
عرض یہ ہے کہ وراثت کا ایک مکان ہے جس کے آٹھ حصہ دار ہیں۔ تمام حصہ دار اس بات پر متفق ہوئے کہ اس مکان کو فروخت کر دیا جائے۔ یہ مکان مارکیٹ میں فروخت کے لیے لایا گیا مگر فروخت نہ ہو سکا۔
ان آٹھ حصہ داروں میں سے دو افراد نے کہا کہ اس مکان کو ہم دونوں خرید لیتے ہیں۔ ایک آدمی کے حصے میں تین افراد آئے اور اسی طرح دوسرے آدمی کے حصے میں تین افراد آئے۔ ان دونوں میں سے ایک آدمی نے اپنے حصے کے تین افراد کے حصے تقریباً ادا کر دیے، جبکہ دوسرے آدمی نے اپنے حصے کے تین افراد میں سے صرف ایک فرد کا حصہ ادا کیا۔ بقیہ دو افراد کے حصوں کی ادائیگی کی کوشش کی مگر ادائیگی نہ ہو سکی۔ اس بات کو تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا۔
اب ڈیڑھ سال کے بعد ان دونوں حصہ داروں نے، جن کو اپنا حصہ نہیں ملا، کہا کہ ہمارا حصہ اسی گھر میں رہنے دو، ہم یہ گھر فروخت نہیں کرنا چاہتے۔ ابھی یہ فرد، جس کے ذمے بقیہ دو حصے ہیں، یہ کہتا ہے کہ بھائی! یہ مکان فروخت کر دو، تم اپنا اپنا حصہ لو اور میں اپنا حصہ لوں تاکہ میں نے جن لوگوں سے قرضہ لیا ہوا ہے، وہ ادا کر دوں۔ لیکن یہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم وراثت کا یہ مکان فروخت نہیں کرتے۔
سوال نمبر 1: معلوم یہ کرنا ہے کہ جب مکان فروخت ہو گیا، قیمت بھی طے ہو گئی، چار حصہ داروں کو ادائیگی بھی ہو گئی اور دو حصے ان کے (جنہوں نے یہ مکان خریدا) یعنی کل چھ حصے نکل گئے، اب باقی جو دو حصے رہ گئے، وہ دونوں اپنے آپ کو اس مکان کا حصہ دار کہتے ہیں کیونکہ تم نے ابھی تک رقم ادا نہیں کی، اس لیے ہم اس مکان میں حصہ دار ہیں۔ کیا ان دونوں کا یہ کہنا درست ہے کہ ہم مکان میں حصہ دار ہیں؟
سوال نمبر 2: جن دو حصہ داروں کو ان کے حصے کی رقم نہیں ملی، اب ان کو جو حصہ دیا جائے گا، وہ ابھی کی موجودہ قیمت پر دیا جائے گا یا مکان فروخت کرتے وقت جو قیمت تھی (جو ڈیڑھ سال پہلے جن لوگوں کو رقم ادا کی گئی)، اس پر دیا جائے گا؟
سوال نمبر 3: ان دونوں حصہ داروں (جن کو حصے کی رقم نہیں ملی ہے) کا یہ کہنا ہے کہ "اب ہم یہ مکان فروخت نہیں کرنا چاہتے"، جبکہ چار حصہ داروں کو رقم کی ادائیگی کی جا چکی ہے اور دو خریدار، کل چھ افراد ہوئے۔ کیا ان دونوں کا اس طرح مکان کو فروخت کرنے سے روکنا جائز ہے؟ اور جس فرد کے ذمے ان دونوں حصہ داروں کی رقم کی ادائیگی ہے، وہ فرد ان دونوں حصہ داروں کا مقروض ہے یا یہ اس مکان میں حصہ دار ہیں؟
سوال نمبر 4: یہ مکان فروخت کرنے کے لیے تمام افراد تیار تھے کہ اس کو فروخت کر دیا جائے، اس بنا پر ان افراد کو رقم کی ادائیگی کی گئی۔ اب ان دو حصہ داروں میں سے ایک کا یہ کہنا ہے کہ "جب تم دونوں یہ مکان خرید رہے تھے تو تم لوگ میرے علم میں کیوں نہیں لائے کہ تم دونوں خرید رہے ہو؟" جبکہ اس حصہ دار کے علم میں یہ بات تھی کہ حصہ داروں کے حصے کی رقم کی ادائیگی ہو رہی ہے۔ اب اس کا یہ کہنا درست ہے؟
1۔صورتِ مسئولہ میں مکان فروخت کرنے کے بعد جن دو حصہ داروں کو ابھی تک رقم نہیں ملی ہے، اگر انہوں نے اپنی رضا و خوشی سے اپنا اپنا حصہ مکان میں فروخت کیا تھا، تو اب رقم میں تاخیر کی وجہ سے ان کا یہ کہنا کہ "ہم ابھی مکان فروخت نہیں کرنا چاہتے اور ہم اس مکان میں حصہ دار ہیں" شرعاً جائز نہیں ہے۔ جب انہوں نے اپنا حصہ بیچ دیا اور بیع مکمل ہو گئی، تو اب ان کو یکطرفہ طور پر بیع ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
مشتری (خریدنے والے) پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد دونوں کی رقم کی ادائیگی کرے۔ اگر وہ ادائیگی کرنے سے بالکل قاصر ہو، تو بیع کو فسخ کر کے دونوں کو ان کا حصہ واپس کر دے۔ مشتری کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ نہ تو ان کو ان کا حصہ دیتاہے اور نہ ہی رقم ادا کرتاہے ۔
2۔جن دو حصہ داروں کو ابھی تک رقم نہیں ملی ہے، مشتری قیمت اسی دن کے حساب سے ادا کرے گا جس دن سودا طے ہوا تھا، نہ کہ موجودہ قیمت کے حساب سے۔
3۔ان دونوں حصہ داروں کو آگے مکان فروخت کرنے سے روکنا جائز نہیں ہے اور ان کو اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ جس خریدار نے ابھی تک رقم ادا نہیں کی ہے، وہ ان دونوں کا مقروض ہے، حصہ دار نہیں۔
4۔اگر واقعۃً دونوں نے اپنی خوشی و رضا سے مکان فروخت کیا تھا اور ان کے علم میں تھا کہ مکان خریدنے والے یہی دو حصہ دار ہیں، تو اب ان کا یہ کہنا کہ "تم لوگ ہمارے علم میں کیوں نہیں لائے کہ مکان خریدنے والے ہم ہیں" شرعاً صحیح نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي... وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع."
(كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج: 3، ص: 2، ط: دارالفكر بيروت)
وفیہ ایضا:
"و إذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية كذا في الهداية ولا يحتاج في تمام العقد إلى إجازة البائع بعد ذلك وبه قال العامة وهو الصحيح كذا في النهر الفائق."
(کتاب البیوع، الفصل الأول فيما يرجع إلى انعقاد البيع ج:3، ص:4، ط:دار الفکر)
درر الحكام فى شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"الثمن المسمى هو الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها.
وعلى ذلك كما أن الثمن المسمى قد يكون بقيمة المبيع الحقيقية يكون أيضا أزيد من القيمة الحقيقية أو أنقص.مثال: لو باع إنسان فرسا له قيمته الحقيقية خمسين جنيها بخمسين جنيها فيكون قد باعه بقيمته الحقيقية أو لو باعه بستين فيكون قد باعه بعشرة جنيهات زيادة عن قيمته، أما لو باعه بأربعين فيكون الثمن المسمى قد نقص عن القيمة الحقيقية للفرس."
(الكتاب الأول البيوع، مقدمة في بيان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبيوع، (المادة 153) الثمن المسمى، ج:1، ص:124، ط:دار الجيل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101332
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن