بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الثانی 1448ھ 03 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فانڈایف ایکس کمپنی میں بزنس کرنا شرعا کیسا ہے ؟


سوال

Fundfxبنگلہ  بزنس پلان۔یہ کمپنی”  راشیا “191186” سنٹ پیٹرس بارغ“شہر سے چلائی  جاتی ہے۔
” Fund-fx “ کمپنی کے کارنامہ اور یہ کمپنی کیسے کام کر تے ہیں (منافع حاصل کرنے کامعمول وطریقہ )درج ذیل ہے ۔
یہ ایک انٹر نیشنل بھروسہ مند  فینانشیل پلیٹ فارم ہیں ، جہاں  لوگ بآسانی  ٹریدنگ کر سکتےہیں ، اگر کسی کو ٹریڈنگ کے بارے میں تجربہ ومعلومات نہ بھی ہو پھر بھی وہ یہاں سے ہفتہ واری منافع حاصل  کرسکتا ہے ، مطلب یہ ہے یہ ایک ایسی کمپنی وپلیٹ فارم ہے جس کو تجربہ کار وعوام  ناتجربہ کار ہر ایک کے لیے ہی ”پیسی فک  متعین “آمدنی  کا ذریعہ ہے ۔

 اور اس کا مقصدیہ  ہے کہ  بھروسہ مند لوگوں کو لے کر ایک فائدہ مند انکم سورس کا پلیٹ فارم تیار  کرنا۔
 Profit distribution Ratio (منافع کی تقسیم کا تناسب) 
”fund fx“پیسہ لگانے والے ہر ایک   کی طرف سے ہر پیر سے جمعہ تک منافع حاصل کرنے کے واسطے کئی قسم کی ملٹی ایسیٹ  برو کار میں ٹریڈ (رقم لگاتا ہے )کرتاہے ۔

یہاں حاصل شدہ منافع میں سے٪ 3 اسپیشل ممبران کے لئے  مقرر ہے،٪ 7 کمپنی کے خرچہ بابت ، اور٪ 20 ایفلئیٹ  مارکیٹ والوں کے لیے مقرر ہے،اور باقی٪70 ہر ممبر کے اکاؤنٹ میں بقدر شرکت تقسیم کیا جاتا ہے ۔
اور چونکہ - فانڈ ایف ایکس - مارکیٹنگ ٹرید - فانڈا مینٹال معلومات - ریسک مینجمنٹ اور ٹریڈنگ سائیکلوجي کومدنظر رکھ کر ہی ٹرید کیا   کرتا ہے، اس لیے ہر ہفتہ تقریبا  ٪2.80سے٪6 تک  آمدنی    ہونے کی توقع ہوتی ہے۔

”فانڈ ایف ایکس“  میں کل 6 قسم کے پیکج موجود ہے :1)100ڈالر  کا پیکج ،اسے Signatureپیکج کہتے ہیں ،2)500ڈالر کاپیکج،3)1000ڈالر کا پیکج ،4)5000ڈالر کاپیکج 5)10،000ڈالر کا پکیج ،6)25000یا اس سے زیادہ ڈالر کاپیکج۔

فانڈ ایف  ایکس سے کیسے کیسے منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔ (1)اپنی ذاتی رقم لگاکر ۔ 

(2)کوئی ایکٹیو  ٹیم تیار کر کے ،(اس میں سات مراتب  میں آمدنی حاصل کی   جاسکتی ہے )۔

فانڈ ایف ایکس میں صحیح راہنمائی  کے ذریعہ جتنے بھی لوگوں کو آپ ریفر کرکے لے آئیں گے اتنا زیادہ منافع آپ حاصل کر سکتے ہیں ،  یہاں ریفر  کرنے میں بھی تین مراحل موجود ہیں . ( اور دس جنریشن انکم سسٹم آپ کو  بالواسطہ اور بلا واسطہ دونوں طریقے پر مزید سے مزیدتر منافع حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتاہے  ) ۔
راہنمائی یا ریفرنس کے تین مراحل ایسے ہیں : - A مرحلہ  یعنی آپ اگر بلا واسطہ ریفر کرے تو ٪5بونس ملے گا،مثلا1000ڈالر میں  آپ کو 50ڈالر ملیں گے۔

B:میں ٪2یعنی 1000میں 20ڈالر ملیں گے، ( ایک آدمی کے واسطہ سےیعنی آپنے بلا واسطہ  جس کوشامل کروایا ہے،اس نے ایک اور کو شامل کروایا)۔C:میں ٪1(یعنی  دو آدمی کے واسطہ سے) اس میں 1000ڈالر میں 10 ڈالر ملیں گے ۔

Referral Reward:- اس کا طریقہ یہ ہے کہ   اگر کسی ممبر نے اپنی راہنمائی یا اپنی ریفر کے ذریعہ مثلا 1000ڈالر کے ٹریڈنگ پیکج ایکٹیو کیا ،اورآپ کی بھی 1000 ڈالر کے ایک  ٹریڈینگ  پیکج  کمپنی میں موجود ہے تب آپ فری میں ہی 2000 ڈالر ریٹرن حاصل کریں گے ۔
تو کیا ایسی کمپنی میں کام کرنا یا اپنا بزنس اکاؤنٹ کھولنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

سائل کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں مذکورہ  کمپنی میں کام کرنا یا اس میں اپنا  بزنس اکاؤنٹ   کھولنا شرعا ناجائز ہے ،عدم جواز کی وجوہات  درج ذیل ہیں :

1)کوئی بھی تجارت یا شرکت کے جوازکی  ایک  بنیادی  شرط یہ ہے کہ  وہ نفع اور ضرر  دونوں پر مشتمل ہو،اور مذکورہ صورت میں صرف نفع کاہی ذکر ہے اور اسی میں  شرکت قائم کی گئی ہے،گاہک کے حصے میں نقصان کا کوئی ذکر ہی نہیں ۔

2)اور ”فاؤنڈ ایف ایکس“ کا مطلب ہے forex treding یعنی مختلف  کرانسیوں کے اتار چڑھاؤں سے نفع حاصل کرنا،جو کہ خود کئی وجوہات کے بنا پر ناجائز ہے ،

الف: یہ بیع صرف ہے  شرعی اصولوں کے مطابق یہاں عاقدین کا ایک مجلس میں ہونا اور عوضین پر  ہاتھ در ہاتھ قبضہ کرنا ضروری ہے ،جب  کہ یہاں یہ بات مفقود ہے ۔

ب:فاریکس ٹریڈنگ  میں اکثر  وبیشتر کسی کرنسی کی قیمت بڑھ جانے کی صورت میں  قبضہ کیے  بغیر ہی آگے سودا کردیا جاتا ہے ،جوکہ بیع قبل القبض  ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ۔

ج:فاریکس ٹریڈنگ میں اور ایک خرابی یہ ہے کہ اس  میں فیوچر سیل کی جاتی ہے ،جوکہ شرعا ناجائز ہے ،کیوں کہ  خرید وفروخت کا ایک مجلس میں عقد مکمل ہونا ضروری ہوتاہے ورنہ بیع تام یا نافذ ہی نہیں ہوتی ۔

د:اصول ہے کہ بیع شرطِ  فاسد   سے  فاسد ہو جاتی ہے، "فاریکس"  کے کاروبار میں شروطِ فاسدہ بھی لگائی جاتی ہیں، مثلاً swaps (بیع بشرط الاقالہ) میں یہ شرط لگانا کہ ایک مقررہ مدت کے بعد بیع کو  ختم کیا جائے گا حال آں کہ بیع تام ہو جانے کے بعد لازم ہوجاتی ہے اور جانبین کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔

3)یہاں گاہک کے اکاؤنٹ سے جو٪30 کاٹے  جاتے ہیں اور کسی دوسرے مد میں استعمال کیا جاتاہے یہ بھی ناجائز ہے ۔

4) فنڈ ایف ایکس میں ممبر سازی  کی وجہ سے جو پر سینٹیج  دی جاتی ہے یہ بھی ناجائزہے ، جس کی تفصیل نمبر 5 میں ہے۔

5) ایکٹیو ٹیم  تیار کرنا (یعنی بلاک چین کے ذریعہ لوگوں کو مذکورہ کاروبار کے ساتھ منسلک کرنا، اور بلاک چین کے پیلے ممبر کو اس کے نیچے بننے والی چین کے ہر ہر فرد کے نفع میں سے کچھ  فیصد نفع ملنا، یہ طریقہ شرعا ناجائز ہے، اس لیے کہ بروکری کا جواز عمل کے ساتھ شرعا مشروط  ہوتا ہے،جبکہ بلاک چین میں بے عمل نفع/ بروکری ملتی ہے۔

صحيح البخاري میں ہے :''2025 -عن ابن عباس رضي الله عنهما:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يبيع الرجل طعاما حتى يستوفيه. قلت لابن عباس: كيف ذاك؟. قال: ذاك دراهم بدراهم، والطعام مرجأ.''

''تقديره: أن يشتري من إنسان طعاما بدرهم إلى أجل، فإذا باعه منه أو من غيره بدرهمين مثلا قبل أن يقبضه فلا يجوز، لأنه في التقدير: بيع درهم بدرهم والطعام غائب، كأنه باعه درهمه الذي اشترى به الطعام بدرهمين، وهو ربا لا يجوز. (مرجأ) مؤخر.''

(کتاب البیو ع،باب مایذکر فی بیع الطعام والحکرۃ، ج: 2، ص: 750، ط: دار ابن کثیردار الیمامة)

صحيح ابن حبان میں ہے :«1882 -عن عبادة بن الصامت، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، مثلا بمثل يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد"

ترجمہ:"اور حضرت عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا ، سونے کے بدلے اور چاندی ، چاندی کے بدلے اور گیہوں ، گیہوں کے بدلے اور جو، جو کے بدلے اور نمک ، نمک کے بدلے اگر لیا دیا جائے تو ان کا لین دین (مقدار) میں مثل بمثل یعنی برابر سرابر و دست بدست ہونا چاہیے ، اگر یہ قسمیں مختلف ہوں (مثلا گیہوں کا تبادلہ جو  کے ساتھ یا جو کا تبادلہ کھجور کے ساتھ ہو) تو پھر اجازت ہے کہ جس طرح چاہو خرید و فروخت کرو (یعنی برابر سرابر ہونا ضروری نہیں) البتہ لین دین کا دست بدست ہونا(اس صورت میں بھی) ضروری ہے۔"

(القسم الثانی النواهی، ذکر البیان بأن ھذہ الأجناس اذابیعت بغیرأجناسھا وبینھا التفاضل، کان ذلك جائزا، ج: 3، ص: 31، ط: دار ابن حزم)

مصابيح السنۃ میں ہے :''2078 - وقال ابن عباس رضي الله عنهما: "أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم فهو الطعام أن يباع حتى يقبض. ولا أحسب كل شيء إلا مثله.''

ترجمہ:" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو منع کیا ہے وہ غلہ ہے کہ اس کو قبٖے میں لانے سے پہلے فروخت کرنا ممنوع ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ میرا گمان ہے کہ اس بارے میں ہر چیز غلہ کی مانند ہے ۔"

(کتاب البیوع، باب المنھی عنھا من البیوع، ج: 2، ص: 326، ط:دار المعرفة)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے :''ولو تقايلا البيع في المنقول ثم إن البائع باعه من المشتري ثانيا قبل أن يسترده من يده يجوز البيع وهذا يطرد على أصل أبي حنيفة ومحمد وزفر، أما على أصل زفر فلأن الإقالة فسخ مطلق في حق الكل، وعلى أصل أبي حنيفة فسخ في حق العاقدين والمشتري أحد المتعاقدين وعلى أصل محمد فسخ عند عدم المانع من جعله فسخا، ولا مانع ههنا من جعله فسخا بل وجد المانع من جعله بيعا؛ لأن بيع المبيع المنقول قبل القبض لا يجوز''

(کتاب البیوع،فصل فی بیان مایرفع حکم البیع، ج: 5، ص: 307، ط: دار الکتب العلمیة)

فتح القدير للكمال بن الهمام رح میں ہے :''لا جرم أن المصنف إنما أجاب بأن الثمن في باب الصرف مبيع لاستدعاء البيع مبيعا ولا مبيع فيه سوى الثمن فكان كل ثمن منهما مبيعا وثمنا وجعله بدل الثوب وثمنه بيع له وبيع المبيع قبل القبض لا يجوز۔''

(کتاب الصرف، ج: 7، ص: 140، ط: دار الفکر)

معراج الدرايۃ في شرح الهدايۃ میں ہے :''(وهي) أي: شبهة الربا (مانعة) عن الجواز في بيع النسيئة، كالحفنة، حتى فسد البيع مجازفة؛ لاحتمال الربا، وهذا لأن كل حكم تعلق بوصفين مؤثرين لا يتم نصاب العلة إلا بهما فلكل واحد منهما شبهة العلة، فبوجود القدر أو الجنس تثبت شبهة العلة، فتثبت بشبهة العلة شبهة الربا، وفي النساء؛ لما أن النقدية أوجبت فضلا في المالية فتحقق شبهة الربا فيه، «ونهى عليه السلام عن الربا والريبة» وهي شبهة الربا، ولا يقال: إنه بعض العلة، وبعض العلة لا يثبت الحكم؛ لأنا نقول: هو علة تامة لحرمة النساء كما ذكرنا، وإن كان جزءا لعلة ربا الفضل فلا يؤدي إلى توزيع أجزاء الحكم على أجزاء العلة.''

(کتاب البیوع، باب الربا، ج: 6، ص: 23، ط: دار الکتب العلمیة)

فتح باب العنايۃ بشرح النقايۃ میں ہے :

''ولا يجوز بيع المباحات قبل أن تملك۔۔۔والبيع بشرط لا يقتضيه العقد، وفيه نفع لأحدهما، أو لمبيع يستحق،۔۔۔(وفيه نفع لأحدهما) ـ جملة حالية ـ أما البائع: فكما لو باع شيئا بشرط أن يقرضه المشتري درهما، أو يهدي إليه هدية، أو باع دارا على أن يسكنها شهرا.وأما المشتري: فكما لو اشترى ثوبا على أن يقطعه البائع ويخيطه قباء أو قميصا.(أو) فيه نفع (لمبيع يستحق) أي يكون أهلا للاستحقاق على غيره بأن يكون آدميا، كبيع عبد بشرط أن لا يبيعه المشتري، لأن العبد يعجبه أن لا تتناوله الأيدي''

(کتاب البیع، فصل فی البیع  الصحیح والباطل و الفاسد والمکروہ، ج: 2، ص: 342، ط:دار الأرقم ابن أبی الأرقم)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحۃ الخالق وتكملۃ الطوري میں ہے:''وأما شرائط الصحة فعامة وخاصة فالعامة لكل بيع ما هو شرط الانعقاد؛ لأن ما لا ينعقد لم يصح ولا ينعكس، فإن الفاسد عندنا منعقد نافذ إذا اتصل به القبض، ومنها أن لا يكون مؤقتا، فإن أقته لم يصح بخلاف الإجارة، فإن التأقيت شرطها''

(کتاب البیع، با ب شرائط البیع، ج: 5، ص: 281، ط: دار الکتاب الإسلامي)

حاشيۃ ابن عابدين  میں ہے :''(وما لا تصح) إضافته (إلى المستقبل) عشرة (البيع، وإجازته، وفسخه، والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال كما لا تعلق بالشرط''

(باب المتفرقات، مطلب مایصح اضافته وما لاتصح، ج: 5، ص: 256، ط: سعید)

وفیہ ایضا :

''باب الصرف ۔۔۔ (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل)أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق)''

(کتاب البیع، باب الصرف، ج: 5، ص: 258، ط: سعید)

فتاوى عالمگيريۃ میں ہے :

''وشرط صحة الإقالة رضا المتقائلين والمجلس وتقابض بدل الصرف في إقالته وأن يكون المبيع محل الفسخ بسائر أسباب الفسخ كالرد بخيار الشرط والرؤية والعيب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - فإن لم يكن بأن ازداد زيادة تمنع الفسخ بهذه الأسباب لا تصح عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقيام المبيع وقت الإقالة فإن كان هالكا وقت الإقالة لم تصح''

(کتاب البیوع، الباب الثالث عشر فی الإقالة، ج: 3، ص: 157، ط: دار الفکر)

فقط واللہ تعالی اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں