بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1448ھ 25 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باہمی رضامندی سے تقسیم کے ۳۳ سال بعد دعوے کا حکم


سوال

میرے دادا کی تمام جائیداد ان کے انتقال کے بعد ان کے تمام ورثاء کی رضامندی سے کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ان کے درمیان تقسیم ہوگئی، جس پر  سب ورثاء کے دستخط موجود ہیں  ۔

اب 33سال بعد ایک وارث کی بیٹی کا کہناہے کہ یہ تقسیم غلط ہوئی تھی  اور  وہ مذکورہ بیٹی کسی دوسرے وارث کے حصہ میں اپنے حق کا دعوی کررہی  ہے جبکہ ان کے والد یعنی میت کے حقیقی  بیٹے (وارث) کو اپنا مکمل حصہ ان کی رضامندی سے مل چکا تھا۔

1۔کیا اب اس بیٹی (میت کی پوتی) کو مطالبہ کا حق حاصل ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں تمام ورثاء  کی باہمی رضامندی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ترکہ کی تقسیم ہوجانے کے بعد حقیقی وارثوں  کی اولاد میں سے ایک کا تقسیم کے 33سال بعد تقسیم کے غلط ہونے کا دعوی شرعا معتبر نہیں ہوگا،کیوں کورٹ کے  فیصلہ پر رضامندی ظاہر کرکے ترکہ  کی تقسیم اگر ضابطہِ وراثت کے مطابق نہ بھی ہو تو بھی یہ تقسیم شرعا معتبر ہوتی ہے ۔

درر الحكام شرح غرر الأحكام  میں ہے:

"قسمة الرضاء هي القسمة التي تجري بين المتقاسمين ويقرأ لفظ المتقاسمين بصيغة الجمع ويصح أن يراد بالجمع معنى ما فوق الواحد كما يجوز قراءتها بالتثنية على أنها بيان لأقل مراتب الشركاء.وهي القسمة التي تجري بين جميع أصحاب الملك المشترك بالرضاء فيقسم جميع الشركاء بالرضاء أو يقسم القاضي بينهم برضائهم وقد جازت قسمة الرضاء؛ لأن للشركاء الولاية على أنفسهم وعلى أموالهم (مجمع الأنهر) ."

(باب في بيان القسمة،قسمة الرضاء،ج:3،ص:108،ط:دار إحياء الكتب العربية)

وفيه أيضا:

"مثلا لو اقتسم الشركاء الأموال المشتركة بينهم من عروض وعقارات بعضها قسمة رضاء وبعضها قسمة قضاء ثم أقروا بعد التقسيم باستيفائهم حقوقهم فلا تسمع منهم بعد ذلك دعوى الغبن الفاحش ولا تنقض القسمة (البهجة)."

(الكتاب العاشر الشركات،المادة (1126) قسمة الفضولي،ج:3،ص:117،ط:دار الجيل)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ثم شرع في مسألة التخارج) تفاعل من الخروج وهو في الاصطلاح تصالح الورثة على إخراج بعضهم عن الميراث على شيء من التركة عين أو دين قال في سكب الأنهر وأصله ما روي أن عبد الرحمن بن عوف - رضي الله تعالى عنه - طلق في مرض موته إحدى نسائه الأربع ثم مات وهي في العدة فورثها عثمان - رضي الله تعالى عنه - ربع الثمن فصالحوها عنه على ثلاثة وثمانين ألفا من الدراهم وفي رواية من الدنانير وفي رواية ثمانين ألفا وكان ذلك بمحضر من الصحابة من غير نكير اهـ....  أنهم لو أخرجوا واحدا، وأعطوه من مالهم فحصته تقسم بين الباقي على السواء وإن كان المعطى مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم قال الشارح هناك وقيده الخصاف بكونه عن إنكار فلو عن إقرار فعلى السواء اهـ فتأمله."

( كتاب الفرائض، باب المخارج، ج: 6، ص: 811، ط: دار الفكر)

تكملہ حاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"قوله: (لكن بشرط التقابض) قال في البحر: ولا يشترط في صلح أحد الورثة المتقدم أن تكون أعيان التركةمعلومة، لكن إن وقع الصلح عن أحد النقدين بالآخر يعتبر التقابض في المجلس غير أن الذي في يده بقية التركة إن كان جاحدا يكتفي بذلك القبض لأنه قبض ضمان فينوب عن قبض الصلح، وإن كان مقرا غير مانع يشترط تجديد القبض."

(کتاب الصلح، ج:8، ص:394، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144803101612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں