
میں ایک گارمنٹس بائنگ ہاؤس چلاتا ہوں، میرے ماتحت کئی چھوٹے سب کنٹریکٹر کارخانے کام کرتے ہیں۔ میں انہیں کام دیتا ہوں، وہ اپنی جیب سے کپڑا اور مزدوری کا خرچ لگا کر مال تیار کر کے مجھے دیتے ہیں، اور رقم لاکھوں ٹاکہ میں ہوتی ہے۔ میں وہ مال آگے بائر کو بھیج دیتا ہوں اور دو تین ماہ میں پیمنٹ آ جاتی ہے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ پیمنٹ آتے ہی میں ان کارخانوں کا پیسہ ادا کر دوں، کیوں کہ سب سے زیادہ منافع تو میں ہی کماتا ہوں۔ لیکن پیسہ واپس دینے کے بجائے میں اسے اپنے کام میں لگا لیتا ہوں — زمین خرید لیتا ہوں یا اگلی شپمنٹ کا کپڑا کینا لیتا ہوں — اور اس سے مزید منافع کما لیتا ہوں۔ کارخانے والوں کو میں ٹال مٹول کرتا رہتا ہوں اور اپنی مرضی سے ان کا پیسہ لوٹاتا ہوں؛ کوئی آواز اٹھائے تو اس کا کام بند کر دیتا ہوں۔ میں اسے جائز سمجھتا ہوں کیوں کہ یہ میری کاروباری سمجھ بوجھ ہے۔ میرا تعلق دین دار گھرانے سے ہے اور میں ہر سال عمرہ بھی کرتا ہوں۔
۱۔ کیا میرا مذکورہ عمل درست ہے، جب کہ میں جانتا ہوں کہ اس سے کارخانے والوں کے پیسے کی ویلیو گر جاتی ہے اور وہ اس پیسے کو اپنے کام میں نہیں لا سکتے؟ ۲۔ کیا ایسا عمل کسی شخص یا کمپنی کے لیے جائز ہے؟ حشر کے میدان میں میری گرفت تو نہیں ہو گی؟
واضح رہے کہ کوئی کمپنی یا کوئی شخص کسی ٹھیکیدار سے کوئی کام لے اور ٹھیکیدار وہ کام مطلوبہ طریقے پر مکمل کر لے تو وہ مزدوری کا مستحق بن جاتا ہے؛ چنانچہ کوئی کمپنی یا شخص ٹھیکیدار کو کام مکمل کرنے کے بعد اگر بروقت ادائیگی نہیں کرے گی تو حقوق العباد میں کمی کوتاہی اور ظلم کی مرتکب ہو گی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تین آدمی ایسے ہیں کہ قیامت کے دن میں خود ان سے جھگڑوں گا: ایک وہ شخص جس نے میرے نام کی قسم کھائی پھر وہ قسم توڑ ڈالی، دوسرا وہ آدمی جس نے کسی آزاد کو پکڑ کر فروخت کر دیا پھر اس کی قیمت کھا گیا، تیسرا وہ آدمی جس نے کسی کو مزدوری پر لگایا اور اس سے پورا کام لیا مگر اس کو مزدوری نہ دی۔“ ایک اور موقع پر فرمایا: ”مزدور کو اس کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔“ اور ایک موقع پر فرمایا: ”مال دار آدمی کا ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔“
1۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا عمل قطعاً درست نہیں ہے، خصوصاً جب وہ یہ جانتا بھی ہے کہ اس سے کارخانے والوں کا نقصان ہوتا ہے؛ اور یہ صاحبِ حق کو تکلیف دینا ہے جو ظلم اور گناہِ کبیرہ ہے۔
2۔ ایسا عمل کسی شخص یا کمپنی کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے؛ قصداً جان بوجھ کر اس طرح کرنے سے حشر کے میدان میں گرفت ہو گی، اگر اس نے مرنے سے پہلے پہلے توبہ کے ساتھ ان کارخانے والوں سے معافی نہ مانگی ہو۔ حقوق العباد محض توبہ سے ساقط نہیں ہوتے، بلکہ صحتِ توبہ کے لیے صاحبِ حق کو اس کا حق پہنچانا ضروری ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا، وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا، وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ."
(سورۃ الانبیاء: 47)
ترجمہ:
”اور (ہاں) قیامت کے روز ہم میزانِ عدل قائم کریں گے (اور سب اعمال کا وزن کریں گے)، کسی پر اصلاً ظلم نہ ہو گا، اور اگر (کسی کا) عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو گا تو ہم اس کو (وہاں) حاضر کر دیں گے، اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔“
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قال الله تعالى: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حراً فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيراً فاستوفى منه ولم يعطه أجره». رواه البخاري."
(كتاب البيوع، باب الإجارة، الفصل الأول، ج:2، ص:899، ط: المكتب الإسلامي)
وفیہ ایضاً:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه». رواه ابن ماجه."
(كتاب البيوع، باب الإجارة، الفصل الأول، ج:2، ص:900، ط: المكتب الإسلامي،)
سنن الترمذی میں ہے:
"عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مطل الغني ظلم، وإذا أحلت على مليء فاتبعه، ولا تبع بيعتين في بيعة»."
(أبواب البيوع، باب ما جاء في مطل الغني أنه ظلم، ج:2، ص:578، ط: دار الغرب الإسلامي، )
صحیح البخاری میں ہے:
"عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إذا خلص المؤمنون من النار حبسوا بقنطرة بين الجنة والنار، فيتقاصون مظالم كانت بينهم في الدنيا، حتى إذا نقوا وهذبوا أذن لهم بدخول الجنة، فوالذي نفس محمد صلى الله عليه وسلم بيده، لأحدهم بمسكنه في الجنة أدل بمنزله كان في الدنيا»."
(كتاب المظالم، باب قصاص المظالم، ج:2، ص:861، ط: دار ابن كثير، دار اليمامة)
ترجمہ:
”حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مومنوں کو دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں ایک پل پر، جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہو گا، روک لیا جائے گا اور وہیں ان کے ان مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا جو وہ دنیا میں باہم کرتے تھے۔ پھر جب پاک صاف ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے بھی بہتر طور پر پہچانے گا۔“
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
"حقوق الآدميين وهي لا تسقط بالتوبة، ولا فرق بين المقتول والمسروق منه، والمغصوب منه والمقذوف وسائر حقوق الآدميين، فإن الإجماع منعقد على أنها لا تسقط بالتوبة، ولا بد من أدائها إليهم في صحة التوبة، فإن تعذر ذلك فلا بد من المطالبة يوم القيامة."
(سورة النساء، آية: 92، ج:2، ص:381، ط: دار طيبة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"لأن الملك من شأنه أن يتصرف فيه بوصف الاختصاص."
(كتاب البيوع، ج:4، ص:504، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100972
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن