قرض کے بدلے زمین بندھک رکھ کر اس میں کاشت کرنے اور فصل سے نفع لینے کا حکم
سوال
ہمارے گاؤں میں پرانا رواج ہے کہ کسی کو رقم کی ضرورت ہو تو وہ اپنی جمی (زمین) قرض دینے والے کے پاس ”بندھک“ رکھ دیتا ہے، اور جب تک قرض واپس نہ کرے، قرض دینے والا ہی اس زمین میں دھان اور دیگر فصل بوتا ہے اور پوری پیداوار خود لے لیتا ہے۔ کہیں کہیں یہ صورت بھی ہوتی ہے کہ پیداوار کا زیادہ حصہ قرض دینے والا رکھتا ہے اور کچھ حصہ زمین کے مالک کو دے دیتا ہے۔ قرض واپس ملنے پر زمین مالک کو لوٹا دی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں سب ہی ایسا کرتے ہیں اور زمین کا مالک بھی خوشی سے راضی ہوتا ہے۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور اگر یہ ناجائز ہو تو جو فصل اب تک لی گئی اس کا کیا کیا جائے؟
جواب
واضح رہے کہ قرض کے بدلے کوئی چیز بطورِ ضمانت رکھوانے کو ”رہن“ (بندھک) کہتے ہیں، اور بذاتِ خود رہن لینا دینا جائز ہے؛ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر قرض دار قرض ادا نہ کر سکے تو اس چیز سے قرض کی وصولی ممکن ہو۔ رہن میں رکھی ہوئی چیز رہن رکھنے کے بعد بھی اصل مالک ہی کی ملکیت رہتی ہے، مرتہن کو صرف اسے روکے رکھنے کا حق حاصل ہوتا ہے، اس سے نفع اٹھانے کا حق حاصل نہیں ہوتا؛ اسی طرح مرہونہ چیز سے پیدا ہونے والی زیادتی اور پیداوار بھی مالک ہی کی ملک ہوتی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں قرض دینے والے کے لیے بندھک (رھن)رکھی ہوئی زمین میں کاشت کر کے اس کی پیداوار سے نفع اٹھانا شرعاً جائز نہیں، خواہ پوری پیداوار لے یا اس کا کچھ حصہ؛ کیوں کہ یہ اپنے قرض سے نفع اٹھانا ہے، اور قرض سے حاصل ہونے والا ہر نفع سود ہے۔ سود کا لین دین شرعاً اس قدر قبیح ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے، اور حدیث میں سود کے ایک درہم کو چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ کہا گیا ہے۔
اور یہ کہنا کہ ”زمین کا مالک خوشی سے راضی ہے“ اس معاملے کو جائز نہیں کرتا؛ کیوں کہ رہن رکھنے والا اجازت بھی دے دے تب بھی مرتہن کے لیے نفع اٹھانا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس لیے کہ وہ اپنا پورا قرض بھی وصول کر رہا ہے اور منفعت بھی زائد لے رہا ہے۔ اسی طرح علاقے میں اس کا رواج ہونا بھی عذر نہیں، بلکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ لوگوں کا عام حال یہی ہوتا ہے کہ وہ رقم دیتے ہی نفع اٹھانے کی غرض سے ہیں، اور ”المعروف کالمشروط“ ہونے کی وجہ سے یہ شرط ہی کے حکم میں ہے، جس سے ممانعت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔
اب تک جو فصل لی گئی ہے، اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کی پوری پیداوار — یا اس کے استعمال ہو جانے کی صورت میں اس کی قیمت — زمین کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے؛ البتہ فصل تیار کرنے میں مرتہن کے جو اخراجات ہوئے ہیں، زمین واپس کرتے وقت وہ مالک سے صرف انہی اخراجات کا مطالبہ کر سکتا ہے، ان سے زیادہ لینا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔
اس مسئلے کا جائز حل یہ ہے کہ یا تو زمین محض بطورِ وثیقہ رہن رکھی جائے اور مرتہن اس سے کوئی نفع نہ اٹھائے، اور قرض بغیر کسی زیادتی کے واپس لیا جائے؛ یا پھر قرض کا معاملہ الگ کر کے زمین کو باقاعدہ اجرتِ مثل پر کرایہ پر لے لیا جائے، اس صورت میں عقدِ رہن ختم ہو جائے گا اور اجارہ کے احکام جاری ہوں گے، اور قرض کی وجہ سے کرایے میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
قرآنِ کریم میں ہے:
"﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾"
(سورۃ البقرۃ: 278-279)
ترجمہ:
”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔ پھر اگر تم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے، اور اگر تم توبہ کر لو گے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا۔“
(بیان القرآن)
السنن الکبریٰ للبیہقی میں ہے:
"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا»."
(باب كل قرض جر منفعة فهو ربا، ج:5، ص:571، رقم:10933 ط: دار الكتب)
النتف في الفتاویٰ میں ہے:
"أنواع الربا: وأما الربا فهو على ثلاثة أوجه: أحدها في القروض، والثاني في الديون، والثالث في الرهون. فأما في القروض فهو على وجهين: أحدهما أن يقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهماً أو باثني عشر ونحوها، والآخر أن يجر إلى نفسه منفعةً بذلك القرض، أو تجر إليه، وهو أن يبيعه المستقرض شيئاً بأرخص مما يباع أو يؤجره أو يهبه... ولو لم يكن سبب ذلك القرض لما كان ذلك الفعل، فإن ذلك رباً، وعلى ذلك قول إبراهيم النخعي: كل دين جر منفعةً لا خير فيه."
(الرِّبَا فِي القروض ، ج : 1ص:484-485 ط: دار المعرفہ )
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(لا انتفاع به مطلقاً) لا باستخدام، ولا سكنى، ولا لبس، ولا إجارة، ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن (إلا بإذن) كل للآخر، وقيل لا يحل للمرتهن لأنه ربا، وقيل إن شرطه كان رباً وإلا لا... قال ط: قلت والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع، ولولاه لما أعطاه الدراهم، وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف كالمشروط، وهو مما يعين المنع."
(كتاب الرهن، ج:6، ص:482، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(ونماء الرهن) كالولد والثمر واللبن والصوف والوبر والأرش ونحو ذلك (للراهن) لتولده من ملكه... ثم نقل عن التهذيب أنه يكره للمرتهن أن ينتفع بالرهن وإن أذن له الراهن. قال المصنف: وعليه يحمل ما عن محمد بن أسلم من أنه لا يحل للمرتهن ذلك ولو بالإذن لأنه ربا. قلت: وتعليله يفيد أنها تحريمية فتأمله."
(كتاب الرهن، باب التصرف في الرهن، فصل في مسائل متفرقة، ج:6، ص:521-523، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن؛ لأنه أذن له في الربا؛ لأنه يستوفي دينه كاملاً فتبقى له المنفعة فضلاً فتكون رباً، وهذا أمر عظيم. ثم رأيت في جواهر الفتاوى: إذا كان مشروطاً صار قرضاً فيه منفعة وهو رباً."
(مطلب كل قرض جر نفعا حرام ،ج:5، ص:166 ط:سعيد)
بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع میں ہے:
"وكذا ليس للمرتهن أن ينتفع بالمرهون، حتى لو كان الرهن عبداً ليس له أن يستخدمه، وإن كان دابة ليس له أن يركبها، وإن كان ثوباً ليس له أن يلبسه، وإن كان داراً ليس له أن يسكنها، وإن كان مصحفاً ليس له أن يقرأ فيه؛ لأن عقد الرهن يفيد ملك الحبس لا ملك الانتفاع."
(كتاب الرهن، فصل في حكم الرهن، ج:8، ص:183-186، ط: دار الكتب )
عمدۃ الرعایۃ میں ہے:
"(وإذا طلب دينه أمر بإحضار رهنه، فإن أحضره سَلَّمَ كل دينه أولاً، ثم رهنه)... قوله: أمر بإحضار رهنه؛ لأن قبض الرهن قبض استيفاء، فلا يجوز أن يقبض ماله مع قيام يد الاستيفاء؛ لأنه يتكرر الاستيفاء على اعتبار الهلاك في يد المرتهن وهو محتمل."
(كتاب الرهن، ج:7، ص:371، ط: دار الكتب)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

