھوک اور پان وغیرہ کی آمیزش ہوتی ہے جو کہ اگر چہ نجس نہیں، لیکن طبعی کراہت کا باعث ہے، اس لیے اس پانی سے مسجد میں پونچھا لگانے سے اجتناب لازم ہے، مسجد کے تقدس، احترام اور ظاہری نظافت (صفائی ستھرائی) کا تقاضا یہ ہے کہ مسجد میں پونچھالگانے کے لیے وضو خانے کی نالی کے بجائے الگ سے صاف پانی اور صاف جگہ کا انتظام کیا جائے، تاکہ اللہ کا گھر ہر قسم کی طبعی گندگی اور کراہت سے مکمل طور پر محفوظ رہے۔
الفتاوى الهندية میں ہے:
"وينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف ولا بأس أن يأمرهم الإمام بذلك. كذا في البحر الرائق..........وأفضل مكان المأموم حيث يكون أقرب إلى الإمام فإن تساوت المواضع ففي يمين الإمام وهو الأحسن هكذا في المحيط."
(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل الثالث في بيان مقام الإمام والمأموم، ج: 1، ص: 89، ط: دار الفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"وفي البدائع ويكره التوضؤ في المسجد عند أبي حنيفة وأبي يوسف وقال محمد: لا بأس به عنده طاهر، وأما أبو يوسف؛ فلأنه يقول بنجاسته وكذا ما روي عن أبي حنيفة، وأما على رواية الطهارة عنه؛ فلأنه مستقذر طبعا فيجب تنزيه المسجد كما يجب تنزيهه عن المخاط والبلغم اهـ."
(كتاب الطهارة، باب المياه، ج: 1، ص: 102، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101675
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن