بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ چھ کلمے اور ان کی موجودہ ترتیب توقیفی یا منصوصی نہیں

سوال

برصغیر سے باہر عالمِ  اسلام کے تمام غیر پاکستانی علماء کے نزدیک ”چھ کلموں“  کی باقاعدہ ترتیب اور ان کے لیے ”چھ کلمے“  کی اصطلاح کا براهِ راست کوئی ثبوت یا نام بظاہر نہیں ملتا۔
 غیر پاکستانی علماء کا اتفاق ہے کہ کلموں کو اس خاص ترتیب (پہلا، دوسرا... چھٹا کلمہ) کے ساتھ شریعت میں مرتب نہیں کیا گیا۔ یہ شش کلماتی ترتیب بنیادی طور پر برصغیر کے علماء اور مکاتبِ فکر (خصوصاً ابتدائی تعلیم کے نصاب) کا مرتب کردہ مجموعہ ہے تاکہ بچے اور عام مسلمان بنیادی عقائد اور اذکار حفظ کر سکیں۔اورمیں یہ بھی جانتی  ہوں کہ اگرچہ ”چھ کلمے“ کے نام سے یہ چھ جملے بیک وقت یا اس ترتیب سے احادیث میں جمع نہیں ملتے، لیکن ان میں سے ہر ایک کلمے کے الفاظ اور مفاہیم الگ الگ صحیح اور معروف احادیث سے ثابت ہیں۔میرا سوال یہ ہے :

 1۔ اسے سنّت کی ایک خاص اور لازمی ترتیب سمجھنا درست ہے ؟ نیز یہ اعتقاد رکھنا کہ شریعت نے انہیں اسی طرح ”چھ “ کی تعداد میں مقرر کیا ہے، یہ درست ہے ؟
2۔ مجموعی طور پر چھ کلموں کا  متن اور مفہوم سنت سے ثابت ہے، لیکن ان کا بطور ”چھ کلمے“ کے نام سے ایک جگہ جمع و مرتب کرنا ایک تعلیمی و تدریسی ترتیب ہے  یا یہ  کوئی منصوص یا توقیفی شرعی حکم ہے ؟

جواب

1۔ ان چھ کلموں کو سنت کی ایک خاص یا لازمی ترتیب سجھنا درست نہیں ہے اور نہ ہی یہ اعتقاد رکھنا درست ہے کہ شریعت نے انہیں اسی طرح  چھ کی تعداد میں مقرر کیا ہے۔

2۔ ان کلموں کی موجودہ ترتیب  مخصوص نام اور تعداد  تعلیمی  و تدریسی مقاصد کے لیے مقرر کی گئی تھی، یہ  کوئی منصوصی یا توقیفی حکم نہیں  ہے۔

فتاوٰی دارالعلوم دیوبند میں ہے :

” الجواب: احادیث میں یہ کلمات اور ان کا ثواب وارد ہوا ہے، چونکہ مضمونِ توحید وایمان و اسلام ان میں ہے، اس وجہ سے علماء نے ان کا نام کلمات رکھا ، اول دوم وغیرہ یہ احادیث میں وارد نہیں ہے، یہ محض یاد کرنے کرانے کے لیے اور تعداد بتلانے کے لیے مقرر کرایا گیا ہے،اس کی کچھ ضرورت نہیں ہے، اصل کلمات یا د ہونے چاہیے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم“

(کتاب الحظر ا الاباحۃ، علم کا بیان، ج :17، ص :244، ط :مکتبہ دارالعلوم دیوبند)

فتاوٰی عثمانی میں ہے :

” جواب: - اسلام کی بنیاد در اصل ان عقائد پر ہے جو ایمان مفصل میں بیان کئے گئے ہیں،ان عقائد پر ایمان  رکھتا تو مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح کلمہ توحید یا کلمہ شہادت چونکہ اپنے عقائد کا اجمالی اعلان ہے، اس لیے یہ ہر مسلمان کو یاد ہونا چاہئے، باقی جو کلمات نماز وغیرہ کی کتابوں میں لکھے ہیں، انہیں بچوں کی تعلیم کی آسانی کے لئے لکھ دیا گیا ہے، ورنہ در حقیقت ان کا وہ  مقام نہیں جو کلمہ توحید، کلمہ شہادت یا ایمان مفصل کا ہے۔ اگر یہ کلمات کسی کو یاد نہ ہوں تو اس سے ایمان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، البتہ چونکہ ان کلمات کا پڑھنا بہت موجب و ثو اب ہے اور مسلمانوں کو ان کا درد رکھنا چاہئے، اس لئے بچوں کو یہ تمام کلمات سکھا دینے چاہئیں، اور کلمہ استغفار میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ احادیث میں استغفار کے مختلف صیغے وارد ہوئے ہیں۔ ان میں سے جو صیغہ بھی پڑھ لیا جائے مقصود حاصل ہے، کیونکہ معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں ہے، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے درود شریف کے مختلف صیغے احادیث سے ثابت ہیں، لہذا اس مسئلے پر لڑائی جھگڑا کرنا انتہائی غلط ہے، مسلمانوں کو اس طرح کے نزاعات سے پر ہیز کرنا چاہئے۔“

(کتاب الایمان، فصل فی المتفرقات، ج :1، ص :53، ط :مکتبہ معارف القرآن)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101276
تاریخ23-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں