
واٹس ایپ میں ریڈ رسیپٹس کے نام سے ایک آپشن ہوتا ہے، اگر کوئی شخص اسے بند کر دے تو جب اسے کسی کا پیغام یا واٹس ایپ میسج موصول ہوتا ہے اور وہ اسے دیکھ یا سن بھی لیتا ہے تو بھی بھیجنے والے کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ سامنے والے نے پیغام پڑھا یا وائس میسج سنا ہے یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر یہ آپشن اس مقصد سے بند رکھے کہ پیغام بھیجنے والے کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ اس نے اس کا پیغام پڑھا یا وائس میسج سنا ہے یا نہیں، تو شرعاً ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیا اس طرح کرنا کسی شرعی قباحت یا دھوکے میں داخل ہوگا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ایپلی کیشن پر موصول ہونے والے پیغام کو دیکھنے کے باوجود نیلے چیککا آپشن بند رکھنا اگرچہ پوری طرح دھوکے میں داخل نہیں ہے، لیکن ایسا کرنے کی وجہ سےپیغام بھیجنے والے کو کچھ نہ کچھ شبہ میں ضرور رکھا جاتا ہے اور بد گمانی کا بھی امکان ہے، لہٰذا ایسا کرنا مناسب نہیں ہے، مذکورہ آپشن کو کھلا رکھنا چاہیے۔
باقی اگر وصول شدہ پیغام میں سلام بھی کیا گیا ہو تو اس کا جواب دینا بہرحال واجب ہو گا، خواہ زبانی طور پر سلام کا جواب دے دیا جائے یا میسج کی صورت میں لکھ کر جواب دیا جائے، دونوں صورتوں میں واجب ادا ہو جائے گا، خواہ وہ سنے یا نہ سنے۔
فتاویٰ شامیمیں ہے:
"ويجب رد جواب كتاب التحية كرد السلام.
"(قوله: ويجب رد جواب كتاب التحية)؛ لأن الكتاب من الغائب بمنزلة الخطاب من الحاضر مجتبى. والناس عنه غافلون ط. أقول: المتبادر من هذا: أن المراد رد سلام الكتاب لا رد الكتاب، لكن في الجامع الصغير للسيوطي رد جواب الكتاب حق كرد السلام، قال شارحه المناوي: أي: إذا كتب لك رجل بالسلام في كتاب ووصل إليك وجب عليك الرد باللفظ أو بالمراسلة".
(کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع، جلد:6، صفحه:415، ط:سعید)
التوقيف على مهمات التعاريف لابن المناويمیں ہے:
" الخدع: إظهار خير يتوسل به إلى إبطان شر يؤول إليه أمر ذلك الخير المظهر، ذكره الحرالي. وقال غيره: الخداع إظهار ما يخالف الإضمار، ويراد التغرير، ومنه الأخدعان لاستتارهما تارة ظهورهما أخرى. وقال بعضهم: إنزال الغير عما هو بصدده بأمر يبديه على خلاف ما يخفيه."
(باب الخاء، فصل الدال، ص:152، ط: عالم الكتب)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101081
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن