بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جُمادى الأولى 1448ھ 03 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بریسلیٹ(Bracelet) استعمال کرنے کا حکم / گلے میں زنجیر ڈالنے کاحکم

سوال

1- کیا عورتوں کےلیے بریسلیٹ(ایک مخصوص قسم کا کنگن) کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ اور اسی طرح گلے میں زنجیر ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

1- بریسلیٹ (کنگن/دست بند : ہاتھ کی کلائی میں پہننے والا زیور ہے) عورت کے لیے بریسلیٹ پہننا جائز ہے، خواہ کسی بھی مباح مادے سے (سونے، چاندی، اسٹیل، تانبے، پیتل، عقیق، زبرجد، ہیرے، موتی وغیرہ) بنا ہو، بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو، مثلاً جاندار کی تصویر یا کوئی ناجائز علامت نہ ہو۔ 

2- نیزگلے میں پہننے والی زنجیربھی عورتوں کےلیے اس کا استعمال کرنا جائز ہےخواہ کسی بھی مباح مادے (سونے، چاندی، اسٹیل، پیتل، عقیق، زبرجد،  موتی)سے بنی ہوئی ہو ۔ البتہ اگر زنجیر میں کوئی ناجائز علامت یا مواد استعمال ہوتو اس صورت میں عورت کےلیے بھی پہننا جائز نہیں ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے: 

"( ولايتحلى ) الرجل ( بذهب وفضة)  مطلقاً، ( إلا بخاتم ومنطقة وحلية سيف منها ) أي الفضة ... ( ولايتختم ) إلا بالفضة؛ لحصول الاستغناء بها، فيحرم ( بغيرها كحجر ). وصحح السرخسي جواز اليشب والعقيق وعمم منلا خسرو ( وذهب وحديد وصفر ) ورصاص وزجاج وغيرها لما مر فإذا ثبت كراهة لبسها للتختم ثبت كراهة بيعها وصيغها لما فيه من الإعانة على ما لا يجوز وكل ما أدى إلى ما لا يجوز لا يجوز وتمامه في شرح الوهبانية... 

( قوله: جواز اليشب ) ... قال القهستاني: وقيل إنه ليس بحجر فلا بأس به وهو الأصح كما في الخلاصة اهـ.( قوله: والعقيق ) قال في غرر الأفكار والأصح أنه لا بأس به لأنه عليه الصلاة والسلام تختم بعقيق. وقال: تختموا بالعقيق فإنه مبارك. ولأنه ليس بحجر إذ ليس له ثقل الحجر، وبعضهم أطلق التختم بيشب وبلور وزجاج. (قوله وعمم منلا خسرو) أي عمم جواز التختم بسائر الأحجار حيث قال بعد كلام فالحاصل: أن التختم بالفضة حلال للرجال بالحديث وبالذهب والحديد والصفر حرام عليهم بالحديث ...

وفي المنح إنما ذكر هذا لأن من عادة بعض الناس شد الخيوط على بعض الأعضاء، وكذا السلاسل وغيرها، وذلك مكروه لأنه محض عبث فقال إن الرتم ليس من هذا القبيل كذا في شرح الوقاية اهـ قال ط: علم منه كراهة الدملج الذي يضعه بعض الرجال في العضد." 

 (كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس، ج: 6، ص: 358- 363، ط: سعید )

تفصیل کےلیے جامعہ کی ویب سائٹ پر یہ عناویں ملاحظہ فرمائیں: 

مرد کے لیے گلے میں چین پہننا

انگوٹھی،گھڑی،عقیق، فیروز، کڑا، ربن، اور مختلف قسم کی زنجیروں کے احکام

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101418
تاریخ03-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں