بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیشگی رقم دے کر آنے والی فصل خریدنے (بیعِ سلم) کی شرائط

سوال

ہمارے علاقے میں دھان اور آم کا کاروبار کرنے والے بہت سے لوگ فصل آنے سے کئی مہینے پہلے کسانوں کو نقد رقم دے دیتے ہیں، اور طے کر لیتے ہیں کہ فصل اترنے پر بازار کے مقابلے میں کم قیمت پر مال دینا ہو گا، جسے ہمارے یہاں ”دادن“ کہا جاتا ہے۔ کبھی رقم کا کچھ حصہ اُسی وقت دیا جاتا ہے اور باقی بعد میں۔ اور بعض معاملات میں یہ طے ہوتا ہے کہ ”فلاں کھیت کی جو فصل ہو گی وہ ساری میری“۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح پیشگی رقم دے کر آنے والی فصل خریدنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر جائز ہو تو اس کے لیے کیا شرائط ہیں؟

جواب

جو چیز موجود نہ ہو یا بیچنے والے کے قبضے میں نہ ہو، اس کی خرید و فروخت جائز نہیں؛ اسی بنا پر درختوں پر پھل ظاہر ہونے سے پہلے، یا زمین میں فصل اگنے سے پہلے اسے فروخت کرنا مبیع کے معدوم ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ تاہم لوگوں کی حاجت کے پیشِ نظر شریعت نے  ”بیعِ سلم“ کی اجازت دی ہے، یعنی یہ کہ قیمت نقد ادا کر دی جائے اور مال مقررہ مدت کے بعد وصول کیا جائے؛ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ تشریف لانے پر لوگوں کو کھجور میں سلم کا معاملہ کرتے دیکھا تو اسے منع نہیں فرمایا، بلکہ ارشاد فرمایا کہ جو کسی چیز میں سلم کرے وہ متعین ناپ، متعین وزن اور متعین مدت کے ساتھ کرے۔

اس اجازت کا دار و مدار انہی قیود پر ہے جو حدیث میں مذکور ہیں، اس لیے فقہاء نے اس عقد کے صحیح ہونے کے لیے درج ذیل شرائط بیان کی ہیں:

1۔ مبیع کی جنس معلوم ہو، مثلاً دھان یا آم۔

2۔ نوع معلوم ہو، یعنی کون سی قسم ہے۔

3۔ صفت معلوم ہو، یعنی اعلیٰ درجے کا ہے یا ادنیٰ۔

4۔ مقدار معلوم ہو، ناپ یا وزن کے اعتبار سے متعین ہو۔

5۔ مدت معلوم ہو، اور کم از کم ایک ماہ ہو۔

6۔ راس المال یعنی ادا کی جانے والی رقم کی مقدار معلوم ہو۔

7۔ مال کی حوالگی کی جگہ متعین ہو۔

8۔ مجلسِ عقد میں جدا ہونے سے پہلے پوری رقم پر بیچنے والے کا قبضہ ہو جائے۔

ان میں سے اگر ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو یہ عقد جائز نہ ہو گا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شرائط کے ساتھ پیشگی رقم دے کر بازار سے کم قیمت پر آنے والی فصل خریدنے کا معاملہ جائز ہے، اور قیمت کا بازار کے مقابلے میں کم ہونا مضر نہیں۔ البتہ سوال میں مذکور دو صورتیں درست نہیں: ایک یہ کہ رقم کا کچھ حصہ مجلسِ عقد میں دیا جائے اور باقی بعد میں، کیوں کہ پوری رقم پر مجلس ہی میں قبضہ ضروری ہے؛ اور دوسری یہ کہ ”فلاں کھیت کی ساری فصل“ کہہ کر معاملہ کیا جائے، کیوں کہ اس میں ایک تو مقدار مجہول ہے، اور دوسرے یہ معاملہ کسی خاص کھیت کی اُس پیداوار کے ساتھ خاص ہو گیا جو ابھی موجود ہی نہیں، اور ایسی بیع معدوم کی بیع ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

اور اگر مال پہلے سے موجود ہو اور صرف حوالگی کچھ مدت بعد ہو، تو یہ بیعِ سلم نہیں بلکہ عام بیع ہے، اس صورت میں پیشگی رقم دینے کی وجہ سے رعایت لینا جائز ہے، کیوں کہ یہ رعایت مستقل گاہک ہونے کی بنا پر ہوتی ہے اور پیشگی رقم اطمینان کے لیے لی جاتی ہے۔

البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
"ودليله من الكتاب آية المداينة، لما صححه الحاكم عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: أشهد أن السلف المضمون إلى أجل مسمى قد أحله الله تعالى في الكتاب وأذن فيه، قال الله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى فاكتبوه} [البقرة: 282]. ومن السنة ما رواه الستة عن ابن عباس رضي الله عنهما: «قدم النبي صلى الله عليه وسلم والناس يسلفون في التمر السنة والسنتين والثلاثة، فقال: من أسلم في شيء فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم». وهو على خلاف القياس، إذ هو بيع المعدوم، ووجب المصير إليه بالنص والإجماع للحاجة."

(كتاب البيع، باب السلم، ج:6، ص:169، ط: دار الكتاب الإسلامي)

الفقہ الإسلامي وأدلتہ میں ہے:

"السلم مشروع في الكتاب والسنة وإجماع الأمة: أما الكتاب: فقد فسرت به آية الدين... قال ابن عباس: أشهد أن السلف المضمون إلى أجل مسمى قد أحله الله في كتابه وأذن فيه، ثم قرأ هذه الآية. وأما السنة: فما روى ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة وهم يسلفون في الثمار السنة والسنتين والثلاث، فقال: «من أسلف في شيء فليسلف في كيل معلوم، ووزن معلوم، إلى أجل معلوم». وأما الإجماع: فقال ابن المنذر: أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم على أن السلم جائز؛ ولأن بالناس حاجة إليه، لأن أرباب الزروع والثمار والتجارات يحتاجون إلى النفقة على أنفسهم أو على الزروع ونحوها حتى تنضج، فجوز لهم السلم دفعاً للحاجة. وقد استثني عقد السلم من قاعدة عدم جواز بيع المعدوم، لما فيه من تحقيق مصلحة اقتصادية، ترخيصاً للناس وتيسيراً عليهم."

(القسم الثالث: العقد أو التصرفات المالية، عقد السلم، ج:5، ص:3603، ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع میں ہے:

"وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع: (منها) أن يكون موجوداً، فلا ينعقد بيع المعدوم، وما له خطر العدم، كبيع نتاج النتاج، بأن قال: بعت ولد ولد هذه الناقة، وكذا بيع الحمل؛ لأنه إن باع الولد فهو بيع المعدوم، وإن باع الحمل فله خطر المعدوم، وكذا بيع اللبن في الضرع؛ لأنه له خطر لاحتمال انتفاخ الضرع، وكذا بيع الثمر والزرع قبل ظهوره؛ لأنهما معدوم."

(كتاب البيوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج:5، ص:138، ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وشرطه) أي شروط صحته التي تذكر في العقد سبعة: (بيان جنس) كبر أو تمر، (و) بيان (نوع) كمسقي أو بعلي، (وصفة) كجيد أو رديء، (وقدر) ككذا كيلاً لا ينقبض ولا ينبسط، (وأجل، وأقله) في السلم (شهر) به يفتى، وفي الحاوي: لا بأس بالسلم في نوع واحد على أن يكون حلول بعضه في وقت وبعضه في وقت آخر... (و) بيان (قدر رأس المال) إن تعلق العقد بمقداره كما (في مكيل وموزون وعددي غير متفاوت)... (و) السابع بيان (مكان الإيفاء) للمسلم فيه (فيما له حمل)... (و) بقي من الشروط (قبض رأس المال) ولو عيناً (قبل الافتراق) بأبدانهما."

(كتاب البيوع، باب السلم، ج:5، ص:215، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:
"ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان، ولم يقل في الابتداء: اشتريت منك، يجوز وهذا حلال، وإن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي، والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحاً اهـ. قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم، فإذا انعقد بيعاً بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى، وهذا ظاهر فيما كان ثمنه معلوماً وقت الأخذ مثل الخبز واللحم، أما إذا كان ثمنه مجهولاً فإنه وقت الأخذ لا ينعقد بيعاً بالتعاطي لجهالة الثمن."

(كتاب البيوع، ج:4، ص:515، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101477
تاریخ12-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں