بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1448ھ 22 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدارس کے طلبہ کو قرآن خوانی کے لیے لے جانے اور کھانا کھلانے کا حکم۔ مدرسہ کی طالبات کے ذریعے خواتین کی قرآن خوانی کروانے کا حکم


سوال

بعض مدارس میں لوگوں کے کہنے پر طلبہ کرام کو قرآن خوانی کے لیے روانہ کیا جاتا ہے، قرآن خوانی کرنا پھر اس کے عوض میں گھر والوں کی طرف سے کھانے کا انتظام کرنا اور طلبہ کا اس کھانے کو کھانا جائز ہے یا نہیں ہے؟

 اسی طرح خواتین کا قرآن خوانی میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

خواتین کی قرآن خوانی سے مراد یہ ہے کہ بنات کے مدرسے کی بچیوں کا عورتوں کے درمیان بیٹھ کر قرآن پڑھنا پھر کھانا کھانا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت خیر و برکت کا ذریعہ اور بڑی نیکیوں میں سے ہے، اور تلاوت کا ثواب دوسرے لوگوں، خصوصاً مرحومین کو ایصال کیا جاسکتا ہے، لہٰذا ایصالِ ثواب یا برکت کے حصول کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا درست ہے، تاہم کسی کے انتقال کے بعد ایصالِ ثواب کے لیے مسجد یا مدرسہ سے طلبہ کو بلاکر گھر میں اجتماعی قرآن خوانی کرانے کی صورت میں چند امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:

1۔ قرآن خوانی کی اجرت کا لین دین نہ ہو اور نہ ہی قرآن پڑھنے والوں کو کھانا کھلانے پلانے کا التزام کیا جائے۔

2۔ کسی خاص دن، مثلاً انتقال کے تیسرے، ساتویں، دسویں یا چالیسویں دن، یا سالانہ برسی وغیرہ کی تخصیص نہ کی جائے، اسی طرح پندرہویں شعبان، دسویں محرم وغیرہ کسی خاص تاریخ کو قرآن خوانی کے لیے مخصوص نہ کیا جائے۔

3۔ قرآن خوانی کے لیے کسی خاص ہیئت یا طریقے کی تخصیص نہ کی جائے، مثلاً کھانا سامنے رکھ کر چاروں قل یا مخصوص آیات پڑھنا، یا کسی خاص سورت، مثلاً سورۂ اخلاص یا سورۂ انعام وغیرہ کی تخصیص کرنا۔

4۔ طلبہ کے علاوہ دیگر لوگوں کی شرکت برادری کے دباؤ، بدنامی کے خوف یا محض رسم کی پابندی کی وجہ سے نہ ہو، اور شرکت نہ کرنے والوں پر طعن و تشنیع بھی نہ کی جائے۔

5۔ قرآن خوانی میں شریک ہونے والوں کا مقصد محض رضائے الٰہی اور ایصالِ ثواب ہو، کھانا پینا، نمود و نمائش، ریا، شہرت یا حصولِ جاہ و منصب مقصود نہ ہو۔

6۔ قرآنِ کریم کی تلاوت صحیح طریقے سے کی جائے، جلدی جلدی قرآن مکمل کرنے کی غرض سے غلط تلاوت نہ کی جائے۔

لہٰذا مذکورہ امور کی رعایت کرتے ہوئے اگر ایصالِ ثواب کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے تو اس کا ثواب میت کو ایصال کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر قرآن خوانی کے عوض اجرت لی جائے تو پڑھنے والے کو تلاوت کا ثواب نہیں ملتا، چہ جائے کہ وہ اس ثواب کو میت کو ایصال کرے۔

البتہ اگر کسی دکان یا مکان میں برکت کے حصول کے لیے، یا کسی مریض کے علاج کی غرض سے قرآنِ کریم کی تلاوت کروائی جائے تو اس کے عوض کچھ دینا یا لینا، خواہ پہلے سے طے شدہ ہو یا تلاوت کروانے والا اپنی طرف سے دے، اس کی گنجائش ہے، کیوں کہ بخاری شریف میں روایت ہے کہ ایک موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا سفر میں کسی علاقے سے گزر ہوا تو ان لوگوں نے اپنے بیمار پر دم کرنے کا مطالبہ کیا، ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اجرت کی شرط پر دم کرنے کی ہامی بھر لی جسے ان لوگوں نے قبول کر لیا، چناں چہ جب صحابی رجی اللہ عنہ نے اس بیمار پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے شفا مل گئی تو ان لوگوں نے دم کرنے والے صحابی کو بطور اجرت بکریوں کا ایک ریوڑ دے دیا، سفر سے واپسی پر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے حضور ﷺ کو سارا واقعہ سنایا تو آپ ﷺ نے دم کرنے کے عوض اجرت لینے سے منع نہیں فرمایا، بلکہ اس کی اجازت دے دی۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کسی کے انتقال کے بعد ایصالِ ثواب کے لیے مدارس کے طلبہ کو گھر لے جاکر قرآن خوانی کروائی جائے اور پھر قرآن پڑھنے کے عوض ان کے لیے کھانے کا انتظام کیا جائے تو ایسا کرنا جائز نہیں، اور طلبہ کے لیے بھی اس قرآن خوانی کے عوض کھانا کھانا جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر کسی دکان یا مکان میں برکت کے حصول کے لیے یا کسی مریض کے علاج کی غرض سے طلبہ سے قرآنِ کریم پڑھوایا جائے اور اس کے عوض کھانا کھلایا جائے تو اس صورت میں کھانا کھلانا بھی جائز ہوگا اور طلبہ کے لیے وہ کھانا کھانا بھی جائز ہوگا۔

خواتین کی قرآن خوانی کا بھی یہی حکم ہے، یعنی اگر خواتین آپس میں جمع ہوکر مذکورہ بالا شرائط کی رعایت کرتے ہوئے محض تلاوت اور ایصالِ ثواب کی غرض سے قرآنِ کریم پڑھیں تو اصلِ قرآن خوانی جائز ہے، البتہ اگر قرآن خوانی کے عوض کھانے کا التزام ہو تو اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو اوپر بیان ہوا۔

البتہ خواتین کا قرآن خوانی کے لیے اپنے گھروں سے نکل کر کسی دوسرے مقام پر جمع ہونے، اسی طرح مدرسہ کی طالبات کا قرآن خوانی کے لیے مدرسے سے کسی کے گھر جانے سے چوں کہ فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اس لیے یہ امور جائز نہیں، لہٰذا خواتین کی قرآن خوانی کی ایسی صورتوں سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

 باقی مدارس کے طلبہ اور طالبات مدرسہ میں پڑھنے کے لیے آتے ہیں، قرآن خوانی کے لیے نہیں، اس لیے ان سے تعلیم کے علاوہ مدرسہ میں قرآن خوانی کا کام نہیں لینا چاہیے۔

حدیث میں ہے :

"عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ‌أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد."

(مشکاۃ المصابیح، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الاول، ج:1، ص:51، ط:المکتب الاسلامی)

"سنن أبي داؤد"میں ہے :

"سمعت عكرمة يقول: كان ابن عباس يقول: إن النبي صلى الله عليه وسلم ‌نهى ‌عن ‌طعام ‌المتباريين ‌أن ‌يؤكل."

(كتاب الأطعمة، باب في طعام المتباريين،رقم الحديث:3754، ج:5، ص:581، ط:دار الرسالة العالمية)

فتاوی شامی میں ہے :

"فمن جملة كلامه قال تاج الشريعة في شرح الهداية: إن القرآن بالأجرة لا يستحق الثواب لا للميت ولا للقارئ. وقال العيني في شرح الهداية: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان. فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون - اهـ.وقد اغتر بما في الجوهرة صاحب البحر في كتاب الوقف وتبعه الشارح في كتاب الوصايا حيث يشعر كلامها بجواز الاستئجار على كل الطاعات ومنها القراءة.وقد رده الشيخ خير الدين الرملي في حاشية البحر في كتاب الوقف حيث قال: أقول المفتى به جواز الأخذ استحسانا على تعليم القرآن لا على القراءة المجردة كما صرح به في التتارخانية حيث قال: لا معنى لهذه الوصية ولصلة القارئ بقراءته؛ لأن هذا بمنزلة الأجرة والإجارة في ذلك باطلة وهي بدعة ولم يفعلها أحد من الخلفاء، وقد ذكرنا مسألة تعليم القرآن على استحسان اهـ يعني الضرورة ولا ضرورة في الاستئجار على القراءة على القبر.وفي الزيلعي وكثير من الكتب: لو لم يفتح لهم باب التعليم بالأجر لذهب القرآن فأفتوا بجوازه ورأوه حسنا فتنبه اهـ كلام الرملي.

وما في التتارخانية فيه رد على من قال: لو أوصى لقارئ يقرأ على قبره بكذا ينبغي أن يجوز على وجه الصلة دون الأجر، وممن صرح ببطلان هذه الوصية صاحب الولوالجية والمحيط والبزازية، وفيه رد أيضا على صاحب البحر حيث علل البطلان بأنه مبني على القول بكراهة القرآن على القبر وليس كذلك، بل لما فيه من شبه الاستئجار على القراءة كما علمت، وصرح به في الاختيار وغيره، ولذا قال في الولوالجية ما نصه: ولو زار قبر صديق أو قريب له وقرأ عنده شيئا من القرآن فهو حسن، أما الوصية بذلك فلا معنى لها ولا معنى أيضا لصلة القارئ؛ لأن ذلك يشبه استئجاره على قراءة القرآن وذلك باطل ولم يفعل ذلك أحد من الخلفاء اهـ إذ لو كانت العلة ما قاله لم يصح قوله هنا فهو حسن، وممن أفتى ببطلان هذه الوصية الخير الرملي كما هو مبسوط في وصايا فتاواه فراجعها.

ونقل العلامة الخلوتي في حاشية المنتهى الحنبلي عن شيخ الإسلام تقي الدين ما نصه: ولا يصح الاستئجار على القراءة وإهدائها إلى الميت؛ لأنه لم ينقل عن أحد من الأئمة الإذن في ذلك. وقد قال العلماء: إن القارئ إذا قرأ لأجل المال فلا ثواب له فأي شيء يهديه إلى الميت، وإنما يصل إلى الميت العمل الصالح، والاستئجار على مجرد التلاوة لم يقل به أحد من الأئمة، وإنما تنازعوا في الاستئجار على التعليم اهـ بحروفه، وممن صرح بذلك أيضا الإمام البركوي قدس سره في آخر الطريقة المحمدية فقال: الفصل الثالث في أمور مبتدعة باطلة أكب الناس عليها على ظن أنها قرب مقصودة إلى أن قال: ومنها الوصية من الميت باتخاذ الطعام والضيافة يوم موته أو بعده وبإعطاء دراهم لمن يتلو القرآن لروحه أو يسبح أو يهلل له وكلها بدع منكرات باطلة، والمأخوذ منها حرام للآخذ، وهو عاص بالتلاوة والذكر لأجل الدنيا اهـ ملخصا.

وذكر أن له فيها أربع رسائل. فإذا علمت ذلك ظهر لك حقيقة ما قلناه وأن خلافه خارج عن المذهب وعما أفتى به البلخيون وما أطبق عليه أئمتنا متونا وشروحا وفتاوى، ولا ينكر ذلك إلا غمر مكابر أو جاهل لا يفهم كلام الأكابر، وما استدل به بعض المحشين على الجواز بحديث البخاري في اللديغ فهو خطأ؛ لأن المتقدمين المانعين الاستئجار مطلقا جوزوا الرقية بالأجرة ولو بالقرآن كما ذكره الطحاوي؛ لأنها ليست عبادة محضة بل من التداوي. وما نقل عن بعض الهوامش وعزى إلى الحاوي الزاهدي من أنه لا يجوز الاستئجار على الختم بأقل من خمسة وأربعين درهما فخارج عما اتفق عليه أهل المذهب قاطبة. وحينئذ فقد ظهر لك بطلان ما أكب عليه أهل العصر من الوصية بالختمات والتهاليل مع قطع النظر عما يحصل فيها من المنكرات التي لا ينكرها إلا من طمست بصيرته، وقد جمعت فيها رسالة سميتها شفاء العليل وبل الغليل في حكم الوصية بالختمات والتهاليل وأتيت فيها بالعجب العجاب لذوي الألباب، وما ذكرته هنا بالنسبة إليها كقطرة من بحر أو شذرة من عقد نحر، وأطلعت عليها محشي هذا الكتاب فقيه عصره ووحيد دهره السيد أحمد الطحاوي مفتي مصر سابقا فكتب عليها وأثنى الثناء الجميل، فالله يجزيه الخير الجزيل، وكتب عليها غيره من فقهاء العصر."

(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في الاستئجار على الطاعات، ج:6، ص:56، 57، ط:سعيد)

وفيه أيضا:

"وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره.وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی الثواب علی المعصیة، ج:2، ص:240، ط:سعید)

وفيه أيضا:

"ويقرأ من القرآن ما تيسر له  من الفاتحة ... ثم يقول: اللهم أوصل ثواب ما قرأناه إلي فلان أو إليهم."

(كتاب الصلوة، باب صلوة الجنازة، ج:2، ص:243، ط:سعيد)

وفيه أيضا:

 "الحاصل ان اتخاذ الطعام عند قرأة القرآن لأجل الأكل يكره."

(كتاب الصلوة، باب صلوة الجنازة، مطلب في كراهية الضيافة من أهل الميت، ج:2، ص:243، ط:سعيد)

"بدئع الصنائع في ترتيب الشرائع"ميں ہے:

"من ‌صام ‌أو ‌صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات أو الأحياء جاز ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة وقد صح عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه ضحى بكبشين أملحين: أحدهما: عن نفسه، والآخر: عن أمته ممن آمن بوحدانية الله تعالى وبرسالته صلى الله عليه وسلم."

(كتاب الحج، فصل نبات الحرم، ج:2، ص:212، ط:دار الكتب العلمية)

"شرح عقود رسم المفتي" میں ہے:

"بل الضرر صار في الاستئجار عليه،حيث صار القرآن مكسباّ وحرفة يتجر بها، وصار القارئ منهم لايقرأ شيئاّ لوجه الله تعالى خالصاّ، بل لايقرأ إلا للأجرة، وهو الرياء المحض الذي هو ارادة العمل لغير الله تعالى،فمن أين يحصل له الثواب الذي طلب المستأجر أن يهديه لميتة؟"

(لزوم المراجعة إلي المأخذ الأصلي و عدم الإعتماد على المأخذ الثانوي، ص:15، ط:مكتبة البشرى) 

«مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» میں ہے:
"وعن ابن عباس «أن نفرا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مروا بماء فيهم لديغ أو سليم فعرض لهم رجل من أهل الماء فقال: هل فيكم من راق إن في الماء رجلا لديغا أو سليما، فانطلق رجل منهم فقرأ بفاتحة الكتاب على شاء فبرأ، فجاء بالشاء إلى أصحابه فكرهوا ذلك، وقالوا: أخذت على كتاب الله أجرا، حتى قدموا المدينة فقالوا: يا رسول الله أخذ على كتاب الله أجرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله» . رواه البخاري، وفي رواية " «أصبتم اقسموا واضربوا لي معكم سهما» ".

والحاصل أنه قال ذلك الرجل لهم: أنا أرقي هذا اللديغ بشرط أن تعطوني كذا رأسا من الغنم فرضوا فقرأ عليه فاتحة الكتاب بناء على ما ورد: فاتحة الكتاب شفاء من السم فبرأ ببركة كلام الله، قيل: كانت ثلاثين غنما وهم ثلاثون نفرا (فجاء بالشاء إلى أصحابه فكرهوا ذلك) أي: أخذه (وقالوا) أخذت على كتاب الله أجرا؟) أي: وكانوا ينكرون عليه (حتى قدموا) قال الطيبي: " متعلق بقوله: قالوا أخذت على كتاب الله، ومعناه لا يزالون ينكرون عليه في الطريق حتى قدموا المدينة (فقالوا: يا رسول الله) فالغاية أيضا داخلة في المغيا كما في مسألة السمكة (أخذ) أي: الرجل (على كتاب الله أجرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أحق ما أخذتم عليه أجرا) أي: أيها الأمة (كتاب الله) قال القاضي: " فيه دليل على جواز الاستئجار لقراءة القرآن والرقية به وجواز أخذ الأجرة على تعليم القرآن، وذهب قوم إلى تحريمه، وهو قول الزهري وأبي حنيفة وإسحاق رحمهم الله واحتجوا بالحديث الآتي عن عبادة بن الصامت في شرح السنة. في الحديث دليل على جواز الرقية بالقرآن وبذكر الله وأخذ الأجرة عليه لأن القراءة من الأفعال المباحة، وبه تمسك من رخص بيع المصاحف وشراءها وأخذ الأجرة على كتابتها وبه قال الحسن، والشعبي، وعكرمة، وإليه ذهب سفيان، ومالك والشافعي، وأصحاب أبي حنيفة رحمهم الله (رواه البخاري، وفي رواية) أي: له على ما هو الظاهر (أصبتم) أي: فعلتم صوابا (اقسموا) بهمز وصل وكسر سين قال النووي رحمه الله: وهو من باب المروآت والتبرعات ومواساة الأصحاب والرفاق، وإلا فجميع الشاء ملك للراقي (واضربوا) أي: اجعلوا (لي معكم سهما) أي: نصيبا منها، قاله تطيبا لقلوبهم ومبالغة في تعريفهم أنه حلال لا شبهة فيه."

(كتاب البيوع، باب الإجارة،الفصل الأول، ج:5، ص:1992، ط:دار الفكر، بيروت)

الاعتصام للشاطبي  میں ہے:

"وقوله في الحد: " تضاهي الشرعية " يعني أنها تشابه الطريقة الشرعية من غير أن تكون في الحقيقة كذلك، بل هي مضادة لها من أوجه متعددة:

منها: وضع الحدود كالناذر للصيام قائما لا يقعد ... ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة ... ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة ... وثم أوجه تضاهي بها البدعة الأمور المشروعة، فلو كانت لا تضاهي الأمور المشروعة لم تكن بدعة، لأنها تصير من باب الأفعال العادية. وأيضا فإن صاحب البدعة إنما يخترعها ليضاهي بها السنة حتى يكون ملبسا بها على الغير أو تكون هي مما تلتبس عليه بالسنة، إذ الإنسان لا يقصد الاستتباع بأمر لا يشابه المشروع، لأنه إذ ذاك لا يستجلب به في ذلك الابتداع نفعا ولا يدفع به ضررا ولا يجيبه غيره إليه."

( الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها،ج:1، ص:53، ط:دار ابن عفان، السعودية)

کفایت المفتی میں ہے:

"قرآن مجید افضل الاذکار اور اس کی تلاوت افضل الاشغال ہے اور تلاوت قرآن مجید فردا فردا یا اتفاقیہ اجتماع کے ساتھ کرنا جائز ہے اور اگر تعلیم قرآن مجید مقصود ہو خواہ الفاظ سکھانا مقصود یا تجوید یا معانی و مطالب قرآنیہ تو اجتماع کا اہتمام کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں  کہ روزانہ یا دوسرے روز یا ہفتہ میں ایک بار مثلا سکھانے والا لوگوں کو جمع کر کے سکھا دیا کرے جیسا کہ سلفا و خلفا تعلیم قرآن کی مجالس قائم کرنا مسلمانوں کا معمول ہے لیکن اگر تعلیم مقصود نہ ہو بلکہ محض تلاوت بقصد قربت و بہ نیت مثوبت مقصود ہے تو اس کے لیے اہتمام کرنا اور مجلس منعقد کرنا شریعت سے ثابت نہیں پھر اس کے اندار اور شرائط و قیود کا اضافہ بھی ہو تو بدعت ہوجائے گا جب کہ محض تلاوت قرآن مجید کا ثواب حاصل کرنا ہو تو اس کے لئے بہترین صورت یہ ہے کہ تنہا اپنے حضور قلب کے اوقات میں جس قدر بخشوع و دل بستگی کر سکے کر لیا کرے کہ یہی طریقہ سلف صالحین یعنی صحابہ کرام  اور حضرات تابعین و ائمہ مجتہدین کا  طریقہ تھا "والخير كله في اتباعهم " یعنی بھلائی تمام کی تمام انہیں حضرات کے اتباع میں ہے الخ۔"

(الحظر و الاباحۃ، ج:9، ص:54، ط:دار الاشاعت)  

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

ایصال ثواب وغیرہ کے ختم قرآن پر شیرینی

"الاستفتاء ٨١٤ : یہاں کا رواج ہے لوگ علماء، حفاظ اور کچھ علوم دین جاننے والے لوگوں سے ختم قرآن، ختم خواجگان یا اس کے علاوہ اور کسی قسم کا ختم کراتے ہیں اور ایصال ثواب یا اپنے مقاصد کی دعائیں کراتے ہیں، پڑھنے والوں کو کھانا بھی کھلاتے ہیں اور کچھ روپے پیسے بھی دیتے ہیں، یہ رواج شرعا کیسا ہے؟

روپے پیسے لینا دینا کیسا ہے؟

اہل استطاعت اس قسم کے پیسے لے سکتے ہیں یا نہیں؟

نیز کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً و مصلياً:

ایصال ثواب کے لئے قرآن پاک ختم کرا کے بطور معاوضہ کھانا کھلانا درست نہیں، اس سے ثواب نہیں ہوتا بلکہ گناہ ہوتا ہے، علامہ شامی نے اس کی تصریح کی ہے۔

اہل استطاعت اور فقراء کسی کو بھی ایسا کھانا کھلانا اور پیسے لینا درست نہیں، مگر دیگر مقاصد مثلا مقدمات کی کامیابی کے لیے اگر ختم کرایا جائے اور کھانا کھلایا جائے یا پیسے دیئے جائیں تو یہ درست ہے، یہاں ختم سے مقصود تحصیل ثواب نہیں بلکہ دوسرا کام مقصود ہے۔ واللہ سبحانہ تعالی اعلم."

(باب البدعات والرسوم،ج:3، ص:85، ط: فاروقیہ)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ "آپ کے مسائل اور ان کا حل" میں لکھتے ہیں:

"ایصالِ ثواب   کے لیے قرآن خوانی جائز ہے، بشرط یہ کہ  اس میں چند اُمور کا لحاظ رکھا جائے:

اوّل:یہ کہ جو لوگ بھی قرآن خوانی میں شریک ہوں، ان کا مطمحِ نظر محض رضائے الٰہی ہو، اہلِ میّت کی شرم اور دِکھاوے کی وجہ سے مجبور نہ ہوں، اور شریک نہ ہونے والوں پر کوئی نکیر نہ کی جائے، بلکہ انفرادی تلاوت کو اجتماعی قرآن خوانی پر ترجیح دی جائے کہ اس میں اِخلاص زیادہ ہے۔

دوم:یہ کہ قرآنِ کریم کی تلاوت صحیح کی جائے، غلط سلط نہ پڑھا جائے، ورنہ اس حدیث کا مصداق ہوگا کہ: ’’بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے۔

سوم:یہ کہ قرآن خوانی کسی معاوضہ پر نہ ہو، ورنہ قرآن پڑھنے والوں ہی کو ثواب نہیں ہوگا، میّت کو کیا ثواب پہنچائیں گے؟ ہمارے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ قرآن خوانی کے لیے دعوت کرنا اور صلحاء و قراء کو ختم کے لیے یا سورہٴ انعام یا سورہٴ اِخلاص کی قرأت کے  لیے جمع کرنا مکروہ ہے۔ (فتاویٰ بزازیہ)"

(میت کے احکام، ایصالِ ثواب، میّت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانے کا صحیح طریقہ، ج:4، ص:429، ط:مکتبہ لدھیانوی)

جامعہ کے سابقہ فتاویٰ میں مفتی رضاء الحق صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں:

"بصورتِ مسئولہ اگر ختمِ قرآنِ کریم کسی مکان میں برکت یا کسی بیمار کی صحت کے لیے ہے تو اس پر رقم مقرر کرنا یا بغیر مقرر کیے ہوئے لینا جائزہے، اور یہ حدیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے بیمار کو دم کرنے پر تیس بکریوں کا ریوڑ مقرر کیا تھا، آں حضور ﷺ نے بھی انکار نہیں فرمایا تھا، بلکہ اس کو نافذ فرمادیا تھا، اس طرح کے دو واقعات بندہ کی نظر سے بحوالہ احادیث گزرے ہیں۔

اس سے معلوم ہواکہ جو ختم شفاءِ مریض یا برکت کے لیے ہو تو اس پر روپیہ مقرر کرنا جائزہے۔ بغیر مقرر کیے اگر دے دیے جائیں اور جھگڑا اور اختلاف اور نزاع نہ ہو تو جائزہے، لیکن اگر نزاع ہو اور ختم پڑھنے کے بعد کھینچا تانی ہو تو یہ عمل جائز نہیں، بلکہ دین اور قرآن کا استخفاف اور بے ادبی ہے۔۔۔ الخ."

کتبہ: رضاء الحق (24/1/1402)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101485

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں