رہن پر لی ہوئی زمین کو کاشت کرکے نفع اٹھانے کا حکم
سوال
عرض یہ ہے کہ کے پی کے کے بعض علاقوں میں زمین رہن پر دیتے ہیں اور رہن پر دینے میں ان کا اپنا طریقہ اور رواج ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر زمین والوں کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اپنی زمین کسی کو دے دیتا ہے اور اس بندے سے پیسے لیتا ہے، اب مرتہن زمین کو اپنے استعمال میں لیتا ہے، یعنی زمین کو استعمال کرتا ہے۔
کبھی یہ معاملہ وقت کا تعین کیے بغیر ہوتا ہے اور کبھی پانچ سے دس سال کا وقت طے ہو جاتا ہے، یعنی مرتہن اتنے عرصے میں پیسے راہن کے حوالے کرے گا اور راہن مرتہن کو زمین حوالے کرے گا، اور جب تک مرتہن پیسے راہن کو نہیں دے گا، اس وقت تک مرتہن اس زمین کو استعمال کرتا رہتا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کی زمین گھر سے کافی دور ہے، اب یہ بندہ یعنی مالک اپنی زمین کو آباد نہیں کر سکتا، تو یہ مالکِ زمین اس زمین کو کسی کو رہن پر دیتا ہے اور راہن، مرتہن کو پیسے دیتا ہے۔ اب راہن جب چاہے اپنی زمین واپس لے سکتا ہے، لیکن جب تک مرتہن قرض واپس نہیں کرے گا، اس وقت تک مرتہن زمین کو استعمال کرتا ہے۔
اب ان صورتوں میں جائز و ناجائز کی بات کی جائے تو مرتہن اور راہن کہتے ہیں کہ ہم نے اجازت لی ہے، یعنی راہن کہتا ہے کہ ہم نے مرتہن سے کھیتی باڑی کرنے کی اجازت لی ہے۔ اگر اس طرح جائز نہیں تو ہم کچھ من گندم مرتہن کو دیں گے تاکہ جائز ہو جائیں۔ کیا رہن ان شرائط کے ساتھ جائز ہے یا ناجائز؟ اس بارے میں مفتیانِ کرام حضرات کیا فرماتے ہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں؛ قرض کے بدلے رہن پر لی ہوئی زمین کو مرتہن کا کاشت کرنا اور اس سے نفع اٹھانا سود کے حکم میں ہے، خواہ راہن نے اجازت دی ہو، اور خواہ علاقے میں اس کا رواج ہو۔ اسی طرح کچھ من گندم مرتہن کو دے دینے سے بھی یہ معاملہ جائز نہیں ہوتا۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ قرض اور زمین کے دونوں معاملات الگ الگ کیے جائیں؛ یعنی قرض بغیر کسی نفع کے دیا جائے، اور زمین کا معاملہ مستقل طور پر یا تو باقاعدہ اجارے پر ہو کہ مرتہن اجرتِ مثل ادا کرے، یا مزارعت کی صورت میں ہو، اور اس معاملے کا قرض کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو، نہ اجرت میں قرض کی وجہ سے کمی کی جائے۔
الدر المختار میں ہے:
"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن."
(کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ، مطلب کل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166، ط: سعید)
ردّ المحتار میں ہے:
"لأن المستفاد من الرهن هو الحبس دون الانتفاع، فلا يحل له الانتفاع بوجه من الوجوه."
(کتاب الرہن، ج:6، ص:482، ط: سعید)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے:
"وليس للمرتهن أن ينتفع بالرهن بوجه من الوجوه، فإن انتفع كان متعديا."
(کتاب الرہن، الباب الأول، ج:5، ص:433، ط: دارالفکر)
التلخيص الحبير میں ہے:
"رواه البيهقي في المعرفة عن فضالة بن عبيد موقوفا بلفظ: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا."
(کتاب البیوع، ج:3، ص:90، ط: دارالکتب )
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

