بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1448ھ 25 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحومہ کی کل مال کی وصیت پر ورثاء کی رضامندی کا شرعی حکم


سوال

میری والدہ نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ ان کے پاس چاندی ہے، انہوں نے کہا کہ اس کو بیچ کر پوری رقم مسجد میں دے دینا۔ ورثاء میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، جبکہ شوہر اور والدین کا ان سے پہلے انتقال ہوچکا تھا۔

مرحومہ کی مذکورہ وصیت کو نافذ کرنے کے لیے کسی وارث کو کوئی اعتراض نہیں ہے، سب ورثاء، بیٹے اور بیٹیاں چاہتے ہیں کہ مذکورہ چاندی بیچ کر مسجد میں صدقۂ جاریہ کردی جائے، تاکہ اس کا ثواب مرحومہ کو پہنچتا رہے۔

تو کیا والدہ کی مذکورہ وصیت شرعامعتبر ہے؟ اور اسے نافذ کرنے کے لیے تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے پوری رقم مسجد میں دینا جائز ہے یا نہیں؟

نیز اگر چاندی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق تولنے کے بعد جتنی رقم بن جائے، وہ ہم اپنی جیب سے ادا کردیں، اور چاندی کو نہ بیچیں بلکہ یوں ہی گھر میں بطورِ نشان رکھ دیں تو شریعت میں اس کی اجازت ہے؟

نیز گزشتہ تین سال کے روزے والدہ اپنی بیماری اور عاجزی کی وجہ سے نہیں رکھ سکیں، تو شرعاان کے روزوں کا فدیہ کس طرح ادا کیا جائے گا؟ اور فدیے کی رقم کسی مسکین یا غریب کو دینا ضروری ہوگا یا مسجد میں دینا جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحومہ کے تمام ورثاء اگر عاقل بالغ ہیں اور مرحومہ کی وصیت کے مطابق ان کی متروکہ چاندی فروخت کر کے حاصل شدہ رقم صدقہ جاریہ کے طور مسجد میں دینے پر آمادہ بھی ہیں، تو ایسا کرنا جائز ہوگا، اور چاندی چاہے بازار میں فروخت کی جائےیا گھر کا کوئی فرد یا سب افراد مل کر  مارکیٹ ریٹ کے اعتبارسے خرید لیں، اور نقدی مسجد میں دے دیں، دونوں باتوں کی اجازت ہے، البتہ اگر ورثاء میں کوئی نابالغ ہو، یا والدہ کی وصیت پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار نہ ہوتو مرحومہ  کی متروکہ چاندی سے اس کا وراثتی حصہ نکال کر بقیہ چاندی کی قیمت صدقہ جاریہ کے لیے مسجد میں دینے کی اجازت ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية."

(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج: 6، ص: 90، ط: دارالفکر بیروت)

وفیه أیضا:

"وكل ما جاز بإجازة الوارث فإنه يملكه المجاز له من قبل الموصي عندنا حتى يتم بغير قبض، ولا يمنع الشيوع صحة الإجازة وليس للوارث أن يرجع فيه، كذا في الكافي. ... ولو أجاز البعض ورد البعض يجوز على المجيز بقدر حصته وبطل في حق غيره، كذا في الكافي وفي كل موضع يحتاج إلى الإجازة إنما يجوز إذا كان المجيز من أهل الإجازة نحو ما إذا أجازه وهو بالغ عاقل صحيح، كذا في خزانة المفتين."

(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج: 6، ص: 91، ط: دارالفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101517

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں