بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نرسری کے سامان کی ادھار خرید و فروخت میں مشترکہ نفع اور نقصان بائع پر ڈالنے کی شرط کا شرعی حکم/ اس کی متبادل جائز صورتیں

سوال

میرا نرسری کا کاروبار ہے، اور میں نرسری کا پورا سامان ادھار پر خریدتا ہوں، اور ادھار کے وقت یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ نفع میں آدھا حصہ ضرور میرا (قرض خواہ) کا ہوگا، اس لیے ہم دونوں اصل ادھار والی قیمت کے علاوہ جو فائدہ و نفع پہنچتا ہے اس میں ہم دونوں شریک ہوتے ہیں، یعنی نفع آدھا آدھا تقسیم کرتے ہیں، اور نقصان کا وہ شخص ذمہ دار ہوگا جس سے ادھار پر مال خریدا گیا ہے۔

صورتِ مسئولہ کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ سودی معاملہ ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل ادھار پر نرسری کا سامان خرید لیتا ہے، تو یہ سامان سائل کی ملکیت میں چلا جاتا ہے اور اس کی قیمت سائل کے ذمے ایک دین (قرض) بن جاتی ہے، اور اس سے جو بھی نفع و نقصان ہوگا وہ سائل کا ہی نفع و نقصان شمار ہوگا۔ البتہ بائع (قرض خواہ) کو خریدار (قرض دار/سائل) سے عقد کے وقت ادھار سامان کی مقرر شدہ قیمت کے مطالبے کا حق حاصل ہوتا ہے(1)۔

پس صورتِ مسئولہ میں باہم یہ معاہدہ کرنا کہ "نفع دونوں میں برابر تقسیم ہوگا"، قرض پر اضافی رقم اور نفع لینے کی وجہ سے شرعاً سودی معاملہ ہے۔ اسی طرح یہ شرط لگانا کہ "نقصان کا ذمہ دار وہ شخص ہوگا جس سے ادھار پر مال خریدا گیا ہے"، شرعاً جائز نہیں ہے؛ بلکہ جس طرح تمام تر نفع سائل کا حق ہے، اسی طرح تمام تر نقصان کا ذمہ دار بھی سائل ہی ہوگا(2)۔

نیز اگر اس معاملے کو "مضاربت" کا نام دیا جائے تو بھی یہ عقد شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا؛ کیونکہ مضاربت میں سرمایے کا نقد (کیش) ہونا شرط ہے، جبکہ عروض (سامان/پودوں) سے براہِ راست بغیر نقد رقم کے مضاربت درست نہیں ہوتی۔ یہاں مال ادھار بیچا جا رہا ہے جس سے یہ عقدِ بیع اور عقدِ دین بن جاتا ہے، مضاربت نہیں رہتی۔

بہر حال، مذکورہ معاہدہ شرعاً جائز نہیں ہے۔اس صورت میں خریدار صرف اصل رقم بائع یعنی بیچنے والے کو دینے کا پابند ہوگا۔

اس کی جائز اور شرعی متبادل صورتیں درج ذیل ہیں:

1۔ سائل کو نرسری کا سامان ایک متعین اور حتمی ادھار قیمت پر فروخت کر دے (خواہ یک مشت ہو یا قسط وار ہو، خواہ نقد قیمت سے کچھ زیادہ ہی باہمی رضامندی سے طے کر لیں)، اور مجلسِ عقد میں سامان کی کل قیمت اور ادائیگی کی مدت بالکل حتمی طے کر لیں۔ نیز یہ بھی طے کر لیں کہ پورا نفع و نقصان سائل کا ہوگا، اور یہ بات بھی طے رہے کہ مقررہ وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سائل سے کوئی اضافی رقم (لیٹ پیمنٹ چارجز/جرمانہ) نہیں لی جائے گی، کیونکہ تاخیر کی صورت میں اضافی رقم لینا شرعاً سود ہے(3)۔

2۔ یا نقد رقم سائل کو کامل قبضہ کے ساتھ بطورِ مضاربت دے، اور سائل اس رقم سے رب المال (سپلائر) ہی سے سامان خریدے، پھر اس سامان کو فروخت کرنے سے جو نفع ہوگا، اس میں سے دونوں باہمی رضامندی سے منافع کے تناسب یا فیصدی اعتبار سے نفع مقرر کر لیں، یعنی آدھا آدھا، تہائی، چوتھائی یا 50 فیصد وغیرہ، اس صورت میں اصل سرمایہ سائل کے ذمے قرض نہیں ہوگا، بلکہ وہ سپلائر ہی کا ہوگا، اور نفع میں دونوں شریک ہوں گے، لیکن نقصان میں سائل شریک نہیں ہوگا،بلکہ نقصان کی صورت میں حکم یہ ہے کہ نقصان اگر سائل کی کوتاہی اور زیادتی کے بغیر ہوجائے تو اس  نقصان کی تلافی اولاً حاصل شدہ نفع سےکی جائے گی،اوراگر نفع    نہ ہوا ہو ،یا نفع ہو ا ہولیکن نقصان اس سے زیادہ ہو تو پہلے نفع سے نقصان پورا کیا جائے،اس کے بعد بھی نقصان باقی ہو، تو پھر راس المال(  اصل سرمایہ) سے    اس  کی تلافی کی جائےگی،سائل   پراس کا کوئی ضمان نہیں ہوگا (4)۔

3۔ یا سامان سائل کو ادھار پر نہ دیا جائے، بلکہ سامان اصل مالک کی ہی کی ملکیت میں رہے، اور یہ معاہدہ کیا جائے کہ سائل جو بھی چیز فروخت کرے گا، اس کی محنت و عمل کے عوض سائل کو متعین کمیشن/اجرت دی جائے گی، یا سائل کو ماہانہ اجرت (تنخواہ) دی جائے گی۔ اس صورت میں تمام تر نفع و نقصان سپلائر کا ہی ہوگا اور سائل کو اس کی طے شدہ اجرت ملے گی، البتہ اگر سائل کی غفلت، تعدی یا قصور کی وجہ سے کوئی نقصان ہو تو اس نقصان کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوگی(5)۔

(1) فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ولزم تأجيل كل دين) الدين ما وجب في الذمة بعقد أو استهلاك، وما صار في ذمته دينا باستقراضه فهو أعم من القرض".

(كتاب البيوع، باب المرابحة، ج:5، ص:157، ط:دار الفكر)

(2) و فيه أيضا:

"هو لغة: مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة فكلها من الربا فيجب رد عين الربا لو قائما لا رد ضمانه لأنه يملك بالقبض قنية وبحر (خال عن عوض... بمعيار شرعي) وهو الكيل والوزن... ( مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر... (في المعاوضة)... (قوله والبيوع الفاسدة إلخ)... وحقيقة الشروط الفاسدة هي زيادة ما لا يقتضيه العقد ولا يلائمه فيكون فيه فضل خال عن العوض وهو الربا بعينه اهـ ملخصا... (قوله أي بائع أو مشتر) أي مثلا فمثلهما المقرضان والراهنان."

(كتاب البيوع، باب الربا، ج:5،ص:170، ط:دار الفكر)

اعلاء السنن میں ہے:

"جميع هذه الآثار مشتمل على المنع من منفعة جرها القرض، والنهى أصله التحريم، ولما ورد في بعضها مفسرا أن علة المنع كونها ربا والأحاديث يفسر بعضها بعضا يحمل الكل على ذلك حتما."

(رسالة كشف الدجى عن وجه الربا، ج:14، ص:566، ط:إدارة القرآن كراتشي)

الجوهرة النيرة میں ہے:

"... فالبيع فاسد... وقد نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة ونهى عن بيع وشرط و عن شرطين في بيع وعن بيع وسلف وعن ربح ما لم يضمن وعن بيع ما لم يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:1، ص:203، المطبعة الخيرية)

فتاوی قاضی خان میں ہے:

"رجل باع جارية، وقال: أبيعك هذه الجارية على أنك إن بعتها بربح، كان الربح بيننا نصفين، كان البيع فاسداً."

(كتاب البيع، فصل في الشروط المفسدة، ج:2، ص:46، ط:دار الكتب العلمية)

(3) احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"أنه معلوم أن ربا الجاهلية ‌إنما ‌كان ‌قرضا ‌مؤجلا بزيادة مشروطة، فكانت الزيادة بدلا من الأجل، فأبطله الله تعالى وحرمه وقال: {وإن تبتم فلكم رؤوس أموالكم} وقال تعالى: {وذروا ما بقي من الربا} حظر أن يؤخذ للأجل عوض...ولا خلاف أنه لو كان عليه ألف درهم حالة فقال له: أجلني وأزيدك فيها مائة درهم لا يجوز لأن المائة عوض من الأجل".

(سورة:المائدة:3، ج:1، ص:143، ط:دار الكتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: لزم كل الثمن حالا) لأن الأجل في نفسه ليس بمال، فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا، ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا، فاعتبر مالا في المرابحة احترازا عن شبهة الخيانة، ولم يعتبر مالا في حق الرجوع عملا بالحقيقة، بحر."

(كتاب البيوع،باب المرابحة، ج:5، ص:142، ط:دار الفكر)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(المادة 246) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط... ويجب أن يكون الثمن معلوما عند العاقدين."

(الكتاب الأول، الباب الثالث، الفصل الثاني، ج:1، ص:228، ط:دار الجيل)

(4) بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"(أما) الذي يرجع إلى العاقدين وهما رب المال والمضارب، فأهلية التوكيل والوكالة؛ لأن المضارب يتصرف بأمر رب المال، وهذا معنى التوكيل...(وأما) الذي يرجع إلى رأس المال فأنواع: (منها) أن يكون رأس المال من الدراهم أو الدنانير عند عامة العلماء فلا تجوز المضاربة بالعروض... (ومنها) أن يكون معلوما فإن كان مجهولا لا تصح المضاربة؛ لأن جهالة رأس المال تؤدي إلى جهالة الربح، وكون الربح معلوما شرط صحة المضاربة. (ومنها) أن يكون رأس المال عينا لا دينا، فإن كان دينا فالمضاربة فاسدة، وعلى هذا يخرج ما إذا كان لرب المال على رجل دين، فقال له: اعمل بديني الذي في ذمتك مضاربة بالنصف، إن المضاربة فاسدة بلا خلاف... (ومنها) تسليم رأس المال إلى المضارب؛ لأنه أمانة فلا يصح إلا بالتسليم.

(وأما) الذي يرجع إلى الربح فأنواع: (منها) إعلام مقدار الربح... (ومنها) أن يكون المشروط لكل واحد منهما من المضارب ورب المال من الربح جزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا."

(كتاب المضاربة، فصل في شرائط ركن المضاربة، ج:6، ص:81-85، ط:دار الكتب العلمية)

و فيه أيضا:

"ويجوز شراء رب المال من المضاربة، وشراء المضارب من رب المال، وإن لم يكن في المضاربة ربح في قول أصحابنا الثلاثة."

 (كتاب المضاربة، فصل في بيان حكم المضاربة، ج:6، ص:101، ط:دار الكتب العلمية)

(5) فتاوی شامی میں ہے:

"قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل."

(كتاب الإجارة، ج: 6، ص: 46، دار الفکر)

و فيه أيضا:

"(الأجراء على ضربين: مشترك وخاص... (ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل... (و) يضمن (ما هلك بعمله...) قال الزيلعي: وحكمهما أي المشترك والخاص أن المشترك له أن يتقبل العمل من أشخاص؛ لأن المعقود عليه في حقه هو العمل أو أثره فكان له أن يتقبل من العامة؛ لأن منافعه لم تصر مستحقة لواحد، فمن هذا الوجه سمي مشتركا والخاص لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة للمستأجر والأجر مقابل بالمنافع ولهذا يبقى الأجر مستحقا وإن نقض العمل اهـ. قال أبو السعود: يعني وإن نقض عمل الأجير رجل، بخلاف ما لو كان النقض منه فإنه يضمن...

 (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل... (قوله وإن لم يعمل) أي إذا تمكن من العمل، فلو سلم نفسه ولم يتمكن منه لعذر كمطر ونحوه لا أجر له كما في المعراج عن الذخيرة... و ليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل، فتاوى النوازل."

(کتاب الاجارۃ، باب ضمان الاجارۃ، ج:6، ص:64-70، ط:دار الفكر)

النتف فی الفتاوى للسغدی میں ہے:

"ولو استأجر ‌السمسار شهرا ليبيع له أو ليشتري بكذا من الاجر جاز ذلك."

(كتاب الاجارة، اجارة ‌السمسار، ج:2، ص:275، دار الفرقان)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده.. . ضابط: الوكيل أمين على المال الذي في يده كالمستودع. بناء عليه يلزم الوكيل الضمان في الخصوصات التي يلزم الضمان فيها الوديع... أما إذا تلف بالتعدي أو التقصير فيكون ضامنا. حتى أنه إذا تلف بعد أن امتنع الوكيل عن إعطائه للموكل بطلبه إياه منه يضمن."

(الكتاب الحادي عشر، الباب الثالث، الفصل الأول، ج:3، ص:561، المادة:1463، ط:دار الجيل)

فقط و اللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144803101575
تاریخ07-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں