بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور پالنے کے لیے دینے کی مختلف صورتوں کا شرعی حکم اور اس کی جائز متبادل صورتوں کا بیان

سوال

ہمارے علاقے میں جانور پالنے، چرانے اور ان سے نفع حاصل کرنے کے مختلف طریقے رائج ہیں، جن میں سے درج ذیل چار صورتوں کا فقہِ حنفی کی روشنی میں شرعی حکم، ان کی شرعی خرابیاں اور جائز متبادل صورتیں بیان فرمائیں:

پہلی صورت:

زید نے عمرو کو ایک جانور (قیمت 1000 روپے) تين  سال کے لیے اس شرط پر پالنے اور چرانے کو دیا کہ چارے اور علاج کے تمام اخراجات عمرو کے ذمہ ہوں گے۔ عمرو کو اس مدت میں اصل جانور فروخت کر کے دوسرا جانور خریدنے کا مکمل اختیار ہوگا اور زید کا کوئی تصرف نہیں ہوگا۔ تين  سال بعد:

  1. اگر عمرو 500 روپے زید کو دے دے، تو جانور اور نفع دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا۔

  2. اگر جانور فروخت کرے، تو پہلے 1000 روپے زید کو دے گا، باقی مال و نفع نصف نصف ہوگا۔

  3. اگر مدت کے دوران جانور ہلاک ہو جائے تو زید کو 500 روپے وصول کرنے یا معاف کرنے کا اختیار ہوگا۔

دوسری صورت:

زید نے عمرو کو نقد رقم دی تاکہ وہ جانور خرید کر پالے یا فروخت کرے۔ طے یہ ہوا کہ اصل سرمایہ زید کو واپس ملے گا اور زائد نفع دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا، لیکن اگر نقصان ہوا تو تمام نقصان عمرو برداشت کرے گا اور زید کا اصل سرمایہ محفوظ رہے گا۔

تیسری صورت:

زید نے ایک جانور چار سال کے لیے عمرو کو پالنے کے لیے دیا۔ طے یہ ہوا کہ:

  • مادہ بچوں میں سے 1/4 عمرو کا اور 3/4 زید کا ہوگا، جبکہ نر بچوں میں نصف نصف ہوگا۔

  • چار  سال بعد (خواہ بچے ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں) اصل جانور کا 1/4 حصہ عمرو کو مل جائے گا۔

  • اخراجات (چارہ، علاج وغیرہ) میں زید 3/4 اور عمرو 1/4 ادا کرے گا۔

  • اگر جانور ہلاک ہو جائے تو عمرو پر کوئی ضمان نہیں ہوگا، نقصان زید کا ہوگا اور عمرو کی محنت ضائع جائے گی۔

چوتھی صورت:

زید نے ایک جانور عمرو کوتين  حمل کی مدت تک پالنے کے لیے دیا، تمام اخراجات عمرو کے ذمہ ہیں، تين حمل مکمل ہونے کے بعد (خواہ بچے ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں) زید پہلے اپنی پسند کا ایک جانور نکالے گا، باقی جانور یا مال دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا۔ قبل از وقت ہلاکت پر عمرو پر کوئی ضمان نہیں ہوگا اور اس کی محنت و خرچ ضائع جائے گا۔

درج ذیل امور کے متعلق راہ نمائی درکار ہے:

  1. چاروں صورتوں کا شرعی حکم اور ان کی بنیادی شرعی خرابی (غرر، جہالت، فاسد شرط، ضمان وغیرہ) واضح فرمائیں۔

  2. ہلاکت، اخراجات اور نفع/بچوں کی تقسیم کے شرعی اصول بیان فرمائیں۔

  3.  ایسی عملی اور نزاع سے پاک جائز صورت تجویز فرمائیں جس میں ایک شخص جانور/سرمایہ دے اور دوسرا محنت کرے اور دونوں کا نفع جائز طریقے سے طے ہو جائے۔

جواب

کسی کو جانور پالنے  کے لیے  دینا شرعا  اجرت کا معاملہ ہے،اور اجرت کے معاملے میں  شرعا  اجرت کا متعین ہونا ضروری ہے، اجرت متعین کیے بغیر معاملہ درست نہیں ہوتا،چنانچہ پہلی صورت میں  جانور کتنے کا فروخت ہوگا،  یہ  معلوم نہیں، لہذا اجرت مجہول ہوگئی ، اس کو  ماہانہ یا سالانہ کوئی متعین  اجرت پر دینا  چاہیے تھا،نیز جانور ہلاک ہونے کی صورت میں پالنے والے (عمرو) پر500 روپے کا تاوان/ضمان عائد کرنا شرطِ فاسد ہے؛ کیونکہ پالنے والے کے پاس جانور امانت ہوتا ہے اور امانت دار پر بغیر کسی تعدی (کوتاہی) کے ضمان لازم نہیں ہوتا،لہذا یہ پہلی صورت جائز نہیں ہے۔

دوسری صورت  میں چونکہ زید کی طرف سے نقد رقم (سرمایہ) ہے اور عمرو کی محنت (عمل ) ہے ،لہذا یہ شرعاً مضاربت کی صورت بنے گی،اس صورت میں یہ شرط لگانا کہ نقصان کی صورت میں زید کا  اصل سرمایہ محفوظ رہے گا ،شرعاً درست نہیں اور شرطِ فاسد ہے، البتہ مذکورہ عقدِ مضاربت اس شرط کی وجہ سے فاسد نہیں ہوگا، بلکہ خودیہ شرط، فاسدہونے کی وجہ سے غیرمعتبرہوگی،اور "مضاربت" کے معاملہ میں اصول یہ ہے کہ اگر نقصان ہو جائے تو اس نقصان کو اولاً نفع سے پورا کیا جاتا ہے اگر نقصان نفع سے پورا  ہوجائے تو بہتر ، ورنہ اس  نقصان کی ذمہ داری رب المال ( انویسٹر ) پر عائد ہوتی ہے بشرطیکہ اس نقصان میں مضارب (عامل) کا کوئی دخل نہ ہو یعنی وہ نقصان مضارب کی غفلت، کاہلی وغیرہ کی وجہ سے نہ ہوا ہو ،جبکہ مذکورہ صورت میں بہر صورت نقصان کی ذمہ داری عامل (عمرو) پر ڈالی جارہی ہے ،جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

تیسری صورت بھی جائز نہیں ہے؛کیونکہ اس میں بھی جہالت پائی جارہی ہے،کیونکہ عقد کے وقت یہ معلوم نہیں کہ بچے ہوں گے یا نہیں، ہوں گے تو کتنے اور کس جنس کے،نیز عمل کرنے والے کو اسی کے عمل سے پیدا ہونے والے آئندہ بچوں یا فوائد میں سے اجرت دی جائے گی ،جو کہ "قفیز طحان " کے معنی میں داخل ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے،نیز جانور کی دیکھ بھال اور چارے کے اخراجات شرعاً اصل مالک (زید) کے ذمے  ہیں،  عمرو کو اخراجات کا مکلف بنانا شرعاً درست نہیں ہے ۔

چوتھی صورت بھی جائز نہیں ہے،کیونکہ  مدتِ عقد کو "تین حمل" سے متعین کرنا مدتِ مجہول ہے، کیونکہ حمل میں کتنا وقت لگے گا یہ یقینی طور پر معلوم نہیں (کبھی جلد، کبھی تاخیر سے، بلکہ کبھی حمل ہی نہ ٹھہرے)، اور مدت کا معلوم و متعین ہونا عقد کی صحت کے لیے ضروری ہے۔،نیز اس میں اجرت بھی مجہول ہے،اور زید کا "پہلے اپنی پسند کا ایک جانور نکال لینا" پھر باقی میں نصف نصف کرنا بھی موجب نزاع ہے ۔

چنانچہ  مذکورہ چاروں صورتوں میں زید اور عمرو کے درمیان ابتداءً ایسا معاہدہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔  مذکورہ جانور اور اس سے حاصل شدہ منافع (دودھ، بچے وغیرہ) اصل مالک (یعنی زید) ہی کے ہوں گے، اور عمرو کو اس کے پالنے کی اجرتِ مثل دی جائے گی، یعنی عام طور پر چارے وغیرہ کے علاوہ جانور پالنے اور اس کی دیکھ بھال کی جو مناسب اجرت بنتی ہے، پالنے والا اسی اجرت کا مستحق ہوگا، اور اگر اس نے چارہ وغیرہ خرید کر یا اپنی ملکیت کا کھلایا تو اس کی قیمت بھی واجب ہوگی، اور اگر مباح چراگاہ میں چرایا تو اس کی کوئی قیمت واجب نہ ہوگی۔

اس کی متبادل جائز  صورتیں درج ذیل ہیں:

1-   ایک صورت یہ ہے  کہ کرایہ پر پالنے کے لیے جانور  دے دے، اور پالنے والے کی اجرت( ماہانہ  یا سالانہ) طے کرلے، اس صورت میں دودھ، بچے وغیرہ سب مالک کے ہوں گے۔

2- زید (مثلاً)  اپنے پیسوں سے جانور خریدے اور پھر عمرو (مثلًا) کے ہاتھ اس کا آدھا حصہ  آدھی قیمت پر بیچ دے ،پھر زید عمرو کو وہ پیسے معاف کردے،تو  دونوں کے درمیان  وہ جانور مشترک ہوجائے گا،  اس جانورسے  جو بچے   پیدا ہوں گے ، ہر ہر بچے میں زیداور عمرو برابر شریک ہوں گےاور اس طرح اس جانورکے دودھ میں بھی دونوں برابر شریک ہوں گے۔ اس صورت میں معاف کرنا بھی ضروری نہیں ہے، اگر دوسرے شریک کے پاس فی الوقت پیسے نہ ہوں، تو اس کے حصے کی رقم ادھار کرلی جائے، اور جیسے اس کی گنجائش ہو وہ ادا کرتا رہے۔اس دوران چارے وغیرہ کا جو خرچہ آئے گا وہ بھی ملکیتی حصوں کے مطابق آدھا آدھا ہر ایک پر آئے گا۔البتہ اگر خریدار کو  رقم معاف کی گئی ہو اور اس احسان کے بدلے میں وہ جانور کے چارہ وغیرہ کے اخراجات کا آدھا حصہ بیچنے والے سے وصول نہ کرنا چاہے تو  بھی حرج نہیں، نیز پالنے والا شخص اگر دیکھ بھال کرنے کی آدھی اجرت  اپنے شریک سے لینا چاہے تو بھی لے سکتا ہے۔

3-  زید اور عمرو   دونوں پیسے ملا کرجانور خریدیں، اس میں ہر ایک اپنی مالیت کے بقدر شریک ہوگا، اوراسی طرح  مالیت کے تناسب سے دونوں اس کے دودھ ، اور ہر ہر بچے میں بھی  شریک ہوں گے، البتہ اس صورت میں اس طرح طے کرنا کہ پہلا بچہ ایک کا ہوگا اور دوسرا بچہ دوسرے کا ہوگا یہ شرعاً غلط ہے،دونوں ہر ہر بچے میں اپنے اپنے حصے کے بقدر شریک ہوں گے ۔

فتح القدیرمیں ہے:

"إذا دفع بقرة إلى آخر يعلفها ليكون الحادث بينهما بالنصف فالحادث كله لصاحب البقرة و له على صاحب البقرة ثمن العلف و أجر مثله."

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:6،ص:421،ط:الحلبي)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما."

(کتاب الإجارۃ ،الباب الخامس عشر فی بیان ما یجوز من الإجارۃ ومالا یجوز،الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو في معناه،ج:4،ص:445،ط:رشيدية)

خلاصۃ الفتاوی ہے :

"رجل دفع بقرةً إلى رجل بالعلف مناصفةً، وهي التي تسمى بالفارسية "كاونيم سوو" بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان، فهذا فاسد، والحادث كله لصاحب البقرة، والإجارة فاسدة."

(کتاب الإجارات،ج:3،ص:114، ط:رشیدية)

درِ مختار میں ہے:

" (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد أشباه."

(کتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة،ج:6،ص:47/46،ط:سعید)

مجمع الضمانات  میں ہے:

"المضاربة عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين وعمل من الجانب الآخر .....ثم المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه فإذا ربح فهو شريك فيه، وإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره".

(باب في مسائل المضاربة،الفصل الأول في المضاربة،ص: 303،ط:دار الکتاب الإسلامي)

البنا یہ شرح الہدایہ    میں ہے:

"قال: وما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال؛ لأن الربح تابع وصرف الهلاك إلى ما هو التبع أولى كما يصرف الهلاك إلى العفو في الزكاة، فإن زاد الهالك على الربح فلا ضمان على المضارب؛ لأنه أمين...

ش: إنما كان الربح تابعا لأنه لا يتصور بدون رأس المال وهو متصور بدونه، فكان أصلا....م: (لأنه أمين) ش: فلا يكون ضمينا لما بينهما من المنافاة."

(كتاب المضاربة،فصل في العزل والقسمة،ما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال،ج:10،ص:80،ط:دارالكتب العلمية)

درِ مختار میں ہے:

"(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن) لما مر"۔

(کتاب المضاربة،باب المضارب یضارب،فصل فی المتفرقات فی المضاربة،ج:5،ص:656،ط:سعید)

درر  الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما فلا يعتبر ذلك الشرط) . يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر. ويستفاد هذا الحكم من الفقرة الثانية من المادة الآنفة وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط. انظر المادة (83) أي يكون الشرط المذكور لغوا فلا يفسد المضاربة (الدرر) ؛ لأن هذا الشرط زائد فلا يوجب الجهالة في الربح أو قطع الشركة فلا تفسد المضاربة به حيث إن الشروط الفاسدة لا تفسد المضاربة (مجمع الأنهر)."

(الکتاب العاشر الشرکات،الباب السابع في حق المضاربة،الفصل الثالث في بيان أحكام المضاربة،ج3،ص459،المادة: 1428،ط:دار الجیل)

تبيين الحقائق میں ہے:

"(وكل شرط يوجب جهالة الربح يفسدها وإلا لا ويبطل الشرط كشرط الوضيعة على المضارب) أي إن لم يكن مؤديا إلى جهالة الربح لا يفسدها بل يبطل الشرط… وشرط الوضيعة شرط زائد لا يوجب قطع الشركة في الربح ولا الجهالة فيه فلا يكون مفسدا وتكون الوضيعة وهو الخسران على رب المال؛ لأن ما فات جزء من المال بالهلاك يلزم صاحب المال دون غيره والمضارب أمين فيه فلا يلزمه بالشرط فصار الأصل فيه أن كل شرط يوجب جهالة في الربح، أو قطع الشركة فيه مفسد وما لا فلا."

(کتاب المضاربة،ج:5،ص:56/55،ط:دارالکتاب الإسلامي)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 777) الوديعة أمانة بيد المستودع بناء عليه إذا هلكت أو فقدت بدون صنع المستودع وتعديه وتقصيره في الحفظ لا يلزم الضمان"۔

(‌‌الكتاب السادس: في الأمانات،‌‌الباب الثاني في الوديعة،‌‌الفصل الثاني: في أحكام الوديعة وضمانها،ص:148،ط:نور محمد)

احسن الفتاوی میں ہے:

" سوال: زید نے بکر کو ایک گائے نصف بٹائی پر دیدی کہ اس کو کھلاتے رہو، جب یہ بچہ دے گی تو بچہ آپ کا اور گائے میری ہوگی،ہم اس کو نصف بٹائی کہتے ہیں،کیا یہ جائز ہے؟اگر نہیں ہے تو عدمِ جواز کی وجہ؟بینوا توجروا

 الجواب باسم ملہم الصواب:

یہ اجارہ فاسد ہے، اس لیے کہ اس میں اجرت اور مدت دونوں مجہول ہیں۔ چرانے والے کو اجر مثل ملے گا اور بچہ گائے کے مالک کا(ہوگا)۔"

(کتاب الاجارۃ،ج:7،ص:309/308،ط:سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

"(سوال) اس ملک میں ایسا طریقہ رائج ہے کہ گائے یا بھینس یا بکری کا بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تو اس کا مالک کسی کو پرورش کے واسطے دیتا ہے اور اجرت حق پرورش کی یہ قرار دی جاتی ہے کہ جب بچہ بڑا ہو جائے مالک اور پالنے والا اس کی قیمت لگا کر نصفا نصف  بانٹ لیتے ہیں یا مالک جانور نصف قیمت پالنے والے کو دے کر جانور لے لیتا ہے یا پالنے والے نصف قیمت دے کر خود رکھ لیتے ہیں۔ اور بعض وقت مالک پالنے والے کو دو بچے شرط مذکورہ پر دیتا ہے، جب دونوں بڑے ہو جاتے ہیں تو مابین ایک ایک لے لیتے ہیں۔ صورت اولی و ثانیہ میں ایک یا دونوں اگر مر جائیں تو پالنے والے کی محنت اکارت جاتی ہے۔ کیا شرعا یہ عقد جائز ہے یا نہیں ؟ اور مالک اور پالنے والے کی ملک طریقہ مذکورہ سے شرعا صحیح ہو گی یا نہیں؟ اور ہر ایک کو طریقہ مذکورہ سے جس جانور پر ملک ثابت ہو جائے اس کو قربانی وغیرہ میں لینا جائز ہے یا نہیں ؟
(جواب ) یہ دونوں صورتیں نا جائز ہیں۔ کیونکہ اس میں پالنے والا جو در حقیقت اجرت پرورش کا مستحق ہے نفس شئی مستاجر علیہ میں شریک قرار دیا جاتا ہے جو معنی میں قفیز طحان اور عامل لنفسہ ہونے کی وجہ سے مکروہ اور نا جائز ہے۔ جانور زندہ رہے تو مالک کا ہے اور پالنے والا اجر کا مستحق ہے اور مر جائے تو مالک کامر ااور پالنے والا بقدر خدمت اجرت کا مستحق ہے۔ مالک کی ملک صحیح ثابت ہے اس لئے قربانی کرنے میں اس کے حق میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور پالنے والے کی صحیح نہیں۔ اس لیے اسے اس جانور کی قربانی کرنا جائز نہیں۔"

(کتاب المعاش،پہلا باب،ملازمت اور اجارہ، جواب نمبر:302،ج:7،ص:306،ط:دارالاشاعت)

امدادالفتاوی میں ہے:

"سوال: زید نے اپنا بچھڑا بکر کو دیا کہ تو اس کو پرورش کر، بعد جوان ہونے کے اس کی قیمت کر کے ہم دونوں میں سے جو چاہے گا نصف قیمت دوسرے کو دے کر اسے رکھ لے گا، یا زید نے خالد کو ریوڑ سونپا اور معاہدہ کر لیا کہ اس کو بعد ختمِ سال پھر پڑ تال لیں گے،  جو اس میں اضافہ ہوگا وہ با ہم تقسیم کر لیں گے، یہ دونوں عقد شرعاً جائز ہیں یا قفیز طحان کے تحت میں ہیں؟ جیسا کہ عالمگیری جلد  پنجم ص ۲۷۱ مطبوعہ احمدی میں ہے ۔ دفع بقرة الى رجل على ان يعلفها وما يكون من اللبن والثمن بينهما انصافاً والاجارة فاسدة ۔

الجواب: كتب الى بعض الاصحاب من فتاوى ابن تيميه كتاب الاختيارات ما نصه ولو دفع دابته او نخله الى من يقوم له وله جزء من نمائه صح وهو رواية عن احمد ج 4  ه،ص85س 14 ، پس حنفیہ کے قواعد پر تو یہ عقد نا جائز ہے، کما نقل فی السوال عن عالمگیریہ لیکن بنا بر نقل بعض اصحاب امام احمد کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے ، پس تحرز احوط ہے، اور جہاں ابتلا ء شدید ہو تو سع کیا جا سکتا ہے۔"

(کتاب الاجارہ،ج:3،ص:343/342،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101228
تاریخ12-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں