موبائل پر صرف لفظ ’’طلاق‘‘ لکھ کر فوراً ڈیلیٹ کرنے سے وقوعِ طلاق کا شرعی حکم
سوال
میری شادی کو ایک سال ہو چکا ہے۔ ایک دن میں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا ہوا باتیں کر رہا تھا اور موبائل پر مذاق میں ایک پیغام لکھا، جس میں صرف لفظ "طلاق" لکھا تھا، لیکن فوراً اسے ڈیلیٹ کر دیا۔
میری بیوی نے وہ پیغام دیکھ لیا اور کہا کہ آپ نے مجھے طلاق دی ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے آپ کو طلاق نہیں دی اور نہ ہی کوئی اور طلاق کا جملہ لکھا تھا، صرف لفظ "طلاق" لکھ کر فوراً ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں شرعاً طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاق واقع ہوئی؟
جواب
صورت مسئولہ میں سائل نے چوں کہ نہ بیوی کو مخاطب کرکے کوئی جملہ لکھا اور نہ اس کی طرف طلاق کی نسبت کی، بلکہ محض ایک لفظ "طلاق" لکھا اور اسے فوراً مٹا دیا، اور نہ ہی وہ پیغام بیوی کو ارسال کیا اور سائل کے بقول اس کی طلاق دینے کی نیت نہیں تھی۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے۔
الفتاویٰ الهندیة میں ہے:
"الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، وأعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب، وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا... ففي غير المرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا، وفي المرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو."
(کتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السادس في الطلاق بالألفاظ الفارسية والكتابة، ج:1، ص:378، ط: رشيدية)
ردّ المحتار میں ہے:
"الكتابة إذا كانت مستبينة مرسومة يقع الطلاق بها، وإن كانت مستبينة غير مرسومة فإنه يحتاج إلى النية."
(کتاب الطلاق، باب الصريح، ج:3، ص:246، ط: سعيد)
فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

