نکاح پر رضامند ہونے کے بعد وکیلِ نکاح کے بارے میں علم نہ ہونے کی صورت میں انعقاد ِنکاح کا حکم
سوال
میرا نکاح تقریباً 5 سال پہلے ہوا۔ نکاح سے پہلے مجھے معلوم تھا کہ فلاں لڑکے کے ساتھ، فلاں مسجد میں، فلاں وقت میرا نکاح ہونا ہے اور میں نکاح پر رضامند بھی تھی۔ نکاح ہوا، میں نے نکاح نامے پر دستخط بھی کیے۔ نکاح کے بعد مجھے بتایا گیا کہ تمہارے وکیل تمہارے فلاں ماموں ہیں۔ نکاح سے پہلے مجھے وکیل کا نہیں پتا تھا اور نہ وکیل نے مجھ سے اجازت لی تھی۔ میرے والد اور میرے بھائی بھی نکاح کی مجلس میں موجود تھے۔ انہیں بھی پتا تھا کہ میں نکاح پر رضامند ہوں۔ میں نکاح کی مجلس میں نہیں تھی۔ تو اس صورت میں میرا نکاح شرعاً منعقد ہو گیا؟
جواب
واضح رہے کہ عقدِ نکاح میں اگر عاقدین رضامند ہوں تو وکیل کے بارے میں علم نہ ہونا انعقادِ نکاح پر مؤثر نہیں ہوتا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائلہ پہلے ہی اس نکاح پر رضامند تھی، اس لیے اس کا نکاح منعقد ہوگیا ہے۔
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"ولو كان عقد النكاح بين فضوليين خاطب أحدهما عن الرجل والآخر عن المرأة فبلغهما فأجازا جاز ذلك العقد؛ لأنه جرى بين اثنين ولو كانا وكيلين كان كلامهما عقدا تاما فكذلك إذا كانا فضوليين يكون كلامهما عقدا موقوفا."
(كتاب النكاح،باب الوكالة في النكاح،ج:5،ص: 19،ط:دار المعرفة)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وتثبت الإجازة لنكاح الفضولي بالقول والفعل، كذا في البحر الرائق رجل زوج رجلا امرأة بغير إذنه فبلغه الخبر فقال: نعم ما صنعت، أو بارك الله لنا فيها، أو قال: أحسنت، أو أصبت؛ كان إجازة، كذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار اختاره الشيخ أبو الليث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زوج رجل امرأة بغير إذنها فقالت: لم يعجبني ما فعل أو قالت: مراخوش نيا مداين كار لا يكون ردا حتى لو رضيت بعد ذلك ينفذ النكاح، كذا في الفصول العمادية قبول المهر إجازة."
(كتاب النكاح،الباب السادس في الوكالة بالنكاح وغيرها،ج:1،ص: 299،ط:دارالفكر)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

