بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الثانی 1448ھ 03 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع اور اس رقم کو صدقہ کرنے کا شرعی حکم


سوال

 میرا ایک سرکاری بینک میں سیونگ اکاؤنٹ ہے، جو کئی سال پہلے بغیر مسئلہ جانے کھلوایا تھا۔ ہر چھ ماہ بعد اکاؤنٹ میں کچھ رقم ”منافع“ کے نام سے آ جاتی ہے، اور کچھ اسی کھاتے میں جمع رہتی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ رقم غریبوں میں بانٹ دو، ثواب ملے گا؛ اور کچھ کہتے ہیں کہ چھوڑ دو، بینک کے پاس ہی رہنے دو۔ نیز ہمارے علاقے میں بعض لوگ جان بوجھ کر اسی نیت سے سیونگ اکاؤنٹ رکھتے ہیں کہ اس سے جو منافع آئے گا وہ مسجد، مدرسے یا غریبوں پر خرچ کر دیں گے۔ ان سب باتوں کا شرعی حکم بتا دیں۔ اور جو رقم اب تک نکال کر خرچ کر چکا ہوں، اس کا کیا ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ بینک میں جمع کرائی جانے والی رقم کی حیثیت شرعاً قرض کی ہوتی ہے، اور قرض پر مشروط نفع لینا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے؛ لہٰذا بینک کے سیونگ اکاؤنٹ پر ملنے والا ”منافع“ سود ہے، جس طرح سود کا استعمال حرام ہے، اسی طرح اس کا وصول کرنا بھی حرام ہے۔ اور اکاؤنٹ میں یہ رقم آ جانے کے باوجود آدمی اس کا مالک نہیں بنتا۔ لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ سیونگ اکاؤنٹ فی الفور بند کروا کر کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کرا لے، اور سودی معاہدہ کرنے اور اب تک سود آنے پر توبہ و استغفار کرے۔

جو سودی رقم ابھی وصول نہیں کی، اسے وصول ہی نہ کرے؛ اور جو لاعلمی میں وصول کر چکا ہے، اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ پہلے کوشش کرے کہ جہاں سے یہ رقم آئی ہے وہیں واپس کر دے، اور اگر باوجود کوشش کے واپس کرنا ممکن نہ ہو تو کسی ضرورت مند مستحقِ زکوٰۃ غریب کو ثواب کی نیت کے بغیر، محض اس حرام مال سے خلاصی کی نیت سے دے دے۔

اور جو لوگ جان بوجھ کر اسی نیت سے سودی اکاؤنٹ رکھتے ہیں کہ اس کا منافع مسجد، مدرسے یا غریبوں پر خرچ کریں گے، ان کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں؛ ایسے لوگ حرام کا ارتکاب کر کے خود گناہ گار ہوتے ہیں اور غریبوں کا صرف دنیوی فائدہ کرتے ہیں، یہ بڑی نادانی ہے کہ انسان اپنا دینی نقصان کر کے دوسروں کا بھلا کرے۔ مشرکینِ مکہ سخت قحط کے زمانے میں جوا کھیلتے تھے اور جیتی ہوئی اشیاء خود استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ فقیروں پر صدقہ کر دیتے تھے، اس کے باوجود ان کے عمل کی مذمت کی گئی۔ خلاصہ یہ کہ صدقے اور فلاح و بہبود کی نیت سے حرام مال کمانے کی اجازت نہیں، جیسا کہ توبہ کی نیت سے گناہ کرنے کی اجازت نہیں۔

اور جو رقم پہلے خرچ ہو چکی ہے، اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کی مقدار کا اندازہ لگا کر اتنی رقم اپنے حلال مال سے مستحقینِ زکوٰۃ کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دے، اور اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے۔ نیز اصل جمع شدہ رقم حلال ہے، محض سود آنے کی وجہ سے پوری رقم حرام نہیں ہو جاتی۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾"

 (سورۃ البقرۃ: 278-279)

ترجمہ:

 ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔ پھر اگر تم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے، اور اگر تم توبہ کر لو گے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا۔“

 (بیان القرآن)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء."

 (كتاب البيوع، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج:3، ص:1219، ط: دار إحياء)

السنن الکبریٰ للبیہقی میں ہے:

 "عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا»."

 (باب كل قرض جر منفعة فهو ربا، ج:5، ص:571، رقم:10933)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه."

 (كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالاً حراماً، ج:5، ص:55، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:

 "وأما إذا اختلط بغيره وليس بمتميز، فقد ملكه ملكاً خبيثاً، فيجوز له الانتفاع به مع الكراهة، والأولى أن يتصدق به."

 (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:385، ط: سعيد)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

 "والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز، ثم إن كان غنياً تصدق بمثله، وإن كان فقيراً لا يتصدق."

(كتاب الغصب، ج:3، ص:61، ط: دار الفكر)

معارف السنن میں ہے:

 "قال شيخنا: ويستفاد من كتب فقهائنا كالهداية وغيرها: أن من ملك بملك خبيث، ولم يمكنه الرد إلى المالك، فسبيله التصدق على الفقراء... قال: إن المتصدق بمثله ينبغي أن ينوي به فراغ ذمته، ولا يرجو به المثوبة."

 (كتاب الطهارة، ج:1، ص:34، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101325

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں