
آج کل کرکٹ میچ پر بکی(شرط لگوانے والے شخص) کے ذریعے پیسے لگا کر پیسے کمائے جاتے ہیں۔
طریقہ تقریباً یہ ہوتا ہے کہ دونوں ٹیموں کے ریٹس کھیل کے دوران اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں، بظاہر ہارنے والی ٹیم کا ریٹ کم ہوتا ہے، یعنی تھوڑے پیسے لگانے پر زیادہ پیسے ملتے ہیں؛ مثلاً ایک ہزار روپے لگانے پر پندرہ سو، دو ہزار یا ایک لاکھ روپے ملتے ہیں، (یہ ریٹ پر منحصر ہوتا ہے)۔ اور بظاہر جیتنے والی ٹیم کا ریٹ زیادہ ہوتا ہے، یعنی زیادہ پیسے لگانے پر کم پیسے ملتے ہیں؛ مثلاً ایک ہزار روپے پر آٹھ سو، چھ سو یا تین سو روپے ملتے ہیں، (یہ بھی ریٹ پر منحصر ہوتا ہے)۔
اس کے علاوہ ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جتنے پیسے لگائے جائیں، اتنے ہی ملتے ہیں، یعنی اگر ایک ہزار روپے لگائے تو دو ہزار روپے ملیں گے، ہزار روپے کے ساتھ ہزار روپے۔
یہ عمل قرآن و حدیث کی روشنی میں کیسا ہے؟
کیا یہ جوے کے زمرے میں آتا ہے یا سود کے زمرے میں؟
صورتِ مسئولہ میں کرکٹ میچ پر بکی (شرط لگوانے والے شخص) کے ذریعہ یا از خود پیسے لگا کر ہار جیت پر نفع یا نقصان حاصل کرنا شرعاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، یہ عمل جوا (قمار) کے زمرے میں آتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ جل جلالہ کا ارشاد ہے:
"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ."
ترجمہ:اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو ۔(ماًخوذ ازبیان القرآن)
المحیط البرہانی میں ہے:
ــ"فإذا كان المال مشروطا من الجانبين كان قمارا، والقمار حرام، ولأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز."
(كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل السابع في المسابقة، ج:5، ص:323، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101508
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن