بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1448ھ 18 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نہر کے قریب موجود مٹی فروخت کرنے کا حکم روڈ پر حکومت کے منع کے باوجود ٹھیلے لگانے کا حکم

سوال

ایک قدرتی ندی ہے۔ اگر حکومت کی طرف سے اس ندی سے مٹی اور پانی وغیرہ لے جانے کی اجازت نہ ہو تو کیا اس سے مٹی اور پانی لے کر استعمال کرنا جائز ہے؟

2۔ اس ندی کی زمین سے ملی ہوئی لوگوں کی زمین ہے اور اس کے مالکان کہتے ہیں کہ یہ ندی کی زمین بھی ہماری ملکیت ہے۔ اور یہ لوگ اس ندی سے مٹی لے جانے والوں سے پیسے لے کر ان کو گاڑی بھرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تو کیا ان کا گاڑی والوں سے مٹی کے عوض پیسے لینا اور گاڑی والوں کا پھر اس مٹی کو آگے فروخت کرکے پیسے کمانا جائز ہے؟

3۔ اس ندی کی مٹی سے کاروبار کرنے کے لیے دو شخصوں نے مل کر ایک گاڑی خریدی، ان میں سے ایک شخص کو مٹی کا کاروبار کرنا نہیں آتا، سب خرید و فروخت اور گاڑی چلانا وغیرہ دوسرا شریک کرتا ہے، نفع و نقصان دونوں کا آدھا آدھا مقرر ہے، تو کیا اس سے جو آمدنی آئے گی وہ دونوں کے لیے حلال ہے یا دونوں کے لیے حرام؟

4۔ اگر حکومت کی پابندی کی وجہ سے اس مٹی کا کاروبار کرنا حرام ہو تو روڈ پر جو ٹھیلے وغیرہ کھڑے کئے ہوتے ہیں، ان پر بھی حکومت کی طرف سے پابندی ہوتی ہے، لیکن وہ پولیس وغیرہ کو پیسے دے کر اپنا کام چلاتے ہیں۔ تو کیا ان ٹھیلے والوں کی آمدنی بھی حرام ہے؟

جواب

 اگر نہر کسی کی ملکیت نہ ہو، تو اس سے پینے کے لیے یا جانور وغیرہ کو پلانے کے لیے کوئی بھی اس سے پانی لے سکتا ہے، کسی کو منع کرنے کی اجازت شرعاً نہیں ہے، اور اگر اس سے اپنی زمین سیراب کرنا چاہے تو اس شرط کے ساتھ سیراب کر سکتا ہے جب اس سے عام لوگوں کو ضرر نہ پہنچتا ہو، اگر اس نہر سے زمین سیراب کرنے کی وجہ سے پانی کم یا نہر کو نقصان پہنچتا ہو، تو پھر اس سے زمین سیراب کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اور اگر نہر کسی خاص فرد یا جماعت اور علاقہ والوں کی ملکیت ہو، تب بھی خود پینے کے لیے اور جانور وغیرہ کو پلانے کے لیے اجازت سب کو ہے، اس سے منع کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، البتہ اس پانی سے زمین سیراب کرنا نہر کے مالکان کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب وہ نہر قدرتی ہے، تو اس کا پانی حسبِ بیان سابق کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے۔

رہا نہر کے قریب مٹی کا مسئلہ تو اگر اس کے قریب واقع زمین کے مالکان مطلوبہ مٹی والی زمین پر اپنا دعوی ملکیت شرعی دلیل سے ثابت کر دیں، تو وہ زمین ان کی ملکیت شمار ہوگی، اور انہیں اس میں ہر جائز قسم کا تصرف کرنے کا حق حاصل ہوگا، خواہ وہ مٹی اپنے استعمال میں لائیں یا اسے فروخت کریں۔اور اگر وہ مذکورہ زمین پر اپنی ملکیت شرعی دلیل سے ثابت نہ کرسکیں، بلکہ محض اس بنیاد پر اس زمین کو اپنی ملکیت قرار دیں کہ وہ ان کی زمین کے قریب واقع ہے، تو صرف زمین کے قریب ہونے کی وجہ سے ان کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی، بلکہ ایسی صورت میں مذکورہ زمین سرکاری ملکیت شمار ہوگی، لہذا سرکار کی اجازت کے بغیر اس کی مٹی استعمال کرنا یا اسے فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا۔

نیز جب کاروبار ناجائز ہو، تو ناجائز کاروبار کی حرمت جس طرح عملی طور پر اس کاروبار کرنے والے کے لیے ہوتی ہے، اسی طرح اس کے حق میں بھِی اس کی حرمت ہوتی ہے جو اس کاروبار کے ناجائز ہونے کو جانتے ہوئے اس کاروبار میں حصہ دار بنے، اگرچہ وہ صرف مالی حصہ دار ہی کیوں نہ ہو، لہذا ناجائز کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی جس طرح اس کاروبار کرنے والے کے لیے حرام ہے، اسی طرح اس کے شریک کے لیے بھی، اگر چہ وہ اس میں عملی طور پر شریک نہیں ہوا تھا، بلکہ صرف مالی طور پر شریک تھا۔

جہاں تک بات روڈ پر ٹھیلے لگانے کی ہے، تو اگر اس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف نہیں ہوتی ہو، اور حکومت کی طرف سے منع بھی نہ ہو، پھر تو ٹھیلا وغیرہ لگانا جائز ہے، لیکن اگر اس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو، آمد و رفت میں مسائل پیش آتے ہوں، یا حکومت نے منع کیا ہو، تو ایسی صورت میں ٹھیلے وغیرہ لگانا جائز نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود اگر کسی نے ٹھیلے وغیرہ لگا کر چیزیں بیچنے شروع کر دیے، تو اگر اس کے خرید و فروخت کے معاملے میں کوئی اور شرعی خرابی نہ ہو تو محض حکومت کے منع کرنے کی وجہ سے اس کی خرید و فروخت پر حرمت کا حکم نہیں لگے گا۔

دونوں مسئلوں[سرکاری زمین کی مٹی کی فروخت ان کی اجازت کے بغیر اور روڈ پر حکومت کی اجازت کے بغیر ٹھیلے وغیرہ لگاکر کاروبار کرنے] میں فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں فروخت ہونے والی چیز یعنی مٹی وہ سرکار کی ملکیت تھی، اور سرکار کی اجازت کے بغیر اس کا بیچنا گویا مالک کی اجازت کے بغیر اس کی مملوکہ چیز کو بیچنا تھا، جو حرام ہے، جب کہ دوسری صورت میں ٹھیلے لگانے والا اپنی ہی مملوکہ چیز فروخت کرتا ہے، البتہ جس جگہ کو استعمال کیا ہے  چونکہ اس سے لوگوں کی آمدروفت میں خلل پڑتا ہے اس لیے اس خارجی عنصر کی وجہ سے ٹھیلہ لگانا منع ہوتا ہے ورنہ فی نفسہ مال فروخت کرنے میں قباحت نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

(قوله في كل ماء لم يحرز) اعلم أن المياه أربعة أنواع.الأول: ماء البحار ولكل أحد فيها حق الشفة؛ وسقي الأراضي فلا يمنع من الانتفاع على أي وجه شاء، والثاني: ماء الأودية العظام كسيحون، وللناس فيه حق الشفة مطلقا وحق سقي الأراضي إن لم يضر بالعامة. والثالث: ما دخل في المقاسم أي المجاري المملوكة لجماعة مخصوصة، وفيه حق الشفة. والرابع. المحرز في الأواني ينقطع حق غيره عنه وتمامه في الهداية. وحاصله: أن لكل أحد في الأولين حق الشفة والسقي لأرضه وفي الثالث حق الشفة فقط ولا حق في الرابع لأحد. (قوله لم يحرز بإناء) الأولى في إناء، فلو أحرزه في جرة أو حب أو حوض مسجد من نحاس أو صفر أو حص وانقطع جريان الماء فإنه يملكه،

(كتاب إحياء الموات، فصل الشرب، ج: 6، ص: 438، ط: ايج ايم سعيد)

وفيه ايضا:

" (قوله المسلمون شركاء في ثلاث) أي شركة إباحة لا شركة ملك، فمن سبق إلى شيء من ذلك في وعاء أو غيره وأحرزه فهو أحق به وهو ملك له دون من سواه يجوز له تمليكه بجميع وجوه التمليك، وهو موروث عنه وتجوز فيه وصاياه، وإن أخذه أحد منه بغير إذنه ضمنه، وما لم يسبق إليه أحد فهو لجماعة المسلمين مباح ليس لأحد منع من أراد أخذه للشفة إتقاني عن الكرخي"

(كتاب إحياء الموات، فصل الشرب، ج: 6، ص: 440، ط: ايج ايم سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

" (ومن أخرج إلى طريق العامة كنيفا أو ميزابا أو جرصنا أو دكانا فلكل نزعه) أي لكل أحد من أهل المرور الخصومة مطالبة بالنقض...ثم الكلام في هذه المسألة في ثلاثة مواضع أحدها في أنه هل يحل له إحداثه في الطريق أم لا والثاني في الخصومة في منعه من الإحداث فيه ورفعه بعده والثالث في ضمان ما تلف بهذه الأشياء أما الإحداث فقال شمس الأئمة إن كان الإحداث يضر بأهل الطريق فليس له أن يحدث ذلك، وإن كان لا يضر بأحد لسعة الطريق جاز له إحداثه فيه ما لم يمنع منه؛ لأن الانتفاع في الطريق بغير أن يضر بأحد جائز فكذا ما هو مثله فيلحق به إذا احتاج إليه، فإذا أضر بالمار لا يحل لقوله عليه الصلاة والسلام "لا ضرر ولا ضرار في الإسلام"۔۔ وعلى هذا القعود في الطريق للبيع والشراء يجوز إن لم يضر بأحد، وإن أضر لم يجز لما قلنا،"

(كتاب الديات، باب ما يحدث الرجل في الطريق، ج: 8، ص: 395، ط: دار الكتاب الإسلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

" (ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه"

(کتاب البیوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج: 5، ص: 147،146، ط: دار الكتب العلمية) 

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101175
تاریخ17-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں