
میں نے اپنی بیوی کو حقِ مہر کے طور پر ساڑھے تین تولے سونا دیا تھا۔ بعد ازاں میری والدہ نے میری بیوی سے مذکورہ سونا بطورِ قرض لیا اور وعدہ کیا کہ وہ یہ سونا واپس کر دیں گی۔ اس معاملے پر گواہ بھی موجود ہیں۔ پھر میری والدہ نے اسی سونے کو فروخت کرکے اس کی رقم سے ایک قطعۂ زمین خریدا اور اس زمین پر کچی تعمیر اور صحن بنایا۔
اب میری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
کیا میری بیوی کو اس زمین کا وہ حصہ ملے گا جو اس کے ساڑھے تین تولے سونے کو قرض لے کر خریدا گیا تھا، یا اسے صرف ساڑھے تین تولے سونا واپس کیا جائے گا؟
اگر میری بیوی کو ساڑھے تین تولے سونا واپس کیا جائے، تو کیا یہ سونا میری والدہ کے دیگر ورثاء، یعنی میرے بہن بھائیوں میں بھی تقسیم ہوگا، یا یہ مکمل طور پر میری بیوی کا حق ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائل کی والدہ نے سائل کی بیوی سے ساڑھے تین تولے سونا بطورِ قرض لیا تھا، اور اس پر گواہ بھی موجود ہیں، تو قرض لینے کے بعد مذکورہ سونا والدہ کی ملکیت میں آگیا تھا، اور انہیں اس میں تصرف کا حق حاصل تھا۔ لہٰذا انہوں نے اگر اس سونے کو فروخت کرکے اس کی رقم سے زمین خریدی، تو شرعاً وہ زمین والدہ ہی کی ملکیت شمار ہوگی، البتہ ساڑھے تین تولہ سونا ان کے ذمہ بطورِ قرض باقی ہے۔
لہٰذا سائل کی والدہ کے انتقال کے بعد پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں گے، اس کے بعد ان کے ذمہ واجب الادا قرض میں سے سائل کی بیوی کا ساڑھے تین تولے سونے کا حق ادا کیا جائے گا۔ یہ حق ساڑھے تین تولے سونا واپس کرکے یا اس کی موجودہ قیمت ادا کرکے ادا کیا جاسکتا ہے۔ پھر جو ترکہ باقی بچے گا وہ شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
اور ساڑھے تین تولے سونا چونکہ سائل کی بیوی کا قرض ہے، اس لیے یہ والدہ کے ترکہ کا حصہ نہیں ہے کہ دوسرے بہن بھائی اس میں میراث پائیں، بلکہ یہ مکمل طور پر سائل کی بیوی کا حق ہے۔ والدہ کے دیگر ورثاء کا اس ساڑھے تین تولے سونے میں کوئی حق نہیں ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(ويملك) المستقرض (القرض بنفس القبض عندهما) أي الإمام ومحمد خلافا للثاني فله رد المثل ولو قائما خلافا له بناء على انعقاده بلفظ القرض وفيه تصحيحان وينبغي اعتماد الانعقاد لإفادته الملك للحال بحر. (قوله بنفس القبض) أي قبل أن يستهلكه (قوله خلافا للثاني) حيث قال لا يملك المستقرض القرض ما دام قائما كما في المنح آخر الفصل اهـ ح (قوله فله رد المثل) أي لو استقرض كر بر مثلا وقبضه فله حبسه ورد مثله، وإن طلب المقرض رد العين، لأنه خرج عن ملك المقرض، وثبت له في ذمة المستقرض مثله لا عينه ولو قائما."
(باب المرابحة والتولية،فصل في القرض،ج:5،ص:164، ط:سعید)
سراجی میں ہے:
"تتعلق بترکة المیت حقوق أربعة مرتبة: الاول: یبدأ بتکفینه وتجھیزه من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونه من جمیع ما بقی من ماله".
(الحقوق المتقدمة بترکة المیت،ص:5،ط: البشریٰ)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101146
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن