بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1448ھ 02 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کے گھر اجتماعی کھانا، چندہ اور تیجہ، چالیسا و سالانہ کھانے کا شرعی حکم


سوال

ہمارے گاؤں  میں دستور یہ ہے کہ جب کسی کا انتقال ہو جائے تو:

1۔ دور دراز سے رشتہ دار آتے ہیں اور چار پانچ دن میت کے گھر ٹھہرتے ہیں اور وہیں کھانا کھاتے ہیں۔ کبھی محلے والے کھانے کا انتظام کرتے ہیں، لیکن اس شرط پر کہ کل کو ہمارے گھر فوتگی ہو تو تم بھی کھانے کا انتظام کرو گے؛ جو نہ کرے اسے طعنے دیے جاتے ہیں اور بعض جگہ سماج سے الگ (ایک گھر) کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ کھانا کھانا جائز ہے؟

2۔ سماج کے معتبر لوگ ہر گھر سے چندہ اٹھا کر تے ہیں، تقریباً 5 ہزار ٹکا فی گھر، چاہے کسی کے پاس ہو یا نہ ہو؛ شرم کے مارے لوگ قرض لے کر یا بیوی کا زیور بیچ کر دیتے ہیں، ورنہ سماج م سےباتیں سننی پڑتی ہیں۔ پھر اسی رقم سے میت کے گھر والے تیسرے دن "قل خانی" کے نام سے سارے گاؤں کو کھانا کھلاتے ہیں، جس پر 1 لاکھ ٹکا تک خرچ آجاتا ہے۔ اس کا کیا حکم ہے؟

3۔ اسی طرح چالیسویں دن "چالیسا" اور سال پورا ہونے پر پھر کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ شریعت میں ان کی کیا حیثیت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فوتگی غم کا موقع ہے، اور اس موقع پر میت کے گھر لوگوں کو جمع کرکے دعوتوں کا اہتمام کرنا اور اس کے لیے محلے والوں سے زبردستی چندہ کرنا شریعت کے خلاف عمل ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غمی کے موقع پر اظہارِ خوشی یا اظہارِ غم کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ پس مسلمانوں کو خوشی کے اظہار کے لیے حسبِ استطاعت دعوت کرنے کا اختیار دیا ہے، جبکہ غمی و فوتگی کے موقع پر اہلِ میت کے ساتھ غم خواری کا طریقہ بھی بیان کیا ہے اور اس موقع پر دعوتوں کے اہتمام کی اجازت نہیں دی ہے۔

البتہ فوتگی کے پہلے روز اہلِ میت کے لیے کھانے پینے کا انتظام کو حسبِ استطاعت مشروع قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاءِ کرام نے اہلِ میت کے لیے تیار کردہ کھانا کھانے کے حوالے سے صراحت کی ہے کہ اس کھانے پر میت کے لواحقین کا حق ہے۔ وہ افراد جو دور دراز علاقوں سے تعزیت کے لیے آئے ہوں اور کھانا کھانے کے لیے اپنے اپنے گھر جانا ان کے لیے مشکل ہو، البتہ وہ افراد جو تعزیت کے لیے قرب و جوار سے آئے ہوں، ان کے لیے اہلِ میت کی طرف سے تیار کردہ کھانا کھانا ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

نیز تین دن یا اس سے زیادہ ایام تک کھانا کھلانے کو بدعت اور واجب الترک قرار دیا ہے۔ تعزیت کے لیے شریعتِ مطہرہ نے تین دن مقرر کیے ہیں۔ اس موقع پر اہلِ میت سے غم خواری کے کلمات کہنا اور میت کے لیے دعائیہ کلمات کہنا مشروع ہے، تاہم کئی کئی روز تک ڈیرے ڈالے رکھنا غیر مشروع طریقہ ہے، جو کہ واجب الترک ہے۔ لہٰذا:

1۔ صورتِ مسئولہ میں قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ میت کے گھر والوں اور دور دراز سے آئے ہوئے رشتہ داروں کے لیے ایک دن اور ایک رات کھانے کا انتظام کریں۔

اس کے لیے زبردستی چندہ کرنا اور چندہ نہ دینے والوں سے معاشرتی بائیکاٹ کرنا یا انہیں طعنے دینا غیر مشروع طریقہ ہے، کیونکہ اہلِ میت کے لیے ایک دن کے کھانے کا انتظام کرنا، یعنی محلہ، عزیز و اقارب پر واجب نہیں، بلکہ مستحب عمل ہے، اور مستحب عمل کی ادائیگی کے لیے دلی رضامندی کا ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے۔

پس اگر پہلے سے معلوم ہو کہ کھانے کا اہتمام طعنوں سے بچنے کی وجہ سے دلی رضامندی کے بغیر کیا گیا ہے، یا اس غرض سے کیا گیا ہے کہ کل کو ہمارے یہاں فوتگی ہوگی تو یہ لوگ بھی اہتمام کریں گے، تو ایسا کھانا کھانا بھی جائز نہیں ہوگا۔

اسی طرح جو رشتہ دار دور سے آئے ہوں اور اسی دن واپسی ممکن نہ ہو، یا اہلِ میت کی تسلی کے لیے ان کا ٹھہرنا ضروری ہو، وہ تو میت کے گھر کھانا کھا لیں تو گنجائش ہے؛ باقی تعزیت کرنے والوں کو چاہیے کہ اپنے گھروں کو واپس جائیں، نہ وہاں قیام کریں اور نہ دعوت کھائیں۔

2۔ کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا جائز نہیں، لہٰذا سماج کی طرف سے دباؤ ڈال کر یا شرم دلا کر چندہ اٹھانا جائز نہیں، اور اس چندے کی رقم سے اہلِ میت کا خیراتی کھانا پکا کر لوگوں کو کھلانا بھی جائز نہیں۔

3۔ فوتگی کے تیسرے دن، چالیسویں دن اور سال پورا ہونے پر جو کھانا کھلایا جاتا ہے، جسے کل خانی، چالیسا اور برسی کہا جاتا ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں؛ یہ محض رسومات ہیں جنہیں موجودہ زمانے میں لوگوں نے دین کا حصہ سمجھ لیا ہے، اور بہت سے منکرات کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے یہ مکروہ اور ناجائز ہیں۔ ان کا ترک کرنا لازم ہے۔

ہاں، دن اور وقت کی تعیین و تخصیص کے بغیر میت کے لیے دعا و استغفار کرنا،  اپنے ملک سے (اپنی طرف سے )صدقہ و خیرات کرنا اور بلا اجرت تلاوت کرکے ایصالِ ثواب کرنا ہر وقت جائز ہے اور اس کا فائدہ میت کو پہنچتا ہے۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن أبي شريح الكعبي: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه، جائزته يوم وليلة، والضيافة ثلاثة أيام، فما بعد ذلك فهو صدقة، ولا يحل له أن يثوي عنده حتى يحرجه."

(كتاب الأدب، باب إكرام الضيف وخدمته إياه بنفسه، ج: 8، ص: 32، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

الدر المختار مع حاشیۃ ابن عابدین میں ہے:

"(قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم: اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم، حسنه الترمذي وصححه الحاكم، ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون اهـ.

وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة؛ وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع الخ."

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت، ج:2، ص:240، ط: ايچ ايم سعيد كراتشي)

العرف الشذی شرح سنن الترمذی میں ہے:

"يستحب للجيران والأقرباء صنع الطعام لأهل الميت، وفي عامة كتبنا أن ما في زماننا أكل الطعام من بيت أهل الميت فبدعة، وفي فتح القدير رواية أخرجها من مسند أحمد تدل على المنع من أكل الطعام من بيت أهل الميت وسندها قوي."

(كتاب الجنائز، باب ما جاء في الطعام يصنع لأهل الميت، ج:2، ص:314، ط: دار التراث العربي)

کفایت المفتی میں ہے:

"اہلِ میت کے گھر ضیافت کھانے کی جو رسم پڑ گئی ہے یہ یقیناً واجب الترک ہے، صرف اہلِ میت کے وہ عزیز و اقارب جو دور دور سے آئے ہوں اور ان کی امروز واپسی نہ ہو سکے یا اہلِ میت کی تسلی کے لیے ان کا قیام ضروری ہو وہ میت کے گھر کھانا کھا لیں تو خیر، باقی تمام تعزیت کرنے والوں کو اپنے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہیے، نہ میت کے گھر قیام کریں نہ ضیافت کھائیں۔"

(کتاب الجنائز، ج:4، ص:123، ط: دار الاشاعت)

وفیہ ایضاً:

"ایصالِ ثواب کے لیے فقراء و مساکین کو صدقہ و خیرات دینا جائز ہے، برادری کو کھانا کھلانا، اور تیجہ چالیسواں ان رسوم کو ادا کرنا بدعت ہے الخ."

(کتاب الجنائز، ج:4، ص:131، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں