بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ربیع الثانی 1448ھ 04 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 ناخن اور غیر ضروری بال کاٹنے کا مسنون وقت اور آخری حد


سوال

 ہمارے گاؤں میں مشہور ہے کہ منگل اور بدھ کے دن ناخن کاٹنا منع ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ رات کو ناخن نہیں کاٹنے چاہییں۔

 دوسری طرف بعض لوگ مہینوں تک ناخن اور جسم کے غیر ضروری بال صاف نہیں کرتے۔

 ان سب باتوں کا شرعی حکم بتا دیں: ناخن کاٹنے کا مسنون دن کون سا ہے، اور زیادہ سے زیادہ کتنی مدت تک چھوڑنا جائز ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ ناخن تراشنا، مونچھیں کترنا، بغل  اور زیرِ ناف بالوں کی صفائی کرنا امورِ فطرت میں سے ہیں، اور نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ جمعہ کی نماز کے لیے جانے سے پہلے ناخن تراش لیا کرتے تھے؛ لہٰذا مسنون یہ ہے کہ ہر جمعہ کو ناخن کاٹ لیے جائیں، اور اگر کسی وجہ سے جمعہ کے دن نہ کاٹ سکیں تو ہفتے کے کسی بھی دن کاٹ لیے جائیں، ورنہ کم از کم پندرہ دن میں ایک بار کاٹ لیے جائیں۔

نہ کاٹنے کی زیادہ سے زیادہ حد چالیس دن ہے؛ چالیس دن سے زیادہ ناخن اور غیر ضروری بال چھوڑے رکھنا مکروہِ تحریمی اور گناہ ہے، لہٰذا اس مدت سے تجاوز کرنے سے بچنا لازم ہے۔

باقی کسی خاص دن یا خاص وقت میں ناخن کاٹنے کی شرعاً کوئی ممانعت نہیں؛ منگل، بدھ یا کسی بھی روز دن یا رات میں ناخن کاٹے جا سکتے ہیں، رات میں یا منگل و بدھ کو ناخن نہ کاٹنا بے اصل بات ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

 "عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الفطرة خمس - أو خمس من الفطرة -: الختان، والاستحداد، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وقص الشارب»."

 (كتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، ج:1، ص:128، ط: قدیمی کتب خانه)

وفیہ ایضاً:

 "عن أنس بن مالك قال: وقت لنا في قص الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وحلق العانة، أن لا نترك أكثر من أربعين ليلة."

(كتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، ج:1، ص:129، ط: قديمي کتب خانه)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"حكي أن هارون الرشيد سأل أبا يوسف - رحمه الله تعالى - عن قص الأظافير في الليل فقال ينبغي فقال ما الدليل على ذلك فقال قوله عليه السلام «الخير لا يؤخر» كذا في الغرائب."

(کتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأۃ شعرها ووصلها شعر غيرها، ج:5، ص: 358، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101338

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں