بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ربیع الثانی 1448ھ 11 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کے لیے ”اریبہ نوریز“ یا ”اریبہ نُسیبہ“ نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

لڑکی کے لیے ”اریبہ نوریز“ یا ”اریبہ نُسیبہ“ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

” اریبہ “  عربی نام ہے،معنی ہے:  عقلمند، سمجھ دار، دانا، ہوشیاراور  دوسرا معنیٰ  وسعت والی، کشادہ۔ان معانی کے اعتبارسے” اریبہ “  نام کے ساتھ مذکورہ دونووں نام ”اریبہ نوریز“ یا ”اریبہ نُسیبہ“ لڑکی کا نام رکھنادرست ہے۔ البتہ ان دونوں میں سے دوسرا نام پہلے سے بہتر ہےاس لیے کہ نُسیبہ صحابیہ کا نام ہے۔

نیز مذکورہ معانی کے اعتبار سے لڑکی کا نام ” اریبہ “  بھی رکھنا درست ہے۔

لسان العرب  میں ہے: 
" والإرب والإربة والأربة والأرب: الدهاء  والبصر بالأمور، وهو من العقل. أرب أرابة، فهو أريب من قوم أرباء. يقال: هو ذو إرب. وما كان الرجل أريبا، ولقد أرب أرابة. وأرب بالشيء: درب به وصار فيه ماهرا بصيرا، فهو أرب. قال أبو عبيد: ومنه الأريب أي ذو دهي وبصر. قال قيس بن الخطيم:

أربت بدفع الحرب لما رأيتها، … على الدفع، لا تزداد غير تقارب

أي كانت له إربة أي حاجة في دفع الحرب."

( حرف الباء، فصل الهمزة، ج: 1، ص: 209، ط: دار صادر)

اللباب میں ہے:
" قد يتعدد الخبر فيقال: هو شاعر ناثر أديب أريبٌ."

(اللباب في قواعد اللغة وآلات الأدب النحو والصرف والبلاغة والعروض واللغة والمثل، ص85، ط: دار الفكر)

نیز جامعہ کی ویب سائٹ پر یہ عنوان ملاحظہ فرمائیں:

نسیبہ اور نصیبہ میں سے کون سا درست ہے؟۔ اور ’’محمد نوریز‘‘ نام رکھنے کا حکم

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101156
تاریخ07-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں