
برصغیر سے باہر عالمِ اسلام کے تمام غیر پاکستانی علماء کے نزدیک ”چھ کلموں“ کی باقاعدہ ترتیب اور ان کے لیے ”چھ کلمے“ کی اصطلاح کا براهِ راست کوئی ثبوت یا نام بظاہر نہیں ملتا۔
غیر پاکستانی علماء کا اتفاق ہے کہ کلموں کو اس خاص ترتیب (پہلا، دوسرا... چھٹا کلمہ) کے ساتھ شریعت میں مرتب نہیں کیا گیا۔ یہ شش کلماتی ترتیب بنیادی طور پر برصغیر کے علماء اور مکاتبِ فکر (خصوصاً ابتدائی تعلیم کے نصاب) کا مرتب کردہ مجموعہ ہے تاکہ بچے اور عام مسلمان بنیادی عقائد اور اذکار حفظ کر سکیں۔اورمیں یہ بھی جانتی ہوں کہ اگرچہ ”چھ کلمے“ کے نام سے یہ چھ جملے بیک وقت یا اس ترتیب سے احادیث میں جمع نہیں ملتے، لیکن ان میں سے ہر ایک کلمے کے الفاظ اور مفاہیم الگ الگ صحیح اور معروف احادیث سے ثابت ہیں۔میرا سوال یہ ہے :
1۔ اسے سنّت کی ایک خاص اور لازمی ترتیب سمجھنا درست ہے ؟ نیز یہ اعتقاد رکھنا کہ شریعت نے انہیں اسی طرح ”چھ “ کی تعداد میں مقرر کیا ہے، یہ درست ہے ؟
2۔ مجموعی طور پر چھ کلموں کا متن اور مفہوم سنت سے ثابت ہے، لیکن ان کا بطور ”چھ کلمے“ کے نام سے ایک جگہ جمع و مرتب کرنا ایک تعلیمی و تدریسی ترتیب ہے یا یہ کوئی منصوص یا توقیفی شرعی حکم ہے ؟
1۔ ان چھ کلموں کو سنت کی ایک خاص یا لازمی ترتیب سجھنا درست نہیں ہے اور نہ ہی یہ اعتقاد رکھنا درست ہے کہ شریعت نے انہیں اسی طرح چھ کی تعداد میں مقرر کیا ہے۔
2۔ ان کلموں کی موجودہ ترتیب مخصوص نام اور تعداد تعلیمی و تدریسی مقاصد کے لیے مقرر کی گئی تھی، یہ کوئی منصوصی یا توقیفی حکم نہیں ہے۔
فتاوٰی دارالعلوم دیوبند میں ہے :
” الجواب: احادیث میں یہ کلمات اور ان کا ثواب وارد ہوا ہے، چونکہ مضمونِ توحید وایمان واسلام ان میں ہے، اس وجہ سے علماء نے ان کا نام کلمات رکھا ، اول دوم وغیرہ یہ احادیث میں واردنہیں ہے، یہ محض یاد کرنے کرانے کے لیے اور تعداد بتلانے کے لیے مقرر کرایا گیا ہے،اس کی کچھضرورت نہیں ہے، اصل کلمات یا د ہونے چاہیے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم“
(کتاب الحظر ا الاباحۃ، علم کا بیان، ج :17، ص :244، ط :مکتبہ دارالعلوم دیوبند)
فتاوٰی عثمانی میں ہے :
”جواب: - اسلام کی بنیاد در اصل ان عقائد پر ہے جو ایمان مفصل میں بیان کئے گئے ہیں،ان عقائد پر ایمان رکھتا تو مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح کلمہ توحید یا کلمہ شہادتچونکہ اپنے عقائد کا اجمالی اعلان ہے، اس لیے یہ ہر مسلمان کو یاد ہونا چاہئے، باقی جو کلمات نماز وغیرہ کیکتابوں میں لکھے ہیں، انہیں بچوں کی تعلیم کی آسانی کے لئے لکھ دیا گیا ہے، ورنہ در حقیقت ان کا وہ مقام نہیں جو کلمہ توحید، کلمہ شہادت یا ایمان مفصل کا ہے۔ اگر یہ کلمات کسی کو یاد نہ ہوں تو اس سے ایمانمیں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، البتہ چونکہ ان کلمات کا پڑھنا بہت موجب و ثو اب ہے اور مسلمانوں کو ان کا درد رکھنا چاہئے، اس لئے بچوں کو یہ تمام کلمات سکھا دینے چاہئیں، اور کلمہ استغفار میں اختلاف کیوجہ یہ ہے کہ احادیث میں استغفار کے مختلف صیغے وارد ہوئے ہیں۔ ان میں سے جو صیغہ بھی پڑھ لیاجائے مقصود حاصل ہے، کیونکہ معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں ہے، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے درودشریف کے مختلف صیغے احادیث سے ثابت ہیں، لہذا اس مسئلے پر لڑائی جھگڑا کرنا انتہائی غلط ہے،مسلمانوں کو اس طرح کے نزاعات سے پر ہیز کرنا چاہئے۔“
(کتاب الایمان، فصل فی المتفرقات، ج :1، ص :53، ط :مکتبہ معارف القرآن)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101276
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن