بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقدِنکاح میں طے شدہ مہر فاطمی اگر کوئی پیسوں کی صورت میں دینا چاہے تو اس میں کونسی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

سوال

سن 2023ء کو میرا نکاح ہوا، اس وقت مہر میں مہر فاطمی مقرر ہوایعنی 131 تولہ اور 3 ماشہ چاندی، اس وقت کے حساب سے اس کی ٹوٹل رقم 297,000 بن رہی تھی، کیونکہ ایک تولہ چاندی کی قیمت اس وقت 2250 تھی، تو ہم نے اس کے عوض 15 گرام سونا ادا کردیا جو چاندی کے حساب سے 120تولہ چاندی کی قیمت کے برابر تھی یعنی 265,000، اور ہم نے کہا کہ بقیہ 11 تولہ چاندی بعد  میں دے دیں گے۔ 

اب میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں، سوال یہ ہے کہ میں بقیہ 11 تولہ چاندی قیمت کی صورت میں دینا چاہتا ہوں، تو کیا یہ عقد کے وقت کی قیمت کے حساب سے ادا کرنا ہوگا یا آج کی ویلیو کے حساب سے؟

جواب

صورت مسئولہ میں  11 تولہ تین ماشے چاندی کی موجودہ حساب سے جو قیمت بنتی ہے وہی ادا کرنا لازم ہے، عقد کے وقت کی قیمت کااعتبار نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وجاز) (التصرف في الثمن) بهبة أو بيع أو غيرهما لو عينا أي مشارا إليه ولو دينا فالتصرف فيه تمليك ممن عليه الدين ولو بعوض ولا يجوز من غيره ابن مالك (قبل قبضه) سواء (تعين بالتعيين)كمكيل (أو لا) كنقود فلو باع إبلا بدراهم أو بكر بر جاز أخذ بدلهما شيئا آخر (وكذا الحكم في كل دين قبل قبضه كمهر وأجرة وضمان متلف) وبدل خلع وعتق بمال وموروث وموصى به.والحاصل: جواز التصرف في الأثمان والديون كلها قبل قبضها عيني."

( كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، مطلب في بيان الثمن والمبيع والدين، ج: 5، ص: 152، ط: سعيد)

وفیہ أیضاً:

"مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالهاقلت: والجواب الواضح أن يقال قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها أي إذا دفع الدين إلى دائنه ثبت للمديون بذمة دائنه مثل ما للدائن بذمة المديون فيلتقيان قصاصا."

 ( كتاب الأيمان، باب اليمين في الأكل والشرب واللبس والكلام، ج: 7، ص: 789، ط: سعيد)

البحرالرائق میں ہے:

"فالحاصل أن الاعتبار ليوم العقد في حق التسمية وليوم القبض في حق دخوله في ضمانها."

( كتاب النكاح، باب المھر، ج: 3، ص: 153، دارالكتاب الإسلامي)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"الجواب حامدًا ومصلیاً:

جب زرِ خالص کی مخصوص مقدار کو مہر قرار دیا کیا گیا ہے تو اس کا ادا کرنا واجب ہے، اگر سونا ادا نہ کیا جاۓ بلکہ اس کی قیمت دی جاۓ تو گویا اب اس زرِ خالص کو- جس کی زوجہ مستحق ہے-شوہر اس سے حکماً خرید کر قیمت دے رہا ہے تو اب جو قیمت ہوگی اس کے اعتبار سے معاملہ ہوگا، یہ دوسری بات ہے کہ بیوی کم قیمت لے لے، اس صورت میں گویا بیوی نے اتنی مقدار معاف کردیا۔"

( کتاب النکاح، باب المہر، ج: 12، ص: 58، ط: ادارہ الفاروق)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101533
تاریخ11-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں